مشاعرہ

ہائے وہ لوگ ہمیں جان سے پیارے ہونگے
جو تمھارے نہ ہوئے خاک ہمارے ہونگے
ان گستاخ نگاہوں کا گلہ کیا صاحب
ہم سے مت پوچھئیے نہ زخم ادھارے ہونگے
ہائے کس زعم میں گم پھرتے ہیں یارانِ وفا
ہم جو ہارے ہیں تو کچھ سوچ کے ہارے ہونگے
ہم محبت کے نہیں عشق کے قائل ہیں سدا
عشق کامل میں بھلے لاکھ خسارے ہونگے
غمِ ہجراں میں ترے سن مرے پیارے مرشد
اس مجاور نے کئی قرض اتارے ہونگے
یہ تری مرضی کہ تو جی لے مرے اندر اب
اور مر جائے اگر درد کے دھارے ہونگے
ہم تو سن جان بھی دے دیں گے اسی کی خاطر
جس کی نظروں میں سبھی جرم ہمارے ہونگے
یہ مرا دل بھی فری انکی گذر گاہ نہ ہو
آج اس پار ہیں کل اور کنارے ہونگے

شاعرہ فریدہ شاہین فری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *