درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 17

گونڈ قلیوں نے صاحب بہادر کو مشورہ دیا کہ آپ بے خوف ہو کر درخت کے قریب جائیے ا ور چیتے پر فائر کرکے اسے گرا دیجیے۔جنگلی کتے اوّل تو آپ کی صورت دیکھتے ہی بھاگ جائیں گے اور اگر وہ نہ بھاگے، تو ان کی طرف بھی ایک فائر جھونک دیجیے گا وہ فرار ہو جائیں گے۔مشورہ بہت مناسب تھا، مگر صاحب بہادر اس پرعمل کرتے ہوئے ہچکچارہے تھے۔ان کا خیال تھا کہ جنگلی کتے تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور عین ممکن ہے وہ بھاگنے کی بجائے پلٹ کر ہم ہی پر حملہ کر دیں اور یوں چیتے کو مارنے کی بجائے ہم لوگ خودان جنگلی کتوں کے خونخوار جبڑوں اور نوکیلے پنجوں کا شکار بن جائیں۔دراصل صاحب بہادر پر چیتے سے زیادہ ان جنگلی کتوں کی ہیبت طاری تھی۔ بلاشبہ یہ ہیبت اپنی جگہ صحیح تھی۔ جنگلی کتا چیز ہی ایسی ہے کہ اس سے بڑے بڑے شکاری خشک تنکے کی طرح لرزتے کانپتے دیکھے گئے ہیں۔جیسا کہغ میں پہلے عرض کر چکا ہوں۔اس مخلوق کے ہتھے چڑھنے کے بعد جنگل کا بادشاہ ہو یا اس کا نائب چیتا، جنگلی بھینسا ہو یا بارہ سنگھا، جان بچا لینا امرِمحال ہے۔پلک جھپکتے میں بڑے سے بڑے جانور کو تکابوٹی کر ڈالنا جنگلی کتوں کا ادنیٰ سا کرتب ہے۔اس میں بھی شک نہیں کہ جنگلی کتے فطری طور پر انسان سے خوفزدہ رہتے ہیں اور حتیٰ الامکان انسان کا سامننا نہیں کرتے، لیکن جب انہیں فرار کا موقع نہ ملے، تو بے جگری کا ثبوت بھی دیتے ہیں اور میدان کا رزار سے بھاگنے کے بجائے ایک ایک کرکے مر جانا ہی بہتر جانتے ہیں۔جنگلی کتے کا حلیہ بجائے خود نہایت خوف ناک ہے۔جلد کا رنگ گہرا سرخ ،کانوں کے سرے دم اور منہ اندھیری رات کی طرح کالا۔۔۔دم اور کانوں پر گھنے اور سخت بالوں کے گچھے، اس کا قد عام شہری کتے کے برابر،یعنی ناک سے دم تک کوئی ساڑھے تین چار فٹ لمبا، سوا فٹ سے پونے دو فٹ تک اونچا اور وزن پچاس ساٹھ پونڈ کے لگ بھگ ہوتا ہے۔دانت اور پنجے وہ زبردست ہتھیار ہیں جو قدرت نے جنگلی کتے کو اپنے بچاؤ اور حملے کے لیے عطا کیے ہیں۔دونوں ریزربلیڈ کی مانند تیز ہوتے ہیں جن کے ذریعے یہ آناً فاناً اپنے شکار کو چیر پھاڑ کر برابر کر ڈالتا ہے۔ان کی عادت یہ ہے کہ چالیس پچاس کے گروہ میں جنگل کے گرد گھومتے ہیں۔ان کو دیکھ کر درندے بھی راستہ بدل لیتے ہیں اور اگر بدقسمتی سے کوئی جانور ان میں گھر جائے، تو زندہ نہیں بچ سکتا۔ بعض اوقات انسان کو بھی گھیر کر اپنا کھا جا بنا لیتے ہیں اور کینہ پرور ایسے کہ کوسوں میل اپنے شکار کا تعاقب کرتے ہیں۔اگر وہ کسی چٹان، کھوہ یا کسی درخت پر پناہ لے لے،تو ہفتوں تک گھیراؤ جاری رکھتے ہیں،یہاں تک کہ وہ خودکو ان کے خون آشام جبڑوں کے حوالے کر دیتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ شکار کے گھیراؤ کے دوران میں جنگلی کتے بار باری خوراک اور پانی کی تلاش میں جاتے ہیں اور اپنی ضرورت کو پورا کرکے دوبارہ ’’ڈیوٹی‘‘ پر حاضر ہو جاتے ہیں۔دوسری حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ آپس میں کبھی نہیں لڑتے اور نہ آج تک انسان سے مانوس ہوئے ہیں۔آپ بڑے شوق سے شیر یا چیتا تو گھر میں پال سکتے ہیں،لیکن کتا نہیں پال سکتے۔غرض میں نے اور گونڈ قلیوں نے صاحب بہادر سے بہت کہا کہ آپ بے دھڑک چیتے پر فائر کریں۔جنگلی کتے خود ہی ڈر کر بھاگ جائیں گے،لیکن صاحب بہادر پر واقعی چیتے سے زیادہ کتوں کی دہشت طاری تھی، اور وہ خوف زدہ نظروں سے کتوں کو چلتے پھرتے دیکھ رہے تھے۔مجھے بار بار ان کی ہچکچاہٹ اور فائر کرنے میں تامل پر طیش آرہاتھا۔ بس نہ چلتات ھا، ورنہ میں بندوق صاحب بہادر کے ساتھ سے چھین کر خود فائر کرتا۔ آخر میں نے دبی زبان سے کہہ ہی دیا کہ ا گر آپ کتوں سے ڈررہے ہیں تو آئی واپس چلیں۔۔۔یہ سن کر صاحب بہادر نے جھرجھری لی اور چیتے پر گولی چلانے کے لیے آمادہ ہوئے۔ چیتا اب اپنی پہلی جگہ چھوڑ کر کچھ اور سامنے آگیا تھا۔ غالباً وہ اپنی دانست میں کتوں کا گھیرا توڑ کر نکل بھاگنے کی فکر میں تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ درخت سے کودے، ہمارے صاحب بہادر نے دانت بھینچ اور آنکھ میچ کر گولی چلا ہی دی۔ چیتا کودنے کے لیے بالکل موشن میں تھا کہ گولی دھائیں سے چلی اور چیتے کے پیٹ میں لگی۔ ایک لرزہ خیز گرج کے ساتھ چیتا قلا بازیاں کھاتا ہوا بھد سے زمین پر گرا۔ چیتے کے گرتے ہی کتوں نے جھپٹ کر اسے نوچنا چاہا۔ مگر صاحب بہادر نے فوراً ہی دوسرا فائر کیا اور اس مرتبہ ایک کتا خون میں نہا گیا۔اپنے ساتھی کو تڑپتے دیکھ کر کتوں نے بھاگ جانے ہی میں عافیت سمجھی اور بجلی کی طرح وہاں سے رفو چکر ہو گئے۔جنوری1919ء میں مجھے ضلع ہوشنگ آباد ہی کے ایک قصبے لودھی دھانہ میں جانا پڑا۔ جہاں لکڑی چیر نے ایک کارخانہ میری نگرانی میں دیا گیا۔ یہ قصبہ جنگل کے عین مرکز میں تھا اور جنگل کے ایک سرے پر اونچی سی پہاڑی تھی جو گاؤں سے کوئی آدھ میل دور ہو گی۔ لکڑی چیر نے کا یہ کارخانہ اسی پہاڑی ڈھلان پر بنا ہوا تھا اور اس کے بالکل نزدیک ایک چھوٹی سی ندی بہتی تھی جہاں گرمیوں کے موسم میں جنگل کے دور دراز حصوں سے طرح طرح کے جانور آکر پیاس بجھاتے تھے۔ میرے یہاں پہنچنے کے کچھ عرصے بعد ہی بڑے بھائی امیر مرتضیٰ صاحب بھی آگئے۔ ان دنوں مرتضیٰ صاحب کے پاس بارہ بور کی بندوق تھی، مگر میرا حال یہ تھا کہ بندوق کی مددکے بغیر ہی شکار کا شوق مختلف تدبیروں پر عمل کرکے پورا کر لیا کرتا تھا۔ یعنی تیر کمان اور غلیل سے کام چلاتا یا جال ڈال کر پرندوں کو پکڑا کرتا۔ مقامی باشندے بھی اس مشغلے میں شریک رہتے۔ہمارا اولین کام جنگلی موروں کو گرفتار کرنا تھا۔ جنگل کے ایسے حصے میں جہاں وزنی مور کثرت سے تھے، ہم چار پانچ آدمی مختلف مقامات پر جھاڑیوں کے اندر چھپ جاتے اور موروں کو ادھر سے ادھر بھگانا شروع کر دیتے۔ مور اپنے وزن کے باوجود دوڑ تو سکتے تھے، لیکن اڑنے کے قابل نہ تھے،چنانچہ جب یہ ادھر سے ادھر دوڑ دوڑ کر بے جان ہو جاتے، تو ہم آسانی سے انہیں گرفتار کرلیا کرتے تھے۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ ہوا ذرا تیز ہوتی تو یہی وزنی مور اڑ کر ہمارے ہاتھ سے نکل جاتے اور ہم اپنی محنت پر کف افسوس ملتے ہوئے واپس چلے آتے۔مور کے مقابلے میں مورنیاں چونکہ ہلکی ہوتی ہیں اس لیے وہ ہمارے ہاتھ نہیں آتی تھیں۔ایک دن میں نے عجب تماشا دیکھا کہ ایک جھاڑی کے اوپر بڑا سا عقاب بیٹھا ہے۔حیرت ہوئی کہ عقاب تو آسمان کی بلندیوں پر اڑنے والا پرندہ ہے یہاں جھاڑی پر بیٹھنے سے کیا مطلب؟ مگر بہت جلد اس کی وجہ سمجھ میں آگئی۔ غور سے دیکھا تو پتا چلا کہ جھاڑی کے اندر ایک مور دبکا ہوا ہے اور عقاب چونکہ جھاڑی کے اندر جاکر موڑ کو پکڑنے سے معذور تھا،اس لیے باہر ہی ٹھہر کر مور کے جھاڑی سے باہر نکلنے کا انتظار کررہا تھا۔ تھوڑی دیر تک یہ منظر دیکھنے کے بعد میں اپنے کام سے روانہ ہو گیا۔خبر نہیں،عقاب مور کو پکڑنے میں کامیاب رہا یا مایوس ہو کر اڑ گیا!(جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *