تازہ کلام آپکی بصارتوں کی نظر

حیاتِ فانی میں رنج و الم نہیں ہوتا
ہمارے دل میں اگر تیرا غم نہیں ہوتا

کوئی تو بات ہے اُس بےوفا کے لہجے میں
ہماری آنکھ کا کونہ یوں نم نہیں ہوتا

بچھڑتے وقت اگر مسکرا کے چل دیتے
جدائیوں کا تری اتنا غم نہیں ہوتا

یہ مہربانی ذرا دیکھ دوست عشق کی ہے
میرے رفیق تو یوں محترم نہیں ہوتا

ہزار بار قلم تھام کے کروں کوشش
ترے فراق کا صدمہ رقم نہیں ہوتا

کچھ اسطرح سے مری غمخواری کرتا ہے
کہ درد بڑھتا ہی جائے مدھم نہیں ہوتا

ہمارے دل پہ تری حکمرانی چلتی ہے جب
زمانے بھر کے خداوں میں دم نہیں ہوتا

جھکایا جب سے ترے آستاں پہ سر اپنا
پھر اِس کے بعد کسی در پہ خم نہیں ہوتا

چُرا کے بیٹھا ہے نظریں فری وثوق کیساتھ
اب اسطرح بھی مرے ہمقدم نہیں ہوتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *