ایس ایچ او تھانہ لدھیوالہ وڑائچ شبیر گل کی غنڈہ گردی تھانہ میں آئے سائلین کو شدید تشدد کا نشانہ بنا ڈالا تشدد کا نشانہ بننے والے افراد روڈ بلاک کرکے سراپا احتجاج

لدھے والہ وڑائچ (چوہدری محمد نصیر مہر سے )پولیس کا ایک اور کارنامہ ملزموں سے صلح نہ کرنے پر ایس ایچ او نے مدعی کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا اور وجہ پوچھنے پر اس کے وارثان اور معززین علاقہ پر ایس ایچ او کی تھانے میں بلا کر تھپڑوں کی بارش جس میں بزرگوں کو بھی نہ بخشا گیا متاثرین نے احتجاج کرتے ہوئے ٹائر جلا کر مین حافظ آباد روڈبلاک کر دیا۔تفصیل کے مطابق نواحی گاوں مان میں رانا اور جٹ گروپ میں کافی عرصہ سے زمین کے تنازعہ پر دشمنی چل رہی ہے جس میں رانا برادری کے دو اور جٹ برادری کا ایک فرد قتل ہو چکا ہے گزشتہ روز پولیس نے رانا گروپ کے ناصر ولد محمدبشیرکے خلاف مقدمہ نمبر53/18درج کرکے اس کو ڈیرے سے اٹھا لیاجوکہ 302کے مقدمہ کا مدعی بھی ہے جب اس کے وارثان کو پتہ چلا تو وہ اور کچھ علاقہ معززین تھانے گئے تووہاں سے ناصر غائب تھا اور مقدمہ کی وجہ پوچھی تو ایس ایچ او سیخ پا ہوگیا اور تما م افراد پر تھپڑوں کی بارش کردی جس میں بزرگوں کو بھی نہ بخشا گیا ۔ اس پر اہل علاقہ نے احتجاج کرتے ہوئے ٹائرجلا کر روڈ بلاک کردیا جس سے گھنٹوں ٹریفک بلاک رہی اور گاڑیوں کی دو کلومیٹر تک لمبی لمبی قطاریں لگ گئی مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او شبیر گل جٹ گروپ کا رشتہ دار ہے اور یہ ہم پر صلح کے لئے دباو ڈالتا ہے اور کچھ دنوں پہلے بھی اس نے پیغام بھیجا تھا کہ ملزموں سے صلح کولو لیکن جب ہم نا مانے تو اس نے ہمیں مختلف حیلوں بہانوں سے تنگ کرنا شروع کردیا رانا عدنان نے کہا کہ گرفتار ہونے والا شخص میرا چاچو ہے اور یہی ہمارے قتل ہونے والے افراد کا مقدمہ مدعی بھی ہے اور ان پر جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے تا کہ اس کو ڈرایا دھمکایا جا سکے جس کو اس مقدمہ کا مدعی بنایا گیا ہے اس کو ہم جانتے تک نہیں اور نہ ہی وہ ادھر کا رہنے والہ ہے یہ سارا ڈرامہ پولیس ملزم پارٹی سے مل کرکر رہی ہے کیونکہ ان سے باری رشوت لیکر ساز باز کررکھی ہے اور ہمیں صلح کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور مختلف مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں مل رہی ہیں ہم اس مسئلے کے لئے ایس پی کے پاس بھی گئے لیکن وہاں بھی ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوئی لہذا مظاہرین نے اعلی احکام سے اپیل کی ہے کہ ایس ایچ او کے خلاف کاروائی کی جائے کیونکہ یہ ہماری دشمنی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے اس کے بعد مظاہرین پرامن طور منشر ہوگئے لیکن پولیس کا کوئی افسر مذاکرات کے لئے موقع پر نہ پہنچا جب پولیس سے رابطہ کرکے موقف لینے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ یہ ہمارا کام ہے ہمیں کرنے دیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *