ڈوبا مرے نصیب کا تارا کہیں جسے

ڈوبا مرے نصیب کا تارا کہیں جسے
وہ حال دل ہوا ہے کہ ہارا کہیں جسے

جس کے حضور سر جھکا میرے حضور کا
ہوں خاک اس دیار کی یارا کہیں جسے

پوچھو نہ حال دل مرا تم اے ستم طراز
اس کی نگاہ ناز کا مارا کہیں جسے

چلتا ہوں مہرباں تو لگے راستہ طویل
تھک کے بیٹھ جاؤں تو ہارا کہیں جسے

مانا تو بے وفا سہی لیکن مرے حبیب
رکھ یوں وفا کا پاس گوارا کہیں جسے

خود جل بجھا کہ یار منور ہو راستہ
ٹوٹا سا اک دیا ہی خدارا کہیں جسے

اب کیا کہیں اس عالم ناپائیدار میں فری
ملتا نہیں ہے آنکھ کا تارا کہیں جسے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *