آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 12

’’بدری رام جی۔۔۔‘‘میں نے آواز دی۔
’’ہاں،جناب۔۔۔‘‘فوراً جواب آیا اور میں تکلیف کے باوجود اپنی ہنسی نہ روک سکا۔ بیچارہ اسی وقت سے درخت پر ٹنگا ہوا ہے۔
’’نیچے آجائیے لالہ جی،خطرہ ٹل گیا۔‘‘تھوڑی دیر بعد لالہ جی میرے پاس کھڑے مجھے سہارا دے کر اٹھانے کی کوشش کرہے تھے،پھرانہوں نے جیب سے دیا سلائی کی ڈبیا نکال کر تیلی جلائی اور میں نے انہیں اور انہوں نے مجھے غور سے دیکھا۔ لاللہ جی کا چہرہ خوف سے سکڑ گیا تھا اور وہ برسوں کے بیمار نظر آتے تھے،لیکن میرے زخم دیکھ کر انہیں کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی صر ف اتنا کہا
’’جناب، آج ہم دونوں کے مرنے میں کوئی کسر باقی نہ تھی۔ آئیے اب واپس چلیں۔خدا جانے بیل گاڑی کدھر گئی۔ میں نے دیکھا تھا کہ چیتے کی آواز سن کر دونوں بیل ایک طرف بھاگ نکلے اور اب نہ جانے کہاں بھٹک رہے ہوں گے۔‘‘

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 11 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
http://voice-of-society.com/wp-admin/post.php?post=10039&action=edit
’’بیل گاؤں کا راستہ پہچانتے ہیں،وہ سیدھے وہیں گئے ہوں گے‘‘۔میں نے جواب دیا۔اور ہم دونوں دیا سلائی کی تیلیوں کے سہارے دیکھتے بھالتے اور چھپتے چھپاتے بستی کی طرف لوٹ آئے۔ چیتا زخمی ہو چکا تھا اور ہمارا یوں جنگل میں آدھی رات کو پھرنا سخت حماقت تھی۔وہ کسی بھی لمحے ہم پر حملہ کر سکتا تھا،ل یکن خدا نے ہمیں بچایا۔ ہم دونوں صحیح سلامت گاؤں کے اندر پہنچ گئے۔
لالہ بدری رام جاتے ہی اپنی کھاٹ پر پڑ کر بے خبر سو گئے،لیکن زخموں کی ٹیس نے مجھے سونے نہ دیا۔۔۔جانے کہاں کہاں چوٹ لگی تھی۔اردلی نے بیرا کے بارے میں بتایا کہ وہ آرام سے ہے اور سورہا ہے۔اس کی بیوی اور بچوں کو بلانے کے لیے آدمی صبح بھیجا جائے گا۔
لالہ بدری رام تو صبح سویرے پنگرام کی طرف سدھارے، کیونکہ ان کی ’’نوکری‘‘ کا سوال تھا، اور وہ ایک لمحہ بھی میرے پاس ٹھہرنے کے لیے تیار نہ تھے۔بیرا کی حالت اس قابل نہ تھی کہ وہ میرا ساتھ دے سکتا۔ اب میں تن تنہا رہ گیا، لیکن چیتے کو تلاش کرنا ضروری تھا۔ کیونکہ زخمی ہونے کے بعد اس کا آدم خور بن جانا ایک فطری امر تھا۔ سارا دن جنگل میں گھومتا رہا، لیکن اس کا کہیں پتا نہ ملا۔ رات کے آخری حصے میں بھی جان پر کھیل کر اس کے کھوج میں نکلا،لیکن بے سود۔اب میں کسی بری خبر کے انتظار میں تھا اور یہ خبر تیسرے روز رات کے آٹھ بجے مجھ تک پہنچ گئی۔بتایا گیا کہ پنگرام سے تین میل ادھر ایک چرواہا مویشی لے کر جنگل سے گزر رہا تھا کہ کسی درندے نے حملہ کیا اور اسے اٹھا کر لے گیا۔ مویشی بھاگتے دوڑتے بستی کے اندر پہنچ گئے۔ لیکن چرواہا نہ آیا۔ یہ ایک حیران کن بات تھی، چنانچہ دس پندرہ آدمی جمع ہو کر جنگل میں گئے اور تلاش بسیار کے بعد انہوں نے ادھڑی اور کھائی ہوئی لاش کے اجزا ایک گھنی جھاڑی کے اندر پڑے پائے۔چرواہے کے خون آلود کپڑوں کی دھجیاں بھی ادھر ادھر بکھری دکھائی دیں۔جب یہ لوگ روتے پیٹتے واپس آرہے تھے ،تو انہوں نے چیتے کے غرانے کی آوازیں سنیں۔اگرچہ ان لوگوں کے پاس کلہاڑیاں اور گنڈاسے موجود تھے، تاہم چیتے کا سامنا کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ ایک شخص نے جو جنگل میں گیا تھا۔مجھے بتایا:
’’میں نے چیتے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔وہ چمالیا(چرواہے)کی لاش سے کچھ فاصلے پر لمبی گھاس کے اندر چھپا ہوا تھا۔ اس نے ہم لوگوں کو دیکھ کر بھاگنے کی کوشش نہ کی،بلکہ غضب ناک ہو کر غرانے لگا۔ اگر ہم دس بارہ آدمی نہ ہوتے،تو وہ یقیناً ہم ایک آدھ پر حملہ کر دیتا۔ پھر وہ اسی گھاس میں بے پروائی سے چلتا ہوا نہ جانے کہاں غائب ہو گیا۔‘‘
’’کیا تم مجھے وہ جگہ دکھا سکتے ہو؟‘‘
’’ہاں جناب۔۔۔‘‘
’’تو چلو میرے ساتھ۔۔۔‘‘میں نے جلدی جلدی رائفل ،ٹارچ اور تمباکو کی تھیلی اور چائے کا تھرماس سنبھالا اور اس مزدور کو لے کر روانہ ہوا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ بے چارہ میرے ساتھ جانے کی حامی تو بھر چکا ہے،مگر خوف زدہ سا ہے۔میں نے اس سے کہا کہ وہ چند اور آدمیوں کو بھی چلنے کے لیے کہے، تاکہ ہم آسانی سے چیتے کی تلاش کر سکیں۔قصہ مختصر پانچ آدمیوں کا یہ مختصر سا گروہ جنگل کو روانہ ہوا۔ رات تاریک اور گرم تھی۔چمگادڑوں کے چیخنے اور الوؤں کے مسلسل بولنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔کبھی کبھی کسی مور کے جھنکارنے کی آواز بھی سنائی دے جاتی تھی۔ جھاڑیوں کے اندر دبکا ہوا کوئی چرخ یا گیدڑ ہمارے قدموں کی آہٹ پاکر بھاگتا،تو سب لوگ ڈر کررک جاتے،کیا معلوم چیتا کدھر سے نکل آئے۔
کئی میل کا فاصلہ طے کر کے جب ہم اس مقام پر پہنچے، جہاں چرواہے کی لاش کے ٹکڑے پڑے تھے، تو میں نے ٹارچ روشن کی اور اردگرد یک زمین کا بغور معائنہ کیا۔ چیتے کے زخموں کے مدھم نشان نظر آئے۔دراصل پہ نشان آدمیوں کے قدموں کی وجہ سے مٹ چکے تھے اور بہت غور کرنے کے بعد دکھائی دیے۔مشرقی افق سے آہستہ آہستہ چاند ابھر رہا تھا، لیکن اس کی روشنی اس حصے تک بمشکل پہنچ رہی تھی۔ جہاں ہم سب آدمی چرواہے کی المناک موت اور مکار چیتے کی ظالمانہ حرکت پر رنج و غم کی تصویر بنے کھڑے تھے۔میں نے قریب ہی ایک محفوظ اور بلند قامت درخت تاکا اور اپنے ساتھیوں کو واپس جانے کی ہدایت کرکے اس درخت پر چڑھ کر چپ چاپ بیٹھ گیا۔مجھے یقین تھا کہ چیتا ادھر سے ضرور گزرے گا۔کیونکہ وہ شام کے وقت آدمیوں کو آتے جاتے دیکھ چکا ہے اور اپنی فطرت کے باعث کسی نہ کسی آدمی پر حملہ کرنے کا ارادہ ضرور کر چکا ہو گا۔عجب نہیں کہ وہ اب بھی ہمارے تعاقب میں یہاں تک آیا ہو اور آس پاس کسی جگہ چھپ کر ہماری حرکات دیکھ رہا ہو۔چیتے کی مکاری، دور اندیشی اور پھرتی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسی حرکتیں کچھ بعید نہ تھیں۔میں نے واپس جانے والوں مزدوروں کو خوب سمجھادیا تھا کہ وہ ہرگز ہر گز علیحدہ نہ ہوں اور آپس میں باتیں کرتے ہوئے جائیں،تاکہ چیتا ان پر وارکرنے کی جرات نہ کر سکے۔
چاند مشرقی پہاڑیوں کے پیچھے سے جھانک رہا تھا اور اب اس کی روشنی اچھی طرح جنگل کو منور کررہی تھی۔ میرے سامنے کوئی پچیس تیس فٹ کے فاصلے پر وہ جھاڑیاں تھیں جہاں چیتا چرواہے کی لاش گھسیٹ کر لایا تھا اور یہیں بیٹھ کر کر اس نے پیٹ بھرا تھا۔ جھاڑیوں اور گنجان درختوں کا سلسلہ میرے چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ میں نہایت صبرو سکون کے ساتھ چیتے کا انتظار کرنے لگا۔ رات کے دو بج گئے۔ جنگل کے باسی اپنی پانی جگہ دبکے ہوئے چپ چاپ سو رہے تھے اور کوئی آواز اور کسی قسم کا شور سنائی نہ دیتا تھا۔ میں نے غنودگی دور کرنے کے لیے تھرماس کھول کر چائے کے چند گھونٹ حلق میں اتارے، پھر پائپ سلگایا اور ابھی تین چار کش لگائے تھے کہ کچھ فاصلے سے خشک پتوں کے چرچرانے کی ہلکی سی آواز آئی۔میں نے فوراً پائپ جھاڑ کر جیپ میں رکھ لیا اور اعشاریہ بارہ کی شاٹ گن سختی سے تھام کر مستعد ہو گیا۔ یقیناً کوئی جانور ادھر آرہا تھا۔ پھرمیں نے اسے جھاڑیوں میں سے برآمد ہوتے دیکھا۔ اس کی زرد آنکھیں تاروں کی مانند چمک رہی تھیں۔جھاڑیوں میں سے سر نکال کر اس نے اپنی پتلی گردن گھمائی،گردوپیش کا جائزہ لیا اور مطمئن ہو کر کھلی جگہ میں نکل آیا، اب وہ چاند کی روشنی میں پورے قدوقامت کے ساتھ شاہانہ انداز میں کھڑا نظر آرہا تھا۔میں نے سانس روک کر نشانہ لیا اور اس کی کھوپڑی پر فائر کیا۔ فائر کا دھماکہ ہوتے ہی چیتا فضا میں اچھلا اور گرجتا ہوا جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔
(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *