یہ بھی ایک تصویر ہے معاشرے کی

اے آر طارق


فیکٹری ایریا بھی کیا خوب ہے اور اس میں کام کرنے والے افراد بھی کیا خوب ہیں،جن کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں۔مالک سے لیکر جی ایم ،عام ورکر سے لیکر گیٹ کیپر تک کسی کے بھی مز اج بخیرنہیں ہوتے۔
فیکٹری میں موجود ہرایک ،اپنے آپ کو دودھاری تلوار کی طرح سمجھتا ہے اور گاہے بگاہے مختلف موقعوں پر اس کا مظاہرہ آپسی نوک جھونک ،طنزومزاح،گالم گلوچ کی صورت میں کرتا ہے۔اگر نوبت لڑائی جھگڑا پر آجائے تو ایک دوسرے پر لفظوں کی بوچھاڑ کرتے ایسی ایسی گالیاں دی جاتی ہیں کہ خداپناہ۔ایسے میں اس بات کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا کہ فیکٹری میں مردوں کے علاوہ عورتیں بھی موجود ہیں۔ایک دوسرے کی ماں بہن ایک کردی جاتی ہے۔اس موقع پر بجائے اس کے کہ ’’موجودگی صنف نازک‘‘ احتیاط برتی جائے ،ایسا لگتا ہے کہ اس موقع کی مناسبت سے عورتوں کو بھی ان غلیظ گالیوں سے محظوظ کیا جاتا ہے۔ایسے میں اگر بات ہاتھا پائی تک پہنچ جائے تو منظر کسی بھی پاکستانی فلم ،جس میں خوب مار ڈھار ہوتی ہے سے کم نہیں ہوتا ،تھپڑوں گھونسوں،لاتوں کی خوب برسات ہوتی ہے۔اس موقع پر جس نے کبھی بھی کسی کو اف یا کچھ نہ کہا ہو ،وہ بھی تگڑا اور مخالف پر دو دو ہاتھ صاف کرتا نظر آتا ہے۔اور اس پر ایسے نازاں نظر آتا ہے جیسے کوئی قلعہ فتح یا سومنات کا مندر ڈھا آیا ہوں۔اس موقع پر اس کی باڈی لینگوئج اس کی باڈی سے چاہے، کسی بھی طرح میچ نہ کر رہی ہو۔اپنے آپ کو کانگڑی پہلوان ہوتے ہوئے بھی رستم پہلوان ،بھولو پہلوان سے کم نہیں سمجھے گا۔اس بات سے قطع نظر کہ یہ کامیابی اس کی انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی اور گروپ کی مرہون منت ہے ،ورنہ جو کارنامہ اس نے انجام دیا،وہ اکیلے ہوتے اس کو انجام دینے کی پوزیشن میں شائد اس طرح سے نہ ہوتا۔جیسے اجتماعی طور پر ادا کر بیٹھا۔ایسے میں اگر سامنے والا اس سے مار کھا جائے یا دب جائے تو اس کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں اور اس کی دھاک بیٹھ جاتی ہے یارانہ بے وفا میں۔جس پر وہ پھولے نہیں سمائے پھرتا ہے ۔جس کے غبارے سے ہوا اس وقت نکلتی ہے جب وہ اسی جگہ کسی دوسرے سے انہی دوستوں کے سامنے ذلیل ورسوا بلکہ عتاب وسزا کا حقدار ٹھہرتا۔تاہم فیکٹری ایسی جگہ ہے ،جہاں اس کا ہی زور چلتا،جوافرادی قوت میں زیادہ ہو یا اپنا ذاتی دم خم رکھنے والا۔ورنہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں پر جی ایم بمع عملہ تک مارپیٹ کا شکار ہوئے اور مالکان دم دبا کر بھاگ اٹھے۔اور بنا کچھ بھی نہیں۔ویسے یہ باغی ذہن ؍ اپنے ہی خیالوں میں کھوئے ،مگن،من مرضی کے مالک ،کسی کی نہ سننے والے ،جدید تھنڈر17پاکستانی لڑاکا جہاز کی طرح دشمن پر آنا فاناجھپٹنے والے ورکرز،ان ورکرز جوکہ ان تمام ترخوبیوں سے محروم ہیں کے لیے نعمت ثابت ہوتے ہیں جو مہذب زبان ،شائستہ بات کرنے کے قائل ہوتے۔کم از کم ان تھنڈر 17 پاکستانی لڑاکا جہاز کی طرح لڑاکا ورکرز کے مخالف پر کامیاب آپریشن کے بعد سکھ چھانتی سے رہ پاتے۔ایسے میں اس شعر کے مصداق ’’مصلحت نہ سکھا ،جبر ناروا سے مجھے ،میں سر بکف ہوں، لڑا دے کسی بلا سے مجھے ‘‘جیسی صفات سے محروم ورکرز کے لیے سائبان؍چھت یا چھتری کا کردار ادا کرتے ہیں۔جن کو خوامخواہ منہ لگانا یا تنگ کرنا کسی بھی طرح سینیئر کے فائدے میں کم ہی رہا ہے۔اکثر پنجابی فلم میں سلطان راہی کے ہر آن موجود گنڈاسہ ہی ثابت ہوا،جس کے وارد ہونے کا کوئی ٹائم پریڈ نہیں۔بس سلطان راہی کی موجودگی ہونی چاہیئے اور مصطفی قریشی جیسا شخص۔میدان سج گیا ۔اس کے لیے جگہ کے تعین کی ضرورت نہیں،نہ ہی کوئی سٹیج سجانا پڑتا،نہ ہی کوئی الگ سے اہتمام کرنا پڑتا،نہ ہی سڑکوں ،چوراہوں کھیتوں ،کھلیانوں ،ریگستانوں ،صحراوٗں کی ضرورت پڑتی۔بس گالیوں میں phd کی ہواور ہاتھ سٹرونگ ڈالنے کی ضرورت ہے اور مکا زور سے ،کس کر مارنا ہے کہ اگلے کی پیٹ کی انتریوں کے ساتھ ساتھ منہ کی بتیسی بھی باہر آجائے اور وہ درد سے کراہنے لگے۔ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مخالف کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں دینا اور اس سلسلے میں چوک نقصان کا باعث بنتی ۔بعدازاں ایک دوسرے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ایف سولہ بنتے موقع سے تتر بترہونا ضروری ہے ورنہ لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں اس لیے کہ سیانے کہتے ہیں کہ دشمن کو کبھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیئے ۔دوست ہزار بھی کم اور دشمن ایک بھی بہت ہوتا ہے۔بعض فیکٹری مالکان بااثر ہوتے ہیں اور غنڈہ گردی میں مشہور ہوتے ہیں اور بعض غندہ گرد عناصر کی مدد لیے ہوئے ہوتے ہیں ،اسی طرح بعض ورکرز گنڈہ گرد عناصر کے دست وبازو یا حامی ودوست ہوتے ،بعض اپنا ذاتی اثرورسوخ یا تعلق رکھتے کہ ’’ہیٹھلی اتلی‘‘ لے آندیں۔وہ حشر برپا کرتے کہ فیکٹری تاریخ میں مدتوں یاد رکھا جاتا۔فیکٹری کے ورکرز جہاں’’ کمال‘‘ کے ہوتے ہیں وہاں فیکٹری کے کرتا دھرتا بھی ’’باکمال ‘‘ قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔مختلف ہنروں سے مزین مالک سے لیکر جنرل مینجر تک کاری گر ٹائپ لوگ، شائستگی ووقار سے ناآشنا،جہالت کی چلتی پھرتی تصویر،ہر آن شیطان کا گمان ،گالیوں کا دستر خوان بچھائے موقع بہ موقع ۔بعض کا تو یہ عالم ہے کہ ان کو دیکھ کر ان کے انسان ہونے پر بھی گمان نہیں ہوتا۔جس ماں کی کوک سے جنم لیتے ہیں ،اسی کی تشہیر سے ہی ان کے دل ونگاہ ،زبان نہیں تھکتی۔ایسا ورد کرتے کہ جس کو الفاظ کی شکل میں ڈھالنا میرے لیے ممکن نہیں اور نہ ہی مجھ میں اتنی ہمت کہ اس کا اظہار اپنے کالم یا کھلے منہ زبان سے کرسکوں۔حیرت ہوتی ہے ایسے انسانوں کو دیکھ کر،جن کی زندگی کا نہ کوئی مقصد نہ ہی کوئی سمت ۔بس ایک ہی ورد،بس کیے جا رہے ہیں۔عورت کی عزت وحرمت پر حملہ،اس کے تقدس کو پامال کرناایسے لوگوں کا وطیرہ۔ایسے لوگوں کو باس کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔زبان بھی تنبیہہ کرتی ہے کہ اے انسانِ کس بندہ کو اپنا رہبر ،رہنماکہہ رہا،جو انسانیت کے درد اور محرومیوں سے نا آشنا، سماجی شائستہ رویوں کا انکاری ،زندگی کے بھانک روپ کا پجاری ہے۔ایسے لوگوں کو عزت راس نہیں ہوتی ۔ایسے لوگ ہر لمحہ ،ہر موقع اپنے سے جونیئر سے بے عزت ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور اس پر شرمندگی کی بجائے ڈھیٹ افراد کی طرح اڑے رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کا کوئی ضمیر نہیں ہوتا۔بے حس،خودغرض،بدفطرت انسان ہوتے ،سپولیا نما۔اپنوں کوتو ڈستے ہی ہیں ،غیروں کو بھی ڈنگ مارنے سے باز نہیں آتے، اکثر کسی نہ کسی ستائے ہوئے نیولے کے ہاتھوں گھائل ہوجاتے یاکام سے جاتے اور مزدور طبقہ کچھ دنوں تک کے لیے کسی نئے انسان نما سانپ کی آمد ہونے سے پہلے تک کچھ دنوں کے لیے ایسے لوگوں کے شر سے محفوظ ہو جاتا۔فیکٹری ایریا میں سنیئر کی ایک عادت جونیئر کو ٹیرے میڑے،برے یا غلط القابات سے نوازنا ہے ۔خیر اور بھلائی کی نعمتوں سے ناآشنا لوگ ،اپنا فائدہ کس میں ،کی صلاحیتوں کو بھی جانچنے سے بھی عاری ہوتے ہیں۔اپنے سے ماتحت کو غلط ناموں سے ایسے بلاتے ہیں کہ جیسے آپ خود قائد اعظم ثانی کا لقب پا چکے یا نشان جرات سے نوازے گئے ہو۔دوسروں کو نیچا دکھاتے خود دوسروں کی نگاہوں میں گر جاتے ہیں۔ خیر عجیب ودلچسپ مخلوق ہیں یہ ہنر مند ،سنیئر لوگ،اکثر زیادہ پڑھے لکھے نہ،اپنے ہنر کی بدولت تھوڑا پیسہ زیادہ کیا کما لیتے ہیں،کسی منصب پر کیا بیٹھ جاتے ہیں،مخلوق خدا کے کام آنے کا ،دوسرے لفظوں میں تجارت کا ،کام کا موقع کیا مل جاتا ہے تو اپنے آپ کو انسان کم ہی گردانتے۔خلائی مخلوق تصور کرتے ،جیسے اپنی گندی حرکتوں ،حواس باختہ نظروں،گالم گلوچ پرمبنی زبان؍شائستگی ووقار کے برخلاف مزاج پر اللہ کے حضور جواب دہ ہی نہ ہو۔خدا خیر کرے اس قوم پر ،کیا عجب وقت آیا ہے ۔پاکستان کے کرپٹ حکمرانوں کے بعد ملک میں زمانے کے بدخیال ،بدمزاج،عیاش لوگ سیاسی ،معاشی،معاشرتی طور پر خدا کے بھولے ہوئے لوگوں پر حکومت کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *