اب ترے لہجے کی پہلی سی حلاوت کیا ہوئی

غزل
اب ترے لہجے کی پہلی سی حلاوت کیا ہوئی
جس سے ٹوٹا دل کسی کا وہ خطابت کیا ہوئی
ہر تعلق کی بھی اپنی اک الگ پہچان ہے
سوچتے ہیں کہ زبردستی کی نسبت کیا ہوئی
خواب تو پھر خواب ہیں جو ٹوٹ جاتے ہیں مگر
تو سنا ہمدم تری نظر عنایت کیا ہوئی
لاکھ وہ سجدے کرئے مقبولیت کی بات ہے
نیتوں میں کھوٹ گر ہو پھر عبادت کیا ہوئی
اک تری صورت نظر میں باقی سب کچھ رائیگاں
وہ مری تجھ سے محبت وہ عقیدت کیا ہوئی
وقت کے آئینے پہ یہ گرد کیسے جم گئی
کیا کہوں دلبر مرے جزبوں کی شدت کیا ہوئی
نام سن کر وہ فری خائف ہوا تیرا بہت
اس کے تیرے درمیاں پچھلی رفاقت کیا ہوئی

خوبصورت لب و لہجہ کی مالک مشہور و معروف شاعرہ
فریدہ شاہین فری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *