درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 19

مجھے جنگل میں اکیلا چھوڑ کر گاؤں والے چلے گئے اور کہہ گئے کہ ضرورت پڑنے پر میں اگر حلق پھاڑ کر پکاروں گا تو وہ لاٹھیاں اور جلتی ہوئی مشعلیں لے کر فوراً حاضر ہو جائیں گے۔میں نے شیخی میں آکر کہہ دیا کہ شاید اس کی ضرورت نہ پڑے کہ میں چیتے کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔بچھڑے کی لاش اس درخت سے جس پر میں براجمان تھا۔ کوئی دس پندرہ گز دور پڑی تھی اور میں اپنی جگہ بے حس و حرکت لاش پر نظریں گاڑے بیٹھا تھا۔تھوڑی دیر بعد ہی میری آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہو گئیں اور گھبراہٹ کی وہ لہر جو بار بار میرے اندر سے اٹھ رہی تھی، دفعتہً غائب ہو گئی۔کچھ ایسا یقین میرے قلب کو ہو گیا تھا کہ میں چیتے کو ٹھکانے ضرور لگا دوں گا۔کوئی ایک گھنٹے بعد میں نے سامنے والی جھاڑیوں میں کھڑبڑ کی آواز سنی۔ میرے کان کھڑے ہوئے اور پھر میں نے چیتے کا سایہ جھاڑیوں کے اندر دیکھا۔ چیتا خود کو چھپانے میں شاید کامیاب ہو جاتا لیکن وہ اپنی ان زرد آنکھوں کو چھپانے میں بالکل ناکام تھا جو رات کے اس اندھیرے میں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں۔اسے وہم تھا کہ میں نے اسے نہیں دیکھا ہے۔تھوڑی دیر بعد وہ دبے پاؤں جھاڑیوں سے نکلا اور سیدھا اس درخت کی طرف آیا جس پر میں چھپا ہوا تھا۔ چیتے نے منہ اوپر اٹھا کر فضا میں کچھ سونگھا۔ پھر چپکے چپکے درخت کی پشت پر آن کر اس انداز سے تکنے لگا جیسے اوپر آنے کا ارادہ کررہا ہو۔ اپنی جی داری اور حوصلے کے باوجود میں پسینے سے تر ہو گیا۔ میں نے اپنی جگہ سے جنبش کی ،تاکہ چیتا اگر درخت پر چڑھے تو میں اسے گولی ماردوں،لیکن اتنی سی جنبش ہی قیامت ہو گئی۔ چیتے نے غرا کر ز قند بھری اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔میں مزید تین گھنٹے دم بخود درخت پر بیٹھا چیتے کی واپسی کا منتظر رہا۔ لیکن وہ نہ آیا۔بالآخر میرا حوصلہ جواب دے گیا اور میں نے گاؤں والوں کو آوازیں دینا شروع کیں۔تھوڑی دیر بعد وہ لوگ آئے اور مجھے درخت سے اتار کر اپنے ساتھ لے گئے۔میرے جاتے ہی چیتا وہاں آیا اور بچھڑے کی لاش سے کام ودہن کی لذت کے بعد وہ اپنی کمین گاہ کی طرف لوٹ گیا۔ اس کے بعد میں نے مسلسل کئی دن اس چیتے کا تعاقب کیا، مگر وہ اتنا چالاک نکلا کہ میرے ہتھے نہ چڑھ سکا۔دوسری طرف لودھی دھانہ کے نمبردار صاحب اپنی بندوق کے فراق میں بے چین تھے اور مجھے بھائی جان۔۔۔کے واپس آجانے کا ڈر بھی تھا اس لیے اس چیتے کو مارنے کا ارمان دل میں لیے میں واپس اپنے علاقے میں چلا گیا۔وقت گزرتا گیا اور جنگلی جانوروں کے بارے میں میری معلومات بڑھتی چلی گئیں۔سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہوئی کہ بھائی صاحب نے مجھے باضابطہ شکاری تسلیم کرلیا تھا اور کھلی اجازت دے دی تھی کہ میں جس طرح چاہوں شکار سے جی بہلاؤں۔اس سال یعنی1919ء کا ذکر ہے،جون کا مہینہ تھا اور قیامت کی گرمی پڑ رہی تھی۔ میں چرٹپالہ گاؤں گیا ہوا تھا اور دن بھر کی مصروفیات کے بعد گھر کے صحن میں لیٹا بے خبر سو رہا تھا کہ چند مقامی باشندوں نے مجھے جگایا۔ میں ہڑ بڑا کر اٹھا، دیکھا کہ یہ گونڈ لوگ ہیں اور ہر شخص کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔میں نے پوچھا:
’’خیر تو ہے؟‘‘
انہوں نے بتایا کہ ایک آدم خور چیتابنو خان کے مکان میں واردات کی نیت سے داخل ہوا۔مگر گھر والوں کو پتا چل گیا، انہوں نے کمال جرات سے کام لے کر چیتے کو مکان کے اندر قید کر دیا ہے اور اب یہ لوگ کریم پٹیل کو بلانے آئے ہیں،تاکہ وہ اپنی بندوق لے کر چلے اور اس چیتے کو ٹھکانے لگا دے۔ میں جس مکان میں ٹھہرا ہوا تھا وہ کریم پٹیل کا تھا۔ کریم عمر میں بڑا ہونے کے باوجود میرا بہترین دوست تھا۔ میں نے گاؤں والوں کو بتایا کہ کریم پٹیل اس وقت موجود نہیں ہے اور کسی کام سے ہروا گاؤں گیا ہے۔یہ سن کر وہ مصر ہوئے کہ میں چلوں اور اس آدم خور چیتے کو مار ڈالوں۔۔۔میں نے ان سے کہا کہ میں بالکل تیار ہوں۔گاؤں والوں نے کریم پٹیل کی بیوی سے بندوق مانگی۔سب لوگ اسے بیگم بیگم کہتے تھے۔جب بیگم نے سنا کہ بندوق میرے لئے مانگی جارہی ہے اور میں آدم خور چیتے کو مارنے کا ارادہ ر کھتا ہوں،تو وہ سخت ناراض ہو کر بولیں:’’کیا یہ لونڈا جمشید اس آدم خور چیتے کو مارے گا جس نے ابھی چند دن پہلے ہمارے ایک نوکر کو ہڑپ کیا؟اس کے علاوہ وہ نہ جانے کتنے آدمیوں کو کھا چکا ہے۔جمشید کل کا بچہ اور ناتجربہ کار ہے۔میں اسے بندوق دے کر موت کے منہ میں بھیجنا نہیں چاہتی۔اگر خدانخواستہ وہ چیتے کا نوالہ بن گیا،تو میں اپنے شوہر اور جمشید کے بھائی مرتضیٰ کو کیا جواب دوں گی؟‘‘غرض بیگم نے بندوق دینے سے صاف انکار کر دیا۔ ادھرگاؤں والوں کا اصرار تھا کہ آدم خور چیتا اس وقت بنو خان کے مکان میں زیر حراست ہے اور یہ اسے ہلاک کرنے کا بہترین موقع ہے،اگر یہ موقع ضائع کر دیا گیا تو چیتا آئندہ نہ جانے کتنے افراد کو ہڑپ کر جائے گا۔بصدمت سماجت بیگم اس پر راضی ہوئیں کہ اگر گاؤں کے تین ذمے دار شخص بندوق مانگیں ،تب جمشید کو بندوق دی جا سکتی ہے اور یہ تینوں آدمی سب کے سامنے اس بات کا اقرار کریں کہ اگر جمشید مارا گیا، تو یہی لوگ جواب دہ ہوں گے،چنانچہ تین ذمے دار آدمیوں نے ضمانت دی اور بیگم نے بارہ بور بندوق دو کارتوسوں سمیت میرے حوالے کی۔میں بھاگم بھاگ بنوں خان کے مکان پر پہنچا،دیکھا کہ لوگوں کا ایک ہجوم ہے۔جب انہوں نے مجھے دیکھا اور انہیں بتایا کہ یہی’’بچہ‘‘ آدم خور چیتے کو مارنے آیا ہے تو مایوسی سے ان کے چہرے لٹک گئے۔وہ میری نو عمری پر نظر کرتے اور کبھی اس بندوق کو دیکھتے جو میرے ہاتھ میں تھی۔بعض نے دبی زبان سے مجھے منع بھی کیا اور بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ اس لونڈے کی قضا اسے یہاں کھینچ لائی ہے۔کئی ایسے بھی تھے جو منہ پھیر پھر کر ہنس رہے تھے۔میں نے ان باتوں کی باللک پرواہ نہ کی اور مکان کی چھت پر چڑھ گیا۔ اوپر جاکر میں نے چھت کی اینٹیں اکھاڑیں اوراندر جھانکا۔ پہلے تو مجھے آدم خور چیتا کہیں نظر نہ آیا، لیکن جب غور سے دیکھا، تو معلوم ہوا کہ مکار درندہ لکڑی کے اس پلیٹ فارم کے نیچے چھپا ہوا ہے جو برتن وغیرہ رکھنے کے لیے کمرے میں بنایا گیا تھا۔ ظاہر ہے اس طرح میں چیتے کو گولی نہیں مار سکتا تھا اور چیتے کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ اتنی محفوظ جگہ س نکل کر خود کو ہلاکت میں ڈالتا؟میں نے اوپر سے تین چار اینٹیں اور پتھر کمرے میں پھینکے۔لیکن چیتا غرانے کے علاوہ ٹس سے مس نہ ہوا۔اب اس کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ میں مکان کے اندر جاؤں اور کمرے کا دروازہ کھول کر چیتے کو گولی مار دوں۔میرا یہ حوصلہ دیکھا تو وہی لوگ جو چند لمحے پہلے میرا مذاق اڑا رہے تھے، اب جی بڑھانے اور ہمت افزائی کرنے لگے۔میں نے ان سے کہا مہربانی کرکے مکان سے دور ہٹ جائیں۔اگر چیتا آزاد ہو گیا، تو ایک آدم کو اپنے ساتھ لے مرے گا۔ یہ سنتے ہی مجمع کائی کی طرح پھٹ گیا اور لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔میں نے دو بہادر گونڈ اپنے ساتھ لیے،ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے اور یہ لوگ پہلے بھی شیروں اور چیتوں سے جنگل میں مقابلہ کرچکے تھے۔بندوق میرے ہاتھ میں تھی، ہم نے مکان کا اندرونی دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئے۔اندر جانے کے بعد ہم نے یہ بیرونی دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ تاکہ چیتا کسی صورت میں باہر نہ جا سکے۔ اب ہمارے سامنے وہ کمرہ تھا جس میں آدم خور چیتا بند تھا۔ غالباً اب وہ پلیٹ فارم کے اندر ہی دبکا ہوا تھا۔ میں نے بندوق کا کندہ آہستہ سے کمرے کے بند دروازے پر مارا۔اندر سے آدم خور کے غرانے کی آواز بلند ہوئی۔میں نے سوچا لکڑی کے اس دروازے میں اتنا سوراغ کرلوں کہ اس میں سے چیتا نظر آجائے اور پھراسی سوراخ میں بندوق کی نالی رکھ کر فائر کردوں،لیکن مصیبت یہ تھی کہ کارتوس میرے پاس دو ہی تھے۔اگر یہ ضائع ہو گئے تو بیگم سے مزید کارتوس حاصل کرنا محال تھا۔ کہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ گھر میں دو ہی کارتوس باقی ہیں،اگر ان سے چیتے کو مار سکو تو مار لینا۔ چنانچہ میں نے دروازے میں سوراخ کرنے کا ارادہ ترک کردیا اور ایک گونڈ کو حکم دیا کہ بڑھ کر دروازہ چوپٹ کھول دے۔(جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *