درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 15

ہم نے دو گونڈنوکروں کو ساتھ لیا، بندوقیں ہاتھ میں سنبھالیں اور ندی کی جانب روانہ ہو گئے۔آسمان صاف تھا اور لاتعداد ستاروں کی روشنی میں ندی کا چمکتا ہوا پانی ہمیں صاف دکھائی دے رہا تھا۔ بڑے بھائی کا قیاس سولہ آنے درست نکلا۔جنگلی کتے ندی کے کنارے پڑاؤ کیے ہوئے تھے اور ایک قوی ا لجثہ بارہ سنگھاندی کے عین درمیان پناہ لیے ہوئے تھا۔ہمارے دیکھتے دیکھتے دو تین کتوں نے جرأت کی اور پانی میں کود کر بارہ سنگھے کی جانب بڑھنے لگے۔ ان کی دیکھا دیکھی چند اور کتے بھی پانی میں کودگئے،بقیہ کتے پہرہ دے رہے تھے کہ بارہ سنگھا ندی سے نکل کر جنگل کی طرف بھاگنے نہ پائے۔بارہ سنگھے نے کتوں کو تیرتے ہوئے اپنے قریب آتے دیکھا، تو سب سے آگے والے کتے کو اچھل کر اس زور سے لات جمائی کہ کتے کا منہ پھر گیا اور اس کے ساتھ کتے ڈر کر واپس کنارے کی جانب ہٹ گئے۔ کوئی آدھ گھنٹے تک یہ حیرت انگیز تماشہ ہوتا رہا۔بالآخر ہم نے بارہ سنگھے کو موت وزیست کی اس کش مکش سے آزاد کر دینے کا فیصلہ کرلیا۔ ہمارے ساتھ آنے والے گونڈ نوکروں نے خشک بانس جلانے شروع کیے اور جب یہ بانس دھڑ دھڑ جلنے لگے تو ان کی روشنی دیکھ کر جنگلی کتوں نے راہ فرارا ختیار کی اور اس سے پہلے کہ ہم بارہ سنگھے پر فائر کرتے، وہ بجلی کی طرح ندی سے نکلا اور پلک جھپکتے میں جنگل کے اندر غائب ہو گیا۔ ہم دونوں بھائی ایک دوسرے کا منہ دیکھتے ہی رہ گئے۔اس واقعے کے بعد ایک اور انتہائی دلچسپی واقعہ دیکھنے میں آیا۔ یہ اسی ندی پرایک شیر اور جنگلی سؤر کی خون ریز جنگ تھی جو دن کی روشنی میں برپا ہوئی۔سؤر واقعی بہت زبردست سؤر ثابت ہوا، اس نے اپنے داؤ پیچ سے شیر کے چھکے چھڑا دیے اور اسے کاری زخم لگائے۔گاؤں کے لوگ مختلف درختوں اور ٹیلوں پر چڑھ کر شیر اور جنگلی سؤر کی یہ ہولناک لڑائی دیکھ رہے تھے۔ آخر میں شیر نے سؤر کی گردن اپنے جبڑوں میں دبا کر تقریباً چبا ڈالی، پھراس کی لاش وہیں چھوڑ دی اور اس زور سے گرجا کہ زمین کانپنے لگی۔ تماشائیوں میں بچے، بوڑھے، جوان اور عورتیں سبھی شامل تھے۔شیر کے یہ تیور دیکھ کر بے تحاشہ ادھرادھر پناہ لینے بھاگ۔خود میں نے بھی ایک درخت پر پناہ لی۔شیر غراتا اور گرجتا ہوا بانس کے گھنے ذخیرہ کی طرف چلا گیا۔ اس کے جانے کے پندرہ بیس منٹ بعد لوگ جمع ہوئے اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ شیر وہاں سے جاتے ہوئے اپنے شکار کو بھی گھسیٹ کر لے جا چکا ہے۔ہندوستان کے قدیم باشندوں میں بھیل اور گونڈ نمایاں ہیں اور یہ لوگ عموماً درندوں کے شکار کیے ہوئے جانور اٹھا لانے میں ماہر ہیں۔میرے ساتھ گونڈ یہ دیکھ چکے تھے کہ شیر نے موٹے تازے سؤر کا شکار کرلیا ہے اور اسے اپنے ساتھ گھسیٹ کر جنگل میں لے گیا ہے،لیکن وہ اس قدر تھکا ہوا اور زخمی تھا کہ اس وقت سؤر کو کھانا شروع نہیں کیا ہو گا اور سؤر کی لاش کسی جھاڑی کے اندر پڑی ہو گی۔۔۔سؤر کا گوشت گونڈ لوگوں کی انتہائی مرغوب غذا ہے،چنانچہ میں نے دیکھا کہ یہ لوگ سؤر کے تصور ہی میں ہونٹ چاٹ رہے تھے اور اس فکر میں تھے کہ جنگل کے اندر جاکر سؤر کی لاش اٹھا لائیں۔اپنی نادانی اور ناتجربے کاری کے باعث میں بھی ان کے ساتھ جنگل میں جانے کو تیار ہو گیا۔ مگر بعض عمر رسیدہ آدمیوں نے مجھے اس ارادے سے باز رکھا اور سمجھایا کہ میاں دیوانے ہوئے ہو۔۔۔زخمی شیر کے تعاقب میں بھی یوں کوئی جایا کرتا ہے؟شیر یقیناً سؤر کی لاش کے قریب ہی کہیں چھپا بیٹھا ہو گا اور جو شخص بھی اس کے نزدیک جائے گا، اسے چیر پھاڑ کر برابر کر دے گا۔خدا ان کا بھلا کرے کہ بروقت مجھے اس حماقت سے روک دیا، ورنہ آج میں یہ داستان سنانے کو موجود نہ ہوتا۔ بہرحال میں واپس اپنے ٹھکانے پر چلا گیا اور مجھے خبر نہیں کہ وہ گونڈ سؤر کی لاش ڈھونڈنے جنگل میں گئے یا نہیں گئے۔اسی روز میں ایک ا ور قریبی گاؤں گیدا میں گیا اور وہاں مجھے معلوم ہوا کہ ایک انگریز فوجی افسرادھر شکار کھیلنے آیا ہے اور ایک شیر کی تاک میں ہے۔اس انگریز شکاری کے ساتھ صرف ایک نوکر تھا اور اس نے جنگل کے اندر ہی اپنا خیمہ لگا رکھا تھا۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ انگریز شکاری نے شیر کو پھانسنے کے لیے گزشتہ رات ایک درخت سے گائے کا بچھڑا باندھا اور خود شیر کے انتظار میں ایک مچان بندھوا کر اس پر بیٹھا۔آدمی رات کے بعد شیر ادھر آیا اور شکاری صاحب کی نظروں کے عین سامنے بچھڑے کو ہلاک کیا اور اٹھا کر چلتا بنا۔ جب وہ اپنے شکار کو جبڑوں میں دبا کر جھاڑیوں کی طرف بڑھ رہاتھا، تب شکاری نے اس پر فائر کیا گولی شیر کی پیٹھ پر معمولی زخمی پہنچاتی ہوئی نکل گئی۔بعد میں پتہ چلا کہ شیر کی ریڑھ کی ہڈی بھی ایک جگہ سے ٹوٹ گئی تھی۔زخمی ہو کر شیر اس وقت ایسا دھاڑا کہ آدمی تو آدمی جنگل کے درخت تک لرز گئے۔
انگریز شکاری نے یک لخت ہمت سے کام لینے کا فیصلہ کیا اور طے پایا کہ گاؤں کے لوگوں کو جمع کرکے ہانکا کرایا جائے۔ ہانکے بعد شیر اپنی کمین گاہ سے نکلنے پر مجبور ہو گا اور پھر اسے ہلاک کر دینا آسان رہے گا۔(جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *