نہیں آنا کہ اب آوازِ پا سے چوٹ لگتی ہے

نہیں آنا کہ اب آوازِ پا سے چوٹ لگتی ہے
مرے احساس پر تیری صدا سے چوٹ لگتی ہے

تجھے خود اپنی مجبوری کا اندازہ نہیں شاید
نہ کر عہد وفا ُ عہد وفا سے چوٹ لگتی ہے

یہ سب باتیں مناسب ہیں مگر پھر بھی میرے ہمدم
تغافل کی ترے ہلکی ادا سے چوٹ لگتی

ہواو تم ذرا ٹھہرو نہ خوشبو ایسے بکھراو
ہوں نازک میں مجھے باد صبا چوٹ لگتی ہے

یہ خط اپنے سنبھالو تم، حسیں لمحے بھی لے جاو
ہمیں ایسی محبت کی عطا سے چوٹ لگتی ہے

تمہارے بعد رنگینی کوئی بھاتی نہیں مجھ کو
ہتھیلی کو بھی اب رنگ حنا سے چوٹ لگتی ہے

میری دھڑکن میں جن بے تابیوں نے ڈیرا ڈالا ہے
انہی بے تابیوں کی انتہا سے چوٹ لگتی ہے

بہت حساس ہے زریاب کو جھکنا نہیں آتا
قبا پھولوں کی بھی ہو تو قبا سے چوٹ لگتی ہے

ہاجرہ نور زریاب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *