آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 10

مجھے بیرا پجاری کو یوں دیکھ کر نہ جانے کیوں رنج ہو رہا تھا۔تھوڑی دیر بعد اس کے بے حس و حرکت جسم میں جنبش ہوئی، وید نے جلدی سے اپنی عجیب و غریب دوا کے چند قطرے پھر اس کے حلق میں ٹپکائے اب بیرا نے بری طرح پیر پٹخنے شروع کر دیئے اور دیکھنے والوں نے خوف سے لرز کر آنکھیں بند کرلیں۔صاف نظر آرہا تھا کہ بد نصیب آدمی پر جانکنی کی سی حالت طاری ہے مگر بوڑھے وید کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر مجھے کچھ شبہ ساہوا کہ وہ اپنے علاج میں کامیاب رہا ہے۔یکایک بیرا نے مدہم آواز میں پانی مانگا۔وید کے اشارے پر فوراً ہی اسے پانی پلایا گیا۔چند لمحے چپ چاپ پڑے رہنے کے بعد آنکھیں کھول دیں اور وید نے ایک شخص کو گرم گرم دودھ لانے کا حکم دیا۔
سہ پہر تک بیرا کی حالت خاصی درست ہو گئی،اگرچہ نقاہت باقی تھی۔وید جی کی اس مسیحائی پر میں شسدر رہ گیا مگر بعد میں پتا چلا کہ جنگل کی ان جڑی بوٹیوں میں ایسے اثرات پوشیدہ ہیں کہ مردہ زندہ ہو جائے۔شام کو میرا اردلی وجے سنگھ ،جو پنجاب کا رہنے والا سکھ نوجوان تھا،پنگرام کے پوسٹ ماسٹر کو ساتھ لیے آگیا۔پوسٹ ماسٹر کا نام بدری رام تھا۔ اس نے آتے ہی شکایت بھرے لہجے میں کہا:
’’صاحب،اتنے دن ہوئے آپ کو خط بھیج رہا ہوں اور آنا تو درکنار آپ نے جواب تک نہ دیا۔اگر آپ کا اردلی آج میرے پاس نہ پہنچتا تو کل پرسوں میں خودآنے والا تھا۔ چیتے کی خون آشام سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔پرسوں اس نے بستی کی ایک عورت پر حملہ کیا اور اسے اٹھا کر لے گیا۔ گاؤں والوں نے اگلے روز صبح اس کی ہڈیاں مندر کے باہر پڑی پائیں۔اب مندر میں رہنے والے سادھوؤں اور پجاری کی جان خطرے میں ہے۔چیتے کے منہ کو انسانی خون لگ گیا ہے۔۔۔اگر۔۔۔‘‘
یکایک اس کی نظر کمبل میں لپٹے ہوئے بیرا پر پڑی۔ ٹمٹماتے ہوئے دیے کی مدھم روشنی میں وہ اسے بغور دیکھتا رہا۔ شاید پہچاننے کی کوشش کررہا تھا۔ بیرا ضعف کی شدت سے آنکھیں بند کیے پڑا تھا۔
’’تم اسے جانتے ہو بدری رام؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’اس کا چہرہ تو دیکھا بھالا ہے۔اس نے رک رک کہا:’’مگر یاد نہیں آتا کہ اسے کہاں دیکھا تھا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ اٹھا اور بیرا کے سرہانے جاکھڑا ہوا جھک کر دیکھنے لگا۔ پھر یک لخت اس طرح ڈر کے پیچھے ہٹا جیسے سانپ نے ڈس لیا ہو۔
’’ارے،یہ تو بیرا پجاری ہے۔اسے کیا ہوا؟یہاں کیسے آیا؟‘‘اس نے میری طرف مڑ کر انتہائی حیرت خیز لہجے میں پوچھا۔
’’اگر یہ بچ گیا،تو خود ہی اس سے پوچھ لینا۔‘‘میں نے جواب دیا’’مجھے حیرت تو اس بات پر ہے کہ اتنا خون بہہ جانے کے باوجود یہ دھان پان آدمی اب تک زندہ کیسے ہے۔خیر اسے یہیں پڑا رہنے دو اردلی اس کی دیکھ بھال کرے گا۔میں اس کے بیوی بچوں کو بلانے کا انتظام کرتا ہوں۔‘‘
’’آپ کو فوراً میرے ساتھ چلنا چاہئے،چیتا اتنی دیر میں ایک دو آدمیوں کوہڑپ کر لے گا۔‘‘بدری رام کہنے لگا۔
’’ضرور چلوں گا،لیکن اس ریچھ سے تو نمٹ لوں جس نے بیرا کو زخمی کر دیا۔‘‘
’’تو یہ ریچھ کا کام ہے۔‘‘بدری رام خوف زدہ ہو کر بولا:’’ریچھ بڑا موذی اور کمینہ جانور ہے۔میں خود ایک مرتبہ ریچھ کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔اگر۔۔۔‘‘
’’یار، یہ قصہ بعد میں سنانا‘‘میں نے اکتا کر کہا ’’مجھے ذرا آرام کرنے دو۔سورج چھپنے سے ذرا پہلے میں ریچھ کی تلاش میں نکلوں گا۔ چاہو تو میرے ساتھ چلنا۔‘‘
’’نا صاحب‘میں باز آیا میں اس میدان کا آدمی نہیں۔‘‘بدری رام نے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیااور اٹھ کر باہر چلا گیا۔میں نے اردلی کو ہدایت کی کہ بیرا کو اندرون دالان پہنچا دیا جائے۔اس کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دے اور پتہ لگا کر اس کی بیوی بچوں کو بھی یہیں بلالے تاکہ وہ اپنے خاوند کی تیمارداری کر سکے۔ یہ ہدایات دے کر میں نے اپنے بکس میں سے ڈسپرین کی ٹکیاں نکال کر کھائیں اور بستر پر لیٹتے ہی آنکھیں بند کرلیں۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ میں بھی اس وید کی جڑی بوٹی کیوں نہ کھا کر بھلا چنگا ہوجاؤں لیکن میں بوجوہ یہ تجربہ نہ کرسکا ۔ اس نازک وقت میں میری طبیعت کا یوں خراب ہونا خود مجھ پر شاق گزر رہا تھا۔ عرصہ دراز تک جنگلوں میں پھرنے اور خونخوار،چالاک ،آدم خور اور کینہ پرور درندوں سے مقابلہ کرنے کے بعد میرا مزاج کچھ اس قسم کا بن چکا تھا کہ جونہی ایسے جانور کے بارے میں کچھ سنتا جو اچھا حریف بن سکتا تھا تو میرے اضطراب کی حد نہ رہتی۔ دن رات اسی کے تعاقب میں رہتا۔درندہ جتنا چالاک اور مکار ہوتا، مقابلے میں اتنا ہی لطف آتا۔تلوادی کے اس غیر معمولی ریچھ کو میں نے اب تک نہ دیکھا تھا۔ لیکن اس کی حرکتوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد یقین ہوتا جارہا تھا کہ مقابلہ خاصا کٹھن اور جاندار ہو گا اور اسی لیے میں جلد از جلد اس کے سامنے ڈٹ جانا چاہتا تھا۔مگر بخار اترنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔
میں جس مکان میں لیٹا ہواتھا،اگرچہ اس کے اندر حبس اور کسی قدر گرمی تھی، مگر میں نے اپنے گرد کمبل اچھی طرح لپیٹ لیا تاکہ پسینہ خوب آئے۔نیند تو نہ آئی، البتہ ایک گھنٹے بعد میرا جسم پسینے سے تر تھا اور بخار غائب ۔میں نے اٹھ کرگرم پانی سے ہاتھ منہ دھویا، دودھ کے دو گلاس پیئے، اپنی رائفل سنبھالی، شکاری چاقو پیٹی میں اڑسا اور اردلی کو بیل گاڑی لانے کا حکم دے کر بدری رام کی تلاش میں نکلا۔ میں نے انہیں گاؤں کی چوپال میں پایا جہاں وہ سادہ لوح کسان اور مزدوروں کے درمیان نہایت وقارا ور دبدبے سے بیٹھا اپنے سرکاری افسر، ہونے کا ثبوت دے رہے تھے۔ کسان اور مزور بدری رام کی باتیں بڑے غور سے اس طرح سن رہے تھے جیسے ان کا ہر لفظ کسی دیوتا کی زبان سے نکل رہا ہے۔
مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اٹھے اور بولے’’آہا، آپ کا بخار اتر گیا، کہیں اب کیسی طبیعت ہے۔ارے آپ تو کیل کانٹے سے لیس ہو کر آئے ہیں۔کیا میں بھی آپ کے ساتھ چلوں؟‘‘
آخری جملہ انہوں نے دیہاتیوں پر اپنی بہادری کا رعب گانٹھنے کے لیے کہا تھا، حالاں کہ انہیں اور مجھے اچھی طرح احساس تھا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔میں نے ان کے اس جملے سے فائدہ اٹھایا اور دل میں سوچا کہ آج موقع اچھا ہے،ذرا لالہ جی کا مزاج بھی درست ہو جائے۔میں نے آگے بڑھ کر بدری رام کا ہاتھ پکڑ لیا اورلوگوں سے مخاطب ہو کر بولا:
’’بدری رام جی مانے ہوئے شکاری ہیں۔اب تک سینکڑوں شیروں اور ریچھوں کو مار چکے ہیں۔اب میرے ساتھ جنگل میں اس ریچھ کو مارنے جائیں گے جس نے بیرا کو زخمی کیام ہے۔‘‘یہ سنتے ہی لالہ بدری رام کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ایک لمحے کے لیے گم سم کھڑے رہے۔پھر چہرے پر مصنوعی بشاشت پیدا کرکے بولے:
’’میں ہر طرح آپ کا ساتھ دینے کو تیارہوں۔چلئے کدھر چلنا ہے،لیکن میں اپنے ساتھ بندوق نہیں لایا۔‘‘
’’کوئی بات نہیں۔ایک فالتو رائفل میرے پاس ہے۔آپ وہ استعمال کیجیے۔‘‘میں نے مسکرا کر کہا اور بدری رام کو گھسیٹتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا۔ تھوڑی دور جانے کے بعد وہ گڑ گڑا کر کہنے لگا:
’’جناب عالی،میں نے کون سی خطا کی ہے جو آپ مجھے ساتھ لے جانے پر تلے ہوئے ہیں۔میرے باپ دادا نے کبھی رائفل نہ چلائی نہ شکار کا شوق کیا۔ خود کشی کی یہ کوششیں آپ ہی کو مبارک ہوں۔بندہ رخصت ہوتا ہے۔‘‘
’’میں پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ آپ ان بے وقوف کسانوں پر رعب جما رہے ہیں۔‘‘میں نے ہنس کر کہا:’’لالہ جی، اب تو خواہ کچھ ہو، آپ کو میرے ساتھ جانا پڑے گا ورنہ گاؤں والے کیا کہیں گے۔‘‘
’’گاؤں والے جائیں جہنم میں۔‘‘انہوں نے بگڑ کر کہا:’’میں تو آپ کو چیتے کی سرگرمیوں سے مطلع کرنے حاضر ہوا تھا، لیکن آپ ریچھ کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں،میں کل واپس چلا جاؤں گا۔‘‘
’’آپ تو ناراض ہو گئے لالہ جی۔۔۔‘‘میں نے کہا:’’اچھا آپ میرے ساتھ تو چلیے، کسی درخت پر یبٹھ کر تماشا دیکھیے گا۔ میں ذمہ لیتا ہوں کہ آپ کو کوئی نقصان نہ ہو گا۔ میری بات پر اعتبار کیجیے۔ریچھ اگر نہ ملا، تو سیدھا پنگرام آپ کے ساتھ چلوں گا۔‘‘
غرض اس قسم کی باتیں کرتا اور لالہ جی کو ورغلاتا ہوا بیل گاڑی تک لے آیا اور انہیں بٹھا کر تلوادی کی جانب روانہ ہوا۔ سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے ہی میں وادی کے اندر پہنچ گیا۔ یہاں سے ایک پگ ڈنڈی پنگرام اور دوسری انچتی کو جاتی تھی۔ لالہ جی تمام راستے خاموش رہے۔۔۔غالباً ریچھ کے تصور سے دل ہی دل میں ڈر رہے تھے۔ مجھے ریچھ کے ٹھکانے کا کسی حد تک اندازہ ہو گیا تھا۔ وہ یقیناً اس حصے میں رہتاتھا جہاں شہتوت کے درخت کثرت سے تھے۔(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *