فحش فلمیں بنانے والے ملزموں کابچیوں کو پہلے فحش فلمیں دکھانے، 10 بچیوں سے زیادتی کا اعتراف

گوجرانوالہ (سرفراز مہر سے ) گوجرانوالہ میں کمسن بچیوں کو فحش ویڈیو دکھا کر بلیک میل کرکے زیادتی کے بعد ویڈیو بنانے والے دونوں ملزمان پولیس نے حراست میں لے لیا، ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے دس بچیوں کے ساتھ ریپ کا اعتراف کرلیا، ملزمان نے بتایاکہ بیلنس کروانے آنیوالی لڑکیوں کو موبائل فون پر فحش فلمیں دکھاتے اور پھر بدفعلی کا نشانہ بنا دیتے تھے، تمام ویڈیوز پولیس نے قبضہ میں لے کر تفتیش شروع کردی، اس سانحہ کے بعد گاﺅں والوں کا ملزمان کو بچانے کیلئے بااثر سیاسی افراد کی دوڑیں لگ گئیں۔روزنامہ خبریں کے مطابق قصور واقعہ کے بعد گوجرانوالہ کے نواحی علاقہ کوہلووالہ میں کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیو وائرل کرنے کا انکشاف ہوا ہے ،ملزمان نے کوہلو والا گاﺅں میں اریان فوٹوسٹوڈیو اینڈ موبائل سنٹر کے نام پر دکان بنارکھی ہے جس کا مالک راشد خان ولد اکبر خان کا دوست طارق شاہ ایک جعلی پیر اور ڈیرہ چلاتا ہے۔ اخبار کے مطابق چند روز قبل پولیس کے ہاتھ ایک ویڈیو لگی جس میں ملزم راشد خان بچی کے ساتھ زیادتی کررہا تھا۔پولیس نے تفتیش کیلئے سائنسی طریقہ اپنایا اور راشد خان اور اس کے دوست طارق کو بچی کی فحش ویڈیو بنانے میں مصروف تھے دونوں ملزمان کو پکڑلیا اور تھانے لے جاکر تفتیش کی تو ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ راشد خان دکان کا مالک او رنجی سکول بھی چلارہا ہے۔ گاﺅں کی کمسن بچیاں دکان پر موبائل میں بیلنس ڈلوانے آتیں جن کو دونوں ملزمان پہلے فحش فلمیں دکھاتے اور بعد میں ان کے ساتھ زیادتی کرتے اور ویڈیو بناتے تھے، ملزمان نے دس معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی اور فحش ویڈیو بنانے کا اعتراف کیا ہے۔دوسری طرف طارق شاہ ایک دربار پر جعلی پیر بن کر بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے متعلق ڈیرے پر آئی خواتین کے ساتھ زیادتی کے متعدد واقعات پہلے بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔ پولیس اور حساس ادارے تحقیق کررہے ہیں کہ ملزمان فحش ویڈیو نیٹ پر وائرل تو نہیں کرتے، پولیس نے ملزمان کی دکان سے فحش ویڈیوزاور کیمرے اپنے قبضے میں لے لئے ہیں۔واقعہ کا پتہ چلتے ہی گاﺅں میں احتجاج ہوا جس میں لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی، شہریوں نے ملزمان کی دکان اور گھروں پر بھی حملے کئے جبکہ ملزمان کے ورثاءگاﺅں چھوڑ کر فرار ہوچکے ہیں۔ پولیس محتاط رویہ اپناتے ہوئے ملزمان سے تفتیش کررہی ہے۔ گاﺅں والوں کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو فوری پھانسی دی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *