آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 11

یکایک بیل رک گئے اور گردنیں ہلاہلاکر منہ سے خوخو کی آوازیں نکلانے لگے۔میں نے فوراًرائفل سنبھالی اورلالہ جی کو ایک درخت پر پناہ لینے کا اشارہ کیا۔ بیلوں کا یوں رکنا خطرے کی علامت تھی۔ میں گاڑی سے اترا اور گاڑی کا رخ بدل کر اسے دوسری سمت میں کھڑا کر دیا۔ شام کے ساڑھے پانچ بج رہے تھے اور سورج پہاڑیوں کے عقب میں غائب ہو گیا تھا۔مجھے خدشہ تھا کہ یہاں ریچھ کے بجائے کوئی درندہ چھپا ہوا ہے،ممکن ہے وہ چیتا ہی ہو۔
ایک درخت کے نیچے رک کر میں نے اردگرد غور سے دیکھا۔ کوئی خاص بات محسوس نہ ہوئی۔اپنا شبہ دور کرنے کی غرض سے میں پھر گاڑی کی طرف گیا اور بیلوں کوہانک کر پہلی جگہ پر لایا، لیکن کوشش کے باوجود بیلوں نے قدم بڑھانے سے انکار کر دیا۔ اب مجھ پورا یقین ہو گیا۔ایک درخت پراچانک نگاہ پڑی تو تین بندر دکھائی دیے جو بری طرح سہمے ہوئے اور بالکل بے حس و حرکت بیٹھے تھے۔ بندروں کا یوں دہشت زدہ ہو کر بیٹھنا خالی از علت نہ تھا۔ سابقہ تجربے اور مشاہدے نے فوراً میرے کان میں کہا کہ یہ چیتا ہے جس نے بندروں کوخوفزدہ کر رکھا ہے۔بندر جانتے ہیں کہ چیتا آسانی سے درخت پر چڑھ کر انہیں پکڑ سکتا ہے اور ان کے خاموش بیٹھنے اور جنبش نہ کرنے کی یہی ایک وجہ تھی۔ چیتے کی جگہ اگر شیر ہوتاتو بندر چیختے چلاتے اور شوخیاں کرتے، کیونکہ انہیں معلوم ہے، شیر درخت پر چڑھنا نہیں جانتا۔میں نے بندروں کی نظر کا تعاقب کیا کہ بندر ٹکٹکی باندھے کس طرف دیکھ رہے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مکار درندہ نالے میں چھپا ہوا ہے۔لالہ بدری رام جس درخت پر چڑھے ہوئے تھے،وہ نالے کے بالکل قریب تھا۔اب اگرمیں لالہ جی سے کہتا کہ ذرا نظر دوڑا کر چیتے کا سراغ لگائیے تو ظاہر ہے ان کی روح پھڑ پھڑا کر جسم کی قید سے آزاد ہو جاتی۔کچھ عجب نہیں کہ غش کھا کر نیچے گر پڑتے، چنانچہ میں انہیں بتائے بغیر کہ چیتا نالے میں چھپا ہوا ہے اور ایک لمبا چکر لے کر نالے کے دائیں کنارے پر پہنچا۔لالہ جی غالباً میری اس نقل و حرکت کا بغور جائزہ لے رہے تھے کہ معاً انہوں نے بیٹھے بیٹھے نعرہ لگایا:
’’ریچھ۔۔۔ریچھ۔۔۔‘‘
میں حواس باختہ ہو کر پیچھے پلٹا۔کیا دیکھتا ہوں،ایک بھاری بھرکم ریچھ درختوں کے جھنڈ سے اچھلتا اور غراتا ہوا برآمدہوا۔مجھ سے اس کا فاصلہ چند فٹ سے زائد نہ تھا اور مجھے سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا کہ وہ د انت کٹکٹا کر مجھ پر حملہ آور ہوا۔ فائر کرنے کی مہلت ہی نہ تھی۔ میں جلدی سے پیچھے ہٹ گیا، ورنہ اس کا پنجہ میری گردن کا گوشت نوچ کر لے جالا۔ لالہ جی پھر چلائے:
’’گولی چلائیے۔‘‘
مجھے خوب معلوم تھا کہ چیتا نالے میں موجود ہے اور غالباً وہ ریچھ کے خوف ہی سے وہاں چھپا ہوا تھا۔میں نالے میں کودتا ہوں تو چیتا ہر گز ہر گز مجھے زندہ نہ چھوڑے گا۔ ریچھ میری طرف لپکا اور مجھے اپنے بازوؤں میں جکڑنے کی کوشش کی۔ میں نے رائفل اس کے سر پر دے ماری، مگر اس پر بلا پر کیا اثر ہوتا؟اب میں نالے کے بالکل کنارے پر پیر جمائے کھڑا تھا۔ ذرا پیچھے ہٹتا تو دھڑام سے نیچے جا گرتا۔ موت کے بھیانک قہقہے میرے کانوں میں گونجنے لگے۔لالہ بدری رام کے چیخنے چلانے کی آواز جیسے میلوں دور سے آرہی تھی۔ایک ثانیے کے لیے میں نے گردن کو ذرا خم دیا اور نالے میں دیکھا، چیتے کی جھلک دکھائی دی۔وہ منہ دوسری طرف کیے، دبے پاؤں نالے کی پرلی طرف دبکا بیٹھا تھا۔ ریچھ کی دہشت اس پر بھی اثر انداز ہو رہی تھی۔
اب میں پھرتی سے نالے میں کود گیا اور چیتے پر فائر کیا۔ ایک ہولناک گرج سے چیتا اچھلا۔ گولی اس کی گردن کو مس کرتی ہوئی اندرونی مٹی میں کھب گئی۔ میں دوسرا فائر کرنے ہی والا تھا کہ چیتا جست کرکے نالے سے نکلا اور ریچھ سے ٹکرا گیا۔ ریچھ قلا بازی کھا کر گرا، مگر فوراً ہی اس نے پوری قوت سے چیتے کو پنجہ رسید کیا۔ چیتا پھر لڑکھڑا تا ہوا نالے میں آن گرا۔ اب وہ خون میں لت پت تھا۔ اس کا جبڑا ہیبت ناک انداز میں کھلا ہوا تھا اور اس کی لرزہ خیز چیخوں سے جنگل کی پوری فضا گونج رہی تھی۔
چیتے کا بس چلتا تو وہ آناًفاناً مجھے چیر پھاڑ کر برابر کر دیتا۔ میں اتنی دیر میں نالے کے دوسرے کنارے پر پہنچ چکا تھا، دوسرا فائر میں نے ریچھ پر کیا، گولی اس کے سینے میں لگی، لیکن کس بلا کی قوت اس میں پوشیدہ تھی قطعاً اثر نہ ہوا۔ جارحانہ انداز میں گرجتا ہوا میری طرف لپکا۔رائفل ایک طرف پھینک کر میں نے آٹھ انچ لمبے پھل کا چمکتا ہوا شکاری چاقو نکال لیا اور گھٹنوں کے بل جھک کر ریچھ کا انتظار کرنے لگا۔ چیتے کی دھاڑ اور مسلسل گرج سے ریچھ کی توجہ نالے کی طرف لگی ہوئی تھی اور یہی موقع تھا کہ میں نے چاقو ریچھ کی بائیں پسلی میں پوری قوت سے گھونپ دیا۔ گرم گرم خون کا ایک فوارہ سا ابل کر میرے چہرے اور کپڑوں پر آن گرا۔ ریچھ تیورا کر گرا اور اپنا سارا بوجھ مجھ پر ڈال دیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں بے پناہ تاریکی کے اندر غوطہ کھا رہا ہوں۔
ہوش آیا تو میرے چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا اور ناقابل برداشت بدبو سے میرا دماغ پھٹا جاتا تھا۔ میں نے ہاتھ ہلانے کی کوشش کی تو سیاہ کھردرے بالوں کا گچھا میرے ہاتھ میں آیا۔اب مجھے معلوم ہوا کہ میں مرے ہوئے ریچھ کے قریب پڑا ہوا ہوں۔اس کے وزنی دھڑ اور گردن نے مجھے دبا رکھا تھا۔ پھر مجھے لالہ بدری رام یاد آئے۔میں نے انہیں پکارنا چاہا، تو پہلے حلق سے آواز ہی نہ نکلی، پھر تکلیف کے باعث ہلکی سی چیخ نکل گئی۔
معاً کچھ فاصلے سے ایسی آواز آئی جیسے کوئی جانور درخت پر چڑھنے کی کوشش کررہا ہے۔ذہن میں فوراً زخمی چیتے کا خیال آیا اور مجھ میں مدافعانہ قوت از سر نو پیدا ہو گئی۔ریچھ کی لاش دھکیل کر میں بڑی مشکل سے اٹھا اورپھولا ہوا سانس روکنا چاہا،کیونکہ رات کی تاریکی میں چیتے کے لیے ترلقمہ بننا پسند نہ کرتا تھا۔ ٹٹول ٹٹول کر رائفل تلاش کی، پھر ریچھ کی پسلی میں کھبا ہوا چاقو نکالا اور پیٹ کے بال چلتا ہوا اسی نالے کی طرف چلا۔چیتے سے محفوظ رہنے کی وہی بہترین جگہ تھی۔ ابھی چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ ایک بار پھر کھڑکھڑ کی آواز سنائی دی اور میں وہیں ساکت ہو گیا اور غور سے اس طرف دیکھنے لگا۔ایک اونچے درخت کی شاخوں میں چھپا ہوا سفید سفید سا جانور نظر آیا۔ میں سوچنے لگا یہ چیتا تو نہیں ہو سکتا، کوئی اور ہی جانور ہے۔ممکن ہے کوئی الو یا بندر ہو، مگر اس کا رنگ سفید تو نہیں ہو سکتا۔ میں نے آہستہ سے رائفل سیدھی کی اور نشانہ لے کر فائر کرنے ہی والا تھا کہ دفعتہً ایک اور خیال بجلی کی مانند میرے ذہن میں آیا اور میں نے فوراً لبلبی سے انگلی ہٹالی۔۔۔مجھے یاد آیا یہی وہ درخت ہے جس پر میں نے لالہ بدری رام کوچڑھنے کی ہدایت کی تھی۔(جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *