چیف جسٹس کاسانحہ ماڈل ٹاون پر نوٹس ،کڑا امتحان

اس وقت ملک میں حکومت کی جگہ چیف جسٹس متحرک نظر آتے ہیں۔ لاہور میں صاف پانی کا مسئلہ ہو یا کراچی شہر کی صفائی، فارن اکاونٹ کا ایشو ہو یا نجی اداروں کے ملازمین کی تنخواہ کا مسئلہ ، لاہور کے ہسپتالوں کی حالت زار ہو یا اسلام آباد میں تجاوزات ، سانحہ قصور میں زینب کا بے رحم قتل ہو یا اسما اور مبشرہ کے ساتھ درندگی کا واقعہ۔ الغرض عوام کے مسائل پر چیف جسٹس کی طرف سے ہی نوٹس لیے جا رہے ہیں۔ ان از خود نوٹس میں 17جون 2014کو ہونے والے سانحہ ماڈل ٹاون بھی شامل ہو گیا ہے۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کیس شریف برادارن اور مسلم لیگ (ن) کے کچھ وزاراء اور آفیسرز کیلئے لٹکتی ہوئی تلوار ہے۔ جیسے میاں نواز شریف نے اپنی نااہلیت کواہل ثابت کرنے کیلئے قانون کو بدلنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اسی طرح شہباز شریف نے اس کیس سے بچنے کیلئے قانون کو پاؤں کے نیچے روندا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ میڈیا کے کیمروں کے سامنے برپا ہونے والے اس سانحہ کی پنجاب حکومت نے FIR تک درج نہیں ہونے دی۔ یہ سانحہ پاکستان میں ہونے والے باقی سانحات سے اس لیے بھی مختلف ہے کہ اس کی ریکارڈنگ پاکستان کے تمام ٹی وی چینل کے پاس ہے اس کو پوری دنیا نے Live دیکھا ۔ اس سانحہ میں شہید ہونے والے افراد پاکستان کی ایک بڑی جماعت تحریک منہاج القرآن کے کارکن تھے۔ اس سانحہ پرمسلم لیگ (ن) کے علاوہ پاکستان کی تمام جماعتیں سراپا احتجاج نظر آئیں۔ حکومتی ظلم ستم کے شکار ہو کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے والے ان شہداء کیلئے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں اس پر احتجاج کیا گیا۔ لیکن پنجاب حکومت نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے کسی بھی طرح سے قانونی کارروائی کا عمل شفاف نہ بنے دیا۔
سانحہ کے بعد شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جسٹس باقرنجفی کمیشن بنا دیا ہے اگر اس کمیشن نے میری طرف ذمہ دار ہونے کا اشارہ بھی کیا تو میں فوری مستعفی ہو کر اپنے آپ کو پیش کر دوں گا۔ اس کمیشن نے اشارہ نہیں بلکہ مکمل ہاتھ ہی شہاز شریف اور ان کی پنجاب خومت پر رکھ دیا ۔ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ مکمل ہونے پر اس کو شائع کرنے سے روک کر ایک نئی JIT بنا دی۔ اس یک طرفہ JIT سے اپنی مرضی کی رپورٹ مرتب کروا کر عدالت میں پیش کر دی گئی۔ سانحہ ماڈل پر کئی عدالتی بنچ تشکیل دیے گئے ۔ بنچ بنتے رہے ٹوٹتے رہے لیکن پنجاب حکومت نے اس کیس کو التوا کا شکار کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا ۔ کیس پر ایک سماعت کے بعد دوسری سماعت کیلئے لواحقین کے وکیل تاریخ لینے کیلئے بھی درخواستیں دیتے نظر آئے۔ ملوث آفیسرز کو ترقیاں دی گئیں ، کچھ آفیسرز کو بیرون ملک فرار کر دیاگیا۔
عدالتی کارروائی میں روکاوٹیں ڈالنے کے علاوہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کی فیملی کو ہراساں کرنے کا عمل بھی جاری رکھا۔ جب ڈرانے دھمکانے کے حربے ناکام ہوئے تو پھر ان فیملی کو خریدنے کی کوشش کی گئی ۔ خبروں کے مطابق 30,30کروڑ تک آفر کی گئیں ۔ ملازمتوں اور بیرون ملک جانے کا لالچ بھی دیا گیا۔ تنزیلہ امجد جو سانحہ ماڈل میں شہید ہوئی تھیں ان کی بیٹی بسمہ امجد سے چیف جسٹس کی ملاقات ہوئی،ان سے انصاف کا وعدہ کیا گیاہے۔ اس سانحہ کے شہدا ء کے لواحقین سے اس سے پہلے ایک اور چیف نے بھی وعدہ کیا تھا ۔ مگر سابقہ آرمی چیف راحیل شریف کا وعدہ انصاف کی طرف ایک قدم بھی نہ بڑھ سکا صرف FIR تک محدود رہا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب حکومت کی روکاوٹوں کا مقابلہ کرتے ہوئے چیف جسٹس سانحہ ماڈل ٹاؤن پر انصاف دلانے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *