لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے خلاف عدلیہ مخالف تقارہر کے معاملے پر پیمرا سے شکایات پر کی جانے والی کارروائی کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا

لاہور(بیورو چیف پنجاب میاں محمد عمران ندیم سے) ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے خلاف عدلیہ مخالف تقارہر کے معاملے پر پیمرا سے شکایات پر کی جانے والی کارروائی کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا ،عدالت نے کہا ہے کہ جب پیمرا کے پاس توہین آمیز تقاریر روکنے کا طریقہ کار موجود ہے تو پھر اس پر عمل کیوں نہیں کیا گیا لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے نواز شریف اور انکی بیٹی مریم نواز کے خلاف عدلیہ مخالف تقاریر پر ایک ہی نوعیت کی مختلف درخواستوں پر سماعت کی درخواستگزار کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائدین مسلسل توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے لیکن پیمرا خاموش تماشائی کا کردار ادا کرہا ہے فل بنچ نے ریمارکس دئیے کہ بعض معاملات میں تو پیمرا نے تیزی سے کارروائی کی اور کچھ پر خاموش رہتا ہے کیا پیمرا کسی کی ہدایات کا انتظار کر رہی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ سات ماہ سے درخواستیں پڑی ہیں ان پر کارروائی کیوں نہیں ہوئی بنچ نے واضیح کیا کہ ضروری نہیں درخواستوں پر کارروائی ہو پیمرا کی اپنی بھی ذمہ داری ہے یہ کسی کی ذات کا نہیں قومی مفاد کا معاملہ ہے، عدالت نے کہاکہ پیمرا نے اسلام آباد میں چند افراد کے احتجاج پر از خود کارروائی کی،لوگ عدلیہ مخالف تقاریرکر رہے ہیں آگاہ کیا جائے پیمراء اس پر کیوں خاموش ہے، سماعت کے دوران پیمرا نے عدلیہ مخالف تقاریر کی سی ڈیز کا ریکارڈ پیش کر دیا نواز شریف کی جانب سے ان کے وکیل ائ کے ڈوگر نے وکالت نامہ جمع کروایا جس پر درخواستگزار کے وکیل اظہر صدیق نے اعتراض کیا کہ وکالت نامے پر سبز رنگ کی روشنائی سے دستخط کیے ہیں نوازشریف ابھی بھی خود کو وزیراعظم سمجھتے ہیں ،عدالت نے آئندہ سماعت پرپیمراء کو عدلیہ مخالف تقاریر کی پیش کردہ سی ڈیز کا ٹرانسکرپٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے پیمرا کے وکیل سلمان اکرام راجہ کو بھی آئیندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی ،عدالت نے پیمراء کے پاس زیر سماعت درخواستوں کا ریکارڈ بھی طلب کرتے ہوئے مزید کارروائی 16 اپریل تک ملتوی کر دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *