درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 16

گاؤں کے غریب لوگ تو ویسے ہی ہر حکم کے پابند ہوتے ہیں،پھر جب انہیں روپے پیسے کا لالچ بھی دیا جائے تو جان کو خطرے میں بھی ڈال دیتے ہیں۔یہاں تو حکم بھی انگریز بہادر کا تھا اور اس کے نادر شاہی حکم کے ساتھ ساتھ روپے کی تھیلیاں بھی تھیں،چنانچہ پچاس ساٹھ آدمیوں کو اکٹھا کرکے جنگل میں ہانکا کرایا گیا۔ یہ لوگ جب غل غپاڑہ مچاتے اور ڈھول کنستر پیٹتے ہوئے آگے بڑھے تو زخمی شیر بہت تلملایا اور اس نے ایسی دھمکی دی کہ سب کا پتا پانی ہو گیا۔انگریز شکاری تو پہلے ہی ایک اونچے مچان پر اطمینان سے بیٹھا تھا۔ ہانکا کرنے والے شیر سے ڈر کر ایسے بھاگے کہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔انہوں نے درختوں پر پناہ لی۔شیر اس قدر غیظ و غضب میں تھا کہ پناہ بخدا! اپنے پنجوں سے اس نے جھاڑیاں ادھیڑ ڈالیں،زمین کھرچی، پھر ان درختوں کی طرف منہ اٹھا اٹھا کر وحشیانہ انداز میں دھاڑا جن پر ہانکا کرنے والے چڑھے ہوئے تھے۔اس افراتفری میں لوگوں نے جب دیکھا کہ گاؤں کا ایک نوجوان لڑکا کریم ابھی تک درخت پر نہیں چڑھ سکا اور ایک جھاڑی کے عقب میں دبکا ہوا ہے تو ان کی خوف سے چیخیں نکل گئیں۔شیر ایک ہولناک گرج کے ساتھ کریم کی طرف لپکا۔وہ تو یوں کہیے کہ لڑکے کے ہوش و حواس برقرار رہے، ورنہ اس کے مارے جانے میں کوئی کسر باقی ہ رہ گئی تھی۔ اس نے شیر کو اپنی طرف آتے دیکھا تو قریبی درخت کی طرف دوڑا۔ یہ درخت زیادہ اونچا نہ تھا اور خدشہ تھا کہ شیر اگر پوری قوت سے جست لگائے، تو کریم کو پکڑ سکتا ہے،لیکن زخمی ہونے اور خون زیادہ بہہ جانے کے باعث ہر لمحہ شیر کی قوت میں کمی واقع ہو رہی تھی، اس لیے دو تین چار چھلانگیں لگانے کے باوجود کریم کو پکڑ نہیں پایا!حالانکہ کریم شیر کی پہنچ سے صرف تین فٹ کے فاصلے پر تھا۔ کریم نے خود کو درخت کی شاخ سے سانپ کی طرح لپٹا لیا تھا اور اس کے حلق سے گھٹی گھٹی چیخیں نکل رہی تھیں۔اب ہر لحظہ یہ خدشہ تھا کہ وہ اگر اسی طرح ڈرتا رہا تو درخت سے گر پڑے گا۔ شیر بار بار پلٹ کر اس درخت پر آتا اور دانت نکال کر غراتا۔ پھرپنجوں سے درختوں کا تنا ادھیڑ نے لگتا۔انگریز شکاری کی بدحواسی دیکھئے کہ ٹکر ٹکر یہ تماشا دیکھ رہا ہے اور فائر نہیں کرتا۔غالباً شیر کا یہ جاہ و جلال دیکھ کر اس کے اعصاب بھی مچان پر بیٹھے بیٹھے جواب دے گئے تھے۔ اس لمحے مجھ پر یہ حسرت طاری ہوئی کہ کاش میرے پاس اس وقت بندوق ہوتی، تو شیر کا قصہ پاک کر دینا کچھ دشوار نہ تھا۔ بھاگتے وقت کریم کے جوتے اور پگڑی جھاڑیوں ہی کے پاس رہ گئی تھی۔ شیر کا غصہ اتنا بڑھا کہ اس نے ان جوتوں اور پگڑی کو تار تار کر دیا۔ کریم کا حال یہ ہوا کہ دہشت سے اس کا پیشاب بھی خطا ہو گیا۔۔۔وہ تھر تھر کانپ رہا تھا۔ اب ہر وقت یہ خطرہ تھا کہ اگر شیر کو ہاں سے ہٹایا نہ گیا، تو کریم لازماً درخت سے گرے گا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اس درخت سے کوئی دس گز کے فاصلے پر کریم کا باپ امیر خان ایک دوسرے درخت پر پناہ لیے ہوئے تھا اور اپنے بیٹے کو موت کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس نے کئی چلا چلا کر انگریز شکاری سے کہا:’’صاحب بہادر، فائر کیجئے، بندوق چلائیے۔‘‘لیکن صاحب بہادر جیسے تھے ویسے ہی بے حس و حرکت بیٹھے رہے۔صاحب بہادر کی جانب سے مایوس ہو کر امیر خان نے ایک عجب تدبیر کی اس نے جھٹ سے اپنی پگڑی سر سے اتاری اور شیر کو للکار کر اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے یہ پگڑی زمین پر گرا دی۔ شیر مشتعل ہو کر پگڑی کی طرف جھپٹا اور اسے نوچنا شروع کر دیا۔ پگڑی پھینکنے سے امیر خان کے دو مقاصد تھے۔ایک یہ کہ شیر کا دھیان کریم سے ہٹ کر پگڑی کی طرف منتقل ہو جائے اور دوسرا یہ کہ اس دوران میں شکاری شیر کو اپنی گولی کا نشانہ بنا سکے۔امیر خان کا ایک مقصد تو پورا ہو چکا تھا،مگر دوسرا نہیں ہو رہا تھا!حالانکہ شیر اب شکاری کے مچان کے بالکل سامنے اور بہت قریب آن کر پگڑی کو نوچ رہا تھا۔ گونڈ شکاریوں نے بھی چیخ چیخ کر انگریز کو خبردار کیا کہ فائر کرو۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ شکاری کو ہوش آیا اور اس نے بندوق کندھے سے لگا کر شیر کا نشانہ لیا اور گھوڑا دبا دیا۔ گولی چلنے سے چند سکینڈ پہلے شیر نے شکاری کو مچان پر بیٹھے دیکھا اور دھاڑتا ہوا ادھر گیا۔ عین اس وقت شکاری کی بندوق نے شعلہ اگلا اور گولی شیر کی گردن میں لگی۔ شیر الٹ کر گرا اور تھوڑی دیر تڑپنے کے بعد ٹھنڈا ہو گیا۔شیر کے مرتے ہی سبھوں نے اطمینان کا سانس لیا جو درختوں کی شاخوں میں چھپے ہوئے کانپ رہے تھے۔یادرہے کہ اگر یہ زخمی شیر اس وقت مارا نہ جاتا، تو ہانکا کرنے والوں اور شکاری سب کو رات بھر انہیں درختوں پر لٹکے رہنا پڑتا ا ور کوئی نیچے اتر کر اپنے گھر تک جانے نہ پاتا۔یہ ایسا واقعہ ہے جو میں کبھی بھول نہیں سکا اور اگر چہ بعد میں بہت سے مواقع ایسے آئے جن میں زخمی درندے کے غیظ و غضب اوراشتعال کا سامنا کرنا پڑا اندازہ ہو گیا کہ اعصاب اگر مضبوط ہوں تبھی انسان اپنے ہوش و حواس برقرار رکھ سکتا ہے اور اعصاب کو پر سکون رکھنا بے حد مشکل کام ہے۔اس دلچسپ شکار کے چند روز بعد ہی دوسرا واقعہ پیش آیا۔ میں اپنے مکان پر موجود تھا کہ جنگل کی طرف سے چند قلی ہانپتے آئے اور انہوں نے بتایا کہ قریب ہی ایک درخت پر چیتا پناہ لیے ہوئے ہے اور جنگلی کتوں نے اس کا گھیراؤ کررکھا ہے۔میں نے قلیوں سے کہا کہ اب تک تو چیتا اور جنگلی کتے وہاں سے کئی کوس دور جا چکے ہوں گے۔یہ سن کر قلی کہنے لگے:’’نہیں،آپ ان جنگلی کتوں کی حرکتوں سے واقف نہیں ہیں۔یہ اگر شیر یا چیتے کو گھیر لیں،تو ہفتوں ان کا گھیراؤ جاری رکھتے ہیں اور شکار کو نکل بھاگنے کی مہلت نہیں دیتے۔روز بروز اپنا گھیراؤ تنگ کرتے جاتے ہیں۔حتیٰ کہ ان کے قابو چڑھنے والا جانور بھوک اور پیاس سے تنگ آکر گھیرا توڑنے کی کوشش کرتا ہے اور جنگلی کتے آناً فاناً اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ایسے عالم میں چیتے،شیر یا جنگلی سور کا بچنا محال ہوتا ہے۔جنگلی کتوں کی دہشت کا یہ حال ہے کہ شیر بھی ان سے لڑتے ہوئے گھبراتا ہے۔‘‘انگریز شکاری ابھی تک اپنا ڈیرہ خیمہ اسی گاؤں میں جمائے ہوئے تھا۔ ہم نے طے کیاکہ یہ مہم بھی اسی سے سر کرائی جائے۔ چنانچہ میں انہی گونڈ قلیوں کو لے کر شکاری کے پاس گیا اور اسے چیتے کے جنگلی کتوں سے ڈر کر درخت پر پناہ لینے کا قصہ سنایا۔ شکاری نے جھٹ پٹ اپنی بندوق سنبھالی اور ہمارے ساتھ چلنے پر تیار ہو گیا۔ بھاگم بھاگ ہم جنگل کے اس حصے میں پہنچے جہاں قلیوں نے جنگلی کتوں کو چیتے کا گھیراؤ کرتے دیکھا تھا۔ کچھ فاصلے ہی سے ہمیں اندازہ ہو گیا کہ قلیوں کا بیان درست ہے۔دریا کے کنارے کا ہو کے درختوں میں سے ایک درخت پر درمیانی قدوقامت کا چیتا چڑھا ہوا تھا اور درخت کے نیچے آس پاس اور دریا کے کنارے تک پچاس ساٹھ جنگلی کتے پہرہ دے رہے تھے۔چیتا شاخوں کے درمیان دبکا ہوا تھا۔بہت غور سے دیکھنے کے بعد ہمیں اس کی موجودگی کا پتا چلا۔(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *