اظہار تشکر و خراج تحسین !

اشعار !

نظر انداز کرنے کی سزا دینا تھی تجھ کو
تیرے دل میں اتر جانا ضروری ہو گیا تھا ،

کھلنے لگے ہیں مجھ پہ سب اسرار کائنات
حسرت سرائے عشق کی جانب رواں ہوں میں ،

سبھی حریفوں کی اور سارے حاسدین کی خیر
میں مانگتی ہوں خدا سے مخالفین کی خیر ،

اردو غزل ۔

جانے کس جرم کی پاداش میں پکڑی ہوئی ہوں
میں روایات کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہوں

میرے رنگین پردوں سے تھا اسے پیار بہت
اب میں تتلی کی طرح ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہوں

اب پرندے بھی میرے شانوں پر آ بیٹھے ہیں
میں تیرے ہجر میں یوں سوکھ کے لکڑی ہوئی ہوں

میں توں صدمات کی شدت سے ہوں سکتے میں قمر
وہ سمجھتے ہیں کسی بات پر اکڑی ہوئی ہوں

اردو غزل ۔۔

پیار میں پاگل ہو جاتے ہیں
لوگ مکمل ہو جاتے ہیں

تم آنکھوں پر ہاتھ نہ رکھو
ہم خود اوجھل ہو جاتے ہیں

تنہائی پر جھاڑتی ہے جب
خواب معطل ہو جاتے ہیں

جب بھی سورج دیکھنے نکلوں
سر پر بادل ہو جاتے ہیں

میرا اس میں دوش نہیں ہے
لوگ ہی پاگل ہو جاتے ہیں

درد پنیری بونے والو
گھر بھی جنگل ہو جاتے ہیں

اشعار !

تیرے کمرے میں تیرا ٹھہرنا مشکل ہوگا
میری تصویر وہاں شور مچاتی ہو گی ،

اس کی یادیں بھی بدن اس کا پہن کر آئیں
جانے والا مجھے پھرتا نظر آیا گھر میں ،

خوش ادائی ، مزاج ہے میرا
ہاں میں سچ میں ہوں خوش لباس بہت ،

اردو غزل ۔۔

یہ مانتی ہوں خود میں مکمل نہیں ہوں میں
عورت ہوں کوئی عقل سے پیدل نہیں ہوں میں

ورنہ تمہاری چھت پہ برستی میں رات بھر
افسوس تو یہی ہے کہ بادل نہیں ہوں میں

اب ایسے شخص کو کوئی سمجھائے کس طرح
پاگل یہ کہہ رہا ہے کہ پاگل نہیں ہوں میں

تھر کی طرح سے آج بھی پیاسی ہوں میں ،قمر
باران وصل سے کوئی جل تھل نہیں ہوں میں ۔

ریحانہ قمر

انگریزی ادب میں اگر تانیثی فکر کی نمائندہ سلویا پلاتھ ہے تو اردو ادب کا دامن بھی اس سے خالی نہیں۔فہمیدہ ریاض صاحبہ ،کشور ناہید صاحبہ،عزرا عباس صاحبہ،سارا شگفتہ صاحبہ، نثر نگارہ Samina Tabassum صاحبہ،
پروفیسر Shahina Kishwer صاحبہ، Farida Shaheen Farida Shaheen Fari صاحبہ،اور Tahira Sra صاحبہ کے علاوہ کیلیفورنیا امریکہ میں مقیم میرے پیارے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہونے والی ادب کی شہزادی ، فخر ٹوبہ ٹیک سنگھ ، سرمایہ پاکستان، شاعری جس کو وراثت میں ملی ، معروف شاعر چودھری محمد ابراہیم ؒ کی پوتی ،معروف پنجابی شاعر چودھری عنائت قمر صاحب کی بھتیجی ، اعلی تعلیم یافتہ BBA ہولڈر ،ایک اعلی بزنس ویمن ، UNO یو ایس ایوارڈ اور سپیشل ونڈر ویمن ایوارڈ جس کا مقدر ٹھہرے ، ایک ہمدرد، غریب پرور خاتون،ایک سوشل ورکر،کئی فلاحی اداروں کی روح رواں ، خدانخواستہ پاکستان میں دوران آفت طبی کیمپ لگانے میں پیش پیش ، کینسر کیئر ہسپتال لاہور پاکستان کے لئے سپیشل ایمبیسیڈر مقرر ہوئی ، جس کی لکھی غزلیں اور گیت انڈیا کے مایہ ناز کمپوزر جگجیت سنگھ نے کمپوز کئے اور اس کے شاگرد اعجاز مہدی کے علاوہ انڈیا اور پاکستان کے نامور گلوکاروں ترنم ناز ،شبنم مجید، عزرا ریاض، پرویز مہدی اور رستم فتح علی خان نے گائے ، جس پرشاعرانہ دیوی رشک کرتی ہے ، جس کی قلم سے ٹپکا ہر لفظ ایک کہانی ، ایک غزل ، ایک نظم اور کبھی کبھی ایک افسانے کا روپ دھار لیتا ہے، الفاظ جس کی قربت کو پاکر راحت محسوس کرتے ہیں، الفاظ اپنے تسکین قلب اور روح کو معطر کرنے کے لئے جس کا صبح شام طواف کرتے ہیں، الفاظ جس سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں،الفاظ جس سے بے پناہ پیار کرتے ہیں، الفاظ جس کی قلم سے وابستہ رہنا عبادت سمجھتے ہیں ،الفاظ جس کو اپنا پری پیکر مانتے ہیں، جو الفاظ کو ایک نیا پیرہن عطاء کرنے کا سلیقہ رکھتی ہے، اردو غزل کو نت نئی جہتیں بخشتی ہے، بہت سے قومی و بین الاقوامی ایوارڈز جس کا مقدر ٹھہرے، جو دیار غیر میں رہتے ہوئے فکر معاش کے ساتھ ساتھ شاعری کو اپنا زیور اور مقدس فریضہ گردانتی ہے ، اردو مجموعہ کلام (حیرت سرائے عشق اور کلیات سپیاں چنتے شام ہوئی ) کی خالق ،( Popular Indian Sahitya Akademi Award ) وصول کرنے والی پہلی پاکستانی عہد حاضر کی معروف شاعرہ میرے لئے نہائت قابل قدر محترمہ Rehana Qamar صاحبہ جن کی میں بے پناہ محبت و شفقت کا اپنے دل کی اتاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کو فلاحی سرگرمیوں میں بیش بہا خدمات پر سلام عقیدت اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔اور دعا گو ہوں کہ اللہ پاک آپ کو صحت ،تندرستی ،خوشیوں بھری زندگی دے اور آپ کے زور قلم کو مزید تقویت بخشے۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *