خراج تحسین !

خراج تحسین !

—مختصر تعارف
و سوانحی خاکہ —

زیب انساء زیبی —–

سابق افسرِ ِ اطلاعات محکمہ ِ اطلاعات حکومت سندھ

شاعرہ افسانہ نگار کالم نویس محقق و مترجم ناولسٹ ماہر تعلیم زیب انساء زیبی 3 جولائ 1958 کو کراچی میں پیدا ہوئیں والدین کا تعلق دہلی سے ہے میٹرک 1971 میں گورنمنٹ اسکول
نشتر روڈ کراچی سے کیا بی ایس سی اور بی اے شادی کے بعد مکمل کیا ایم اے سیاسیات اور ایم اے صحافت کراچی یونیورسٹی سے کیا جرنلزم ڈپلوما پی پی آئ نیوز ایجنسی سے کیا سندھی لنگویج. ڈپلوما .مونٹیسوری انٹر نیشنل ڈپلوما. ٹائپنگ .شورٹ ہینڈ اکا ونٹنسی .گرافک ڈئزائنگ. مو نٹیسوری کے تین ڈپلوما و سرٹفیکیشن کورس .
انگلش لنگویج کورسز وغیرہ مختلف فلیڈ میں کیے
موجودہ اعزازی مصروفیات ——
ماسٹر لیول کی کلاسز
ماس کمیونیکیش
.پو لیٹیکل سائنس
.انگلش لنگویج .
سی ایس ایس. پی سی ایس کی رہنمائ کلاسز .
PHD اور تحقیق کے طلبہ کی رہنمائ
لیکچرز
.فری لانس جرنلسٹ
.شوہر محمد اقبال سابق گورنمنٹ افیسر
دو بیٹاں عنبرین افشاں نفیس اور سحرین درخشاں ہمایوں (شادی شدہ) پروگرامر اور نیٹ ورکنگ انجینیر
ایک بیٹی کینیڈا میں ایک پاکستان میں چار نواسے تحشم آزمیر (11سال ) ارحم علمیر (سال 9)
عائرہ ولین( 5سال )
تانس خان (10) کینیڈا شاحق خان (10سال )دونو twince ہیں
عائزہ عالین خان (12سال )کینیڈا
زیب انساء زیبی کی تین بہنیں اور 4 بھائ ہیں
والد اقبال بیگ مکینینکل انجینیر
والدہ زہرہ خاتون
e mail zaibunnisazaibyzaiby@yahoo.com
face book id zaibunnisazaiby zaiby wtS up 03002166084
زیب انساء زیبی کا ادبی تعارف ——-

آپ 60 سے زائد ادبی کتب اور 25 نصابی کتب کی مصنفہ ہیں

آپ نے 70 سے ذائد نظم کی شعری اصناف پہ دنیاےِ ادب کی پہلی کلیات “سخن تمام ” کے نام تخلیق کی ہے اس کلیات میں نہ صرف انہوں نے نظم کی 70 اصناف پہ شاعری کی ہے بلکہ ان اصناف کی تیکنیک بھی “علم ِ سخن ” کے نام سے تحریر کی ہیں اس کلیات میں ان کے نظموں کے 23 شعری مجموعے مختلف شعری اصناف پہ شامل ہیں
اس کلیات سے پاکستان کی تمام یونیورسٹی کےPHD کے طلبہ و طلبات اور دنیا بھر کے محقق استفادہ کر رہے ہیں
ان کی دوسری کلیات “کار دوام ” کے نام سے منظر عام پہ آئ ہے جسمیں ان کے 21 غزلیات کے مجموعے شامل ہے

زیب انساء زیبی نے اردو ادب میں ا یک نئی شعری صنف “سوالنے ” کے نام سے بھی ایجاد کی ہے
یہ ایک سہ مصرعی نظم ہے جس کے ہر مصرعے میں ایک سوال ہوتا ہے اور جواب بھی بین السطور ہی مل جاتا ہے یہ تما م بحور اور اوزان میں لکھی جاتی ہے
سوالنے کی مثال

“سوالنے”
مجھے کیوں کرب میں زنجیر کرنا چاہتا ہے
/ رلاتا رہتا ہے دن رات وہ آخر مجھے کیوں /
وہ زیبی سے مجھے کیا میر کرنا چاہتا ہے /

مثال نمبر2

وحشت کہاں سے لائ روانی یہ آنکھ میں

/ کتنے سمندروں کا ہے پانی یہ آنکھ میں
/
/ کیا کیا نہیں ہے ظلم زمانی یہ آنکھ میں

زیب انساء زیبی نے شعری صنف ” تروینی” جو انڈیا کے گلزار صاحب نے ایجاد کی تھی اس پہ بھی عالمی سطح پہ شاعرات میں 1000 تروینی پہ مشتمل اولین مجموعہ ” تیرا انتطار ہے تخلیق کیا

تخلص کا جو نشان آج تک بے نام تھا اس کو “مخلص “کا نام دے کر اردو ادب کی ڈکشنری میں ایک نشان کا اضافہ کیا

ذیب انساء زیبی نے بحثیت افسانہ گار سات افسانو ں کے مجمعوعے
“شہ رگ پہ خنجر “
” پیاری آپی “
” ڈبل ہیروئین “
” وہ پھول تھی یا بھول “
” ادھوری عورت “
” دیس پردیس ہوا ” “جھوٹی کہیں کی “
ہیں
ان کے سات ناولٹ ہیں جن میں
” جہنم کے فرشتے “
“سیر ِ عدم کی آرزو “
“طوفان اور سوکھے پتے “
” دلدل”
” خاموش جنازے “
“شہزادے کا انتطار”
” کالی زبان “

ان کا ایک 200 صفحات کا مکمل ناول
” میں آدھی گواہی ” خاصا مقبول ہوا

ان کی تحقیق اور کالم کی کتاب ” تخیل کا سفر ” بھی شایع ہو چکی ہے تحقیق و تنقید ادبی مضامین کالم اور نثر کی کلیات ” متاع ِ زیست ” زیر طبع ہے

زیب انساء زیبی نے
اسکول کے زمانے سے شعر کہنے شروع کیے تقربیا” 45 سال قبل
ساحر لدھیانوی سے متاثر ہو کر لکھنے کا آغاز کیا والد کے پاس کتب کا دنیا بھر کا خزانہ تھا اس سے خوب استفادہ کیا والد نے ہر قدم پہ بہت ہمت بڑ ھائ اور علمی و فکری رہنمائ کی
.آپ کی والدہ اسکول کے زمانے سے ہی آپ کو مشاعروں میں لے کر جاتی تھیں

ابتدا میں شرف خور جوئ . مقرب حسین دہلوی اور رہیس امروہی کو کلام دکھایا پھر اپنے سئینرز سے وقتا”فوقتا” مشاورت کی اور کسب ِ علم کیاجن میں راغب صاحب آفاق صدیقی ذکی عثمانی
صاحب شامل ہیں
محسن اعظم محسن ملیح آبادی نے ان کی دونو ں کلیات کا بغور تکنیکی جائزہ لیا پھر وہ شایع کی گیں

زیبی شاعری کے بارے میں کہتی ہیں کہ یہ کو ئ ایسی اعلی اور برتر چیز نہیں جس کی وجہ سے احساس ِ برتری میں مبتلا ہو کر خود پہ گھمنڈ غرور اور بے جا فخر کیا جاے
یہ ایک خدا داد صلاحیت ہے جسمیں آپ کی اپنی کاویشوں کا اتنا دخل نہیں ہوتا کہ خود کو بہت اعلی و بالا مخلوق سمجھ کر دوسروں سے خود کو منفرد اور یکتا سمجھ لیا جاے اچھا خیال و فکر ذہن میں آنا اللہ کی عنایت ہے ہاں محنت لگن مطالعہ مشاہدہ اور تجر باتِ زندگی سے مستفیض ہونا شاعر پہ منحصر ہے یوں تو تمام ہی فنون محنت طلب ہیں مگر نثر نگاری بھی ایک مشکل فن ہے

وہ کہتی ہیں شعر کہنے کے لیے کسی سے محبت کرنا ضروری نہیں ہاں واردات ِ قلبی ذہن و دل پہ اثر انداز ہوتی ہے شعر کا حقیقی زندگی سے قریب تر ہونا ہی اس کا خوب صورت ہونا ہے شاعری کو عصر ِ حاضر سے جڑا ہونا چاہیے ابلاغ ہونا شعر کی خوبی ہے یوں تو بےشمار اچھے شعرا ہیں لیکن ان کو وسائل اور قسمت کی یاوری میسر نہیں
غالب اقبال ادب کا فخر ہیں جبک دیگر شعرا کا بھی اپنا مرتبہ اور مقام اپنی جگہ ہے
وہ کہتی ہیں طنز و مزاح کہنا آسان کام نہیں
بے شمار تلخی اپنے اندر اتار کر اپنے آنسو
پی کی دوسروں کو ہنسانا پڑتا ہے زیبی کی دو شعری مجمعوعے طنز و مزاح پہ آچکے ہیں وہ نثر میں بھی مزاح لکھتی ہیں
کسی خاص ادبی گروہ سے وا
عہد حاضر کی معروف شاعرہ نہائت قابل قدر محترمہ Zaibunnisazaibyzai Zaiby صاحبہ کی بے پناہ محبت و شفقت کا اپنے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں
اور ادب کے لئے بیش بہا خدمات پر خراج تحسین بھی پیش کرتا ہوں۔

دعا گو ہوں کہ اللہ پاک آپکو صحت،تندرستی عطاء فرماوے اور زور قلم کو مزید تقویت بخشے۔

آمین

اجمل ہارون
ٹوبہ ٹیک سنگھ (پنجاب )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *