گھر تو ہوتا مکان کا کیا ہے

مبارکباد ۔!

گھر تو ہوتا مکان کا کیا ہے
بھاڑے پر بھی رہا جا سکتا ہے

دوستوں کا مزاج کیا کہٕیے
کوٕئی صحرا ہے کوٕئی دریا ہے

لوگ کیا کیا نصیب رکھتے ہیں
اپنے حصے میں بس تماشا ہے

أصف جاوید۔۔۔

میں آج حافظ آباد دھرتی کے ایک ایسے سپوت کہ شاعرانہ دیوی جس کے گھر کی باندی ہے ۔ جس کا دیدار کرنے کو اس کے مداحوں کی نگاہیں ترستی ہیں۔ جو ایک دلفریب اور پرکشش شخصیت میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا ۔ جو ہمیشہ ایک منفرد ،خوبصورت اور شائستہ لہجہ اپنائے ہوئے ہے۔ وہ بلاشبہ گونگے ،بہرے اور بصارت سے محروم الفاظ کو زبان ،سماعت اور دور تلک بینائی دینے کا ہنر جانتا ہے ۔ تبھی تو اکثر دیکھا جاتا ہے کہ الفاظ پر اس کی حکمرانی ہے۔الفاظ اس کا کہا مانتے ہیں ۔الفاظ اس کے سامنے باادب اور سرنگوں اس کے حکم کی بجا آوری کے لئے کھڑے رہتے ہیں ۔اور اس کی قلم میں ایک جادو بھی دیکھا ہے کہ الفاظ اس کی قلم کی نوک کے آگے کٹھ پتلی کی طرح بے حجابانہ رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ شعر ہو یا غزل اس کے لبوں کو چھو کر ایسے فخر محسوس کرتے ہیں جیسے کوئی دیوانہ باوضو ہو کر اپنا مقدس فریضہ سرانجام دے کر آیا ہو۔ میری مراد اردو مجموعہ کلام (قید وفا)کے خالق اور عہد حاضر کے استاذالشعراء قبلہ جناب Asif Jawed صاحب ۔
جن کو میں مختار احمد ساقی گجراتی ایوارڈ 2018 ملنے پر اپنے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اور دعا گو ہوں کہ اللہ پاک ان کو مزید کامیابیوں سے سرفراز فرماوے اور زور قلم کو مزید تقویت بخشے۔آمین۔

اجمل ہارون
ٹوبہ ٹیک سنگھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *