گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ فار سلولرنرز ٹوبہ ٹیکسنگھ کا ھیڈماسٹر محمد نذیرنے فراعونیت کی حد پار کر گیا۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ (چیف رپورٹر پنجاب سید خلیل شاہ سے)ظریف شہزاد کو جو کہ سکول کا ملازم تھا۔ اور غریب مسیحی نوجوان اپنے بچوں کی روزی روٹی کماتاتھا۔ جسکو ھیڈماسٹر محمد نذیرنے نوکری سے بلاجواز بر بنائے بدنیتی اپنی ذاتی عناد مذہبی تعصب اور جعلی و فرضی بوگس کاغذات کا سہارا لیتے ہوئے ملازمت سے برخاست کردیا تھا۔جس کو بعدالت جناب محمد یار ولانہ صاحب پنجاب سروس ٹربیونل لاھور نے مورخہ 10/4/2018 کوملازمت پر دوبارہ بحال فرمائے ھوئے تنخواہوں کی فرہمی کا بھی حکم صادر فرما دیا ھے۔ظریف شہزاد بحالی ملازمت کا حکم عدالت ملتے ھی سکول گورنمنٹ انسٹیٹوٹ فار سلولرنرز ٹوبہ ٹیکسنگھ مورخہ 09/05/2018 بوقت 08:00صبح اپنی ڈیوٹی پر حاضری کےلئے گیا تو ھیڈماسٹر نے نازیبا الفاظ استعمال کرتے ھوئے یہ کہہ دیا کہ تم کس کے حکم سے ڈیوٹی پرآئے ھو؟ اسپر ظریف شہزاد کہا کہ جناب عدالت کے حکم کی روشنی میں سائل کو بحال فرمائیں۔ھیڈماسٹر نے عدالتی حکم کے بارے میں سخت اور غلیظ الفاظ استعمال کرتے ھوئے ہیں کہا کہ میں نے تمھاری جگہ پر اپنے اختیار کی بناء پر محمد ندیم رضا کو نوکری دے دی ھے تمہارے لیئے بہتر یہی ھوگا کہ اس ناکارہ قسم کے حکم عدالت کو لے جاوء۔ ظریف شہزاد رو رو کر دھائی دینے لگا کہ جناب محترم ھیڈماسٹر صاحب آپ یہ ظلم کیسے کر سکتے ھیں ۔؟
ایک تو میری اپیل عدالت میں ذیر سماعت تھی معاملہ عدالت میں تھا آپ نے بھرتی غلط کی ھے میرے ساتھ یہ ظلم مت کریں۔
ھیڈماسٹر نے دوسرے ملازمین کوزبانی حکم دیا کے اس کمینے کو اٹھا کر باھر پھینک دو۔ ملازمین دھکے دیتے رھے اور ھیڈماسٹر اور ملازمین نہائت ھی گندی گالیاں بکتے چلے گئے آخر کار مکاری سے کام لیتے ھوئے ھیڈماسٹر نے 15ریسکیو کو کال کر بلایا اور ظریف شہزاد پر جھوٹا مقدمہ انداراج کرنے کا کہا مگر ریسکیو پولیس کے جوانوں نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ھوئے ظریف شہزاد کو ھیڈماسٹر کے چونگل سے آذادی دلائ اور ھیڈماسٹر کے جھوٹے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
آج ظریف شہزاد کو انصاف کی ضرورت ھے۔ کون اس کو جھوٹے اور مکار ھیڈماسٹر سے نجات دلائے گا۔؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *