رنگ روڈ ہی ٹریفک کے مسائل کا حل 

راجہ طاہر محمود 


کسی بھی ملک کی ترقی کو دیکھنا ہو تو اس کی ٹریفک کو دیکھ اندازہ کیا جاتا ہے اگر کسی ملک میں بے ہنگم بے ترتیب ٹریفک ہو تو وہ ملک کھبی بھی ترقی یافتہ نہیں بن سکتا ایسے ممالک جہاں پر بے ہنگم ٹریفک ہے وہ ملک دنیا کی ترقی یافتہ اقوم سے بہت پیچھے ہوتے ہیں جبکہ دنیا کے امیر ممالک نے اپنی ٹریفک کو ایسے طریقے سے مینج کیا ہوا ہے کہ بے پناہ آبادی ہونے کے باوجود ان کے ہاں ٹریفک جام کا کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں لیکن ہمارے ہاں معاملہ زرا الٹ جاتا ہے پاکستان کے تمام ہی شہر ٹریفک کے معاملے میں بری طرح پھنسے نظر آتے ہیں خصوصا بڑے شہروں میں تو ٹریفک کے مسائل کی وجہ سے مسائل کا انبار لگا ہو اہے راولپنڈی اور اسلام آبا د پاکستان کے جڑواں شہر کہلاتے ہیں اسلام آباد چونکہ وفاقی دارالحکومت ہے اور پاکستان کا پہلا شہر ہے جو نقشے کے تحت بنایا گیا اس کے ماسٹر پلان میں اس کے اگلے کئی سالوں کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیا گیاتھا مگر اب بے ہنگم ٹریفک یہاں بھی مسئلہ پیدا کررہی ہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ ان دونوں شہروں میں کسی قسم کا کوئی بائی پاس نہ ہونا بھی کوئی رنگ روڈ ان دونوں کے لئے تعمیر نہیں ہوئی جس کی وجہ سے پنجاب سے آنے والو لوگ شہری علاقوں سے ہو کر ہی آگے پشاور کی جانب جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کا شدید دباؤ ہر وقت موجو درہتا ہے اور چھٹی کے اوقات میں تو یہ دباؤ اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ میلوں لمبی لائینیں دیکھنے کو ملتی ہیں اسلام آباد میں داخلے کے لئے اب ٹریفک کے شدیددباؤ کا سامنا ہر روز ہر وقت یہاں ے شہریوں کو کرنا پڑتا ہے راولپنڈی اور اسلام آبا دکے رنگ روڈ کے تعمیر کرنے کے منصوبے گزشتہ کئی سالوں سے منظر عام پر آتے رہے ہیں مگر ناجانے کیوں ان دونوں شہروں کو رنگ روڈ یا بائی پاس نہیں مل سکے جس کی وجہ سے آج بھی یہاں کے شہری ٹریفک کے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں لیکن اب حکومت پنجاب نے اس مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے راولپنڈی کے رنگ روڈ کو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی تعمیر سے ناصرف راولپنڈی اور اسلام آباد کے باسیوں کے شدید ٹریفک کے مسئلے سے نجات ملے گی بلکہ ملک کے دیگر علاقوں سے اسلام آباد اور راولپنڈی آنے والی ٹریفک کو رواں رکھنے میں مدد ملے گی دوسری جانب اسلام آباد ہائی وئے کو سگنل فری کرنے کا کام شروع ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کو روات سے آگے چک بیلی خان چوک تک مکمل کیا جائے کیوں کہ اسلام آباد ہائی وئے کو سگنل فری کرنے سے ٹریفک کا سارا دباؤ روات میں آ جاتا ہے اور منصوبے کی افادیت ختم ہو جاتی چونکہ اسلام آباد ہائی وئے تقریبا آٹھ رویہ ہے اور روات میں جی ٹی روڈ جو کہ چار رویہ ہے یہاں آکر ٹریفک کی لمبی لائینں لگ جاتی ہے جبکہ ٹی چوک میں کوئی فلائی اوور نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ہر وقت گاڑیوں کا ہجوم رہتاہے رنگ روڈ کی تعمیر سے ان مسائل میں خاطر خواہ کمی ہو گی اور ہیوی ٹریفک شہر میں داخل ہوئے بغیر اپنی منزل کی طرف بڑھ جائے گی اندورون شہر ہیوی گاڑیوں کے داخلے سے جو مسائل جنم لے رہے تھے وہ بھی ختم ہونے کی توقع ہے حکومت پنجاب کی جانب سے اس منصوبے کی فادیت کو سامنے رکھتے ہوئے اس کو تعمیر کرنے پلان بنایا گیا ہے دستاویزات کے مطابق حکومت پنجاب نے راولپنڈی رنگ روڈ کیلئے 42ارب روپے کے فنڈز نئے بجٹ میں مختص کر دیئے ہیں رنگ روڈ 38کلومیٹر طویل ہو گی اور اسکی تعمیر صرف 2سال میں مکمل کرنے کا پلان ہے رنگ روڈ بننے سے جی ٹی روڈ کے ذریعے ازاد کشمیر‘ ہزارہ ڈویژن‘ خیبر پختونخوا‘ فتح جنگ‘ میانوالی‘ کوہاٹ‘ بنوں جانے والے ٹریلر‘ ٹرک‘ بسیں‘ مسافر گاڑیاں روات سے اسلام اباد کے اندر داخل ہوئے بغیر اپنی منزل کی طرف رنگ روڈ کے ذریعے جایا کریں گی جس سے روات سے ائرپورٹ چوک‘ فیض اباد چوک پر کئی گاڑیوں کو انے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی راولپنڈی اسلام اباد کے شہریوں کی زندگی جو ٹریفک جام کی وجہ سے روزانہ گھنٹوں تک اجیرن ہو چکی ہے‘ ان کو بڑی حد تک سہولت ملے گی۔ راولپنڈی اسلام اباد میں ٹریفک کا اژدہام بڑھنے کی بجائے تیزی سے کم ہو جائیگا اور ازاد کشمیر‘ ہزارہ ڈویڑن‘ گلگت بلتستان‘ خیبر پختونخوا‘ فاٹا انے جانے والوں کو کئی گھنٹوں کی مسافت اضافی نہیں کرنا پڑے گی۔ راولپنڈی رنگ روڈ پر نئے مالی سال 2018۔19 میں کام شروع کرنے کی ہدایت دی ہے اس کیلئے پنجاب کے صوبائی بجٹ میں 42ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں مندرہ روات کے درمیان جی ٹی روڈ پر بائیں ہاتھ سے رنگ روڈ شروع ہو کر موٹر وے (ایم 2) کے ٹھلیاں انٹرچینج تک یہ رنگ روڈ جائیگی اسکی لمبائی سوا 38کلومیٹر ہو گی یہ رنگ روڈ روات کے جنوب میں دس کلومیٹر فاصلے پر جی ٹی روڈ سے شروع ہو گی اس کا نکتہ اغاز جی ٹی روڈ پر واقع موضع بانٹھ ہو گا یہ رنگ روڈ روات سے مغرب سے ہوتی ہوئی روات چک بیلی روڈ کے قریب موضع میرا موہڑہ اور بسالی کے ساتھ سے گزرے گی یہ رنگ روڈ موضع للہ‘ کمال پور‘ تراہیا‘ ڈھاپیا‘ خصالہ خورد‘ اڈیالہ روڈ کے ساتھ ساتھ چلے گی جہاں سے رنگ روڈ شمال مغرب کی سمت ہو جائیگی اور چکری روڈ کو کراس کریگی اس مقام پر ایک انٹرچینج بنے گا جہاں سے رنگ روڈ مزید شمال مغرب سے ہو کر دو کلومیٹر کے فاصلے پر ٹھلیاں انٹرچینج سے مل جائیگی راولپنڈی رنگ روڈ پراجیکٹ کی فزبیلٹی اسٹڈی رپورٹ 2017 میں مکمل کر لی گئی تھی راولپنڈی رنگ روڈ اسلام اباد ہائی وے‘ جی ٹی روڈ کو جس مقام پر ملتی ہے وہاں سے رنگ روڈ کی الائنمنٹ موضع ڈھوک اللہ دتہ قاضیاں‘ جبہ‘ سمبل‘ کوٹلہ‘ میرا موہڑہ اور روات چک بیلی روڈ پر موضع بسالی کے قریب ملے گی اسکے لنک ون (روات لنک) کی لمبائی 12.5کلومیٹر‘ لنک ٹو گرجا روڈ کی لمبائی ڈیڑھ کلومیٹر‘ لنک تھری فتح جنگ ٹو جی ٹی روڈ ساڑھے 6کلومیٹر ہو گی رنگ روڈ کے دونوں اطراف 90میٹر چوڑا رائٹ اف وے ہو گا۔ رنگ روڈ اور روات لنک‘ اڈیالہ روڈ‘ چکری روڈ‘ گرجا روڈ سے گزر کر یہ روڈ ٹھلیاں انٹرچینج تک جائیگی۔ وہاں رائٹ اف وے 60میٹر رکھا گیا ہے۔ جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ پر ٹرمپڈ انٹرچینج چک بیلی روڈ اور روات لنک پر ڈائمنڈ پلس ٹرمپڈ انٹرچینج اڈیالہ روڈ پر ڈائمنڈ انٹرچینج‘ چکری روڈ پر ڈائمنڈ انٹرچینج‘ گرجا روڈ پر ڈائمنڈ انٹرچینج‘ ٹھلیاں پر موجودہ انٹرچینج‘ جی ٹی روڈ اور روات لنک پر کلوور لیف انٹرچینج تجویز کیا گیاہےبلا شبہ یہ منصوبہ بہت پہلے بن جانا چاہیے تھا اور ایسا ہی ایک منصوبہ اسلام آباد رنگ روڈ کی شکل میں بھی فائلوں میں گم ہے اگر اس کو بھی بنا لیا جائے تو یقیناًٹریفک کے مسائل مذید کم ہو سکتے ہیں راولپنڈی رنگ اس روڈ کی تعمیر سے نا صرف علاقے میں ترقی و خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا بلکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے باسیوں کو ٹریفک کے مسائل سے بھی نجات حاصل ہو گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *