اسرائیل اور امریکہ کا امن عالم تباہ کرنے کا ایجنڈا

’’امریکا اسرائیل پبلک افیئر کمیٹی‘‘ ایپک کی سالانہ کانفرنس بعنوان ’’ایپک پالیسی کانفرنس2018ء ‘‘ واشنگٹن میں 4تا 6مارچ جاری رہی ، جس میں امریکی و اسرائیلی اعلٰی سطحی عہدیداروں سمیت امریکی جامعات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ایسے افراد نے شرکت کی جو امریکی شہری ہونے کے ساتھ ساتھ پرو اسرائیلی ہیں۔اس سالانہ اجلاس میں امریکی و اسرائیلی سیاست دانوں نے خطابات کئے اور امریکہ و اسرائیل کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے باتیں بھی کیں تا کہ مستقبل میں امریکہ کی طرف سے اربوں ڈالرز کے اسلحہ کی کھیپ اسرائیل کو صرف امداد کے نام پر دی جاتی رہے اور اس اسلحہ سے اسرائیل نہ صرف فلسطین کے مظلوموں کا قتل عام کرے بلکہ خطے بھر میں دہشت گرد گروہوں کو بھی امداد فراہم کرے اور دہشت گردی کو فروغ دے۔ یہاں پر امریکہ کی دنیا کے لئے امن اور امن کے قیام کے دعوے سب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں کیونکہ امریکہ اسرائیل کی سرپرستی کرتے ہوئے دہشت گردی اور دہشت گرد گروہوں کو وجود بخشنے میں براہ راست اور بالواسطہ ملوث ہو جا تا ہے اور پھر یہ دہشت گردی دنیا بھر میں کسی بھی مقام پرمعصوم انسانوں کو نشانہ بناتی ہے اور حکومتوں کو کمزور و غیر مستحکم کرنے کے امریکی واسرائیلی منصوبوں پر عملدرآمد کرتی ہے۔حالیہ ایپک کانفرنس میں جہاں متعدد امریکی و اسرائیلی سیاستدانوں ، قانون سازوں، امریکی سینیٹرز، امریکن کانگریس اراکین وغیرہ نے خطابات کئے وہاں اس کانفرنس کا خصوصی خطاب ہمیشہ کی طرح جعلی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے کیا ہے۔ایسے حالات میں کہ جب ایک طرف خود غاصب صیہونی ریاست کے اندرون خانہ نیتن یاہو کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں دوسری طرف امریکہ میں موجود صیہونیوں نے کرپشن کے الزامات میں گھرے نیتن یاہو کا گرمجوشی سے استقبال کیا ہے۔واضح رہے کہ نیتن یاہو نے اس خطاب سے ایک روز قبل ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے تین گھنٹے سے زائد دورانیہ کی ملاقات کی تھی اور خطے کے مسائل جس میں بالخصوص ایران سے متعلق ڈیڑھ گھنٹے سے زائد گفتگو کی گئی جس کا مقصد ایران کو نیوکلیئر انرجی حاصل کرنے کے معاہدے سے نکالنا تھا جو کہ ایران اور دیگر پانچ عالی طاقتوں کے مابین ہوا ہے جس میں امریکہ بھی شامل ہے۔سرزمین فلسطین پر غاصب جعلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایپک کانفرنس سے خطاب میں امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آغاز کیا اور کہا کہ ہمارے لئے بہت عظیم بات ہے کہ ٹرمپ نے یروشلم شہر کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے اور امریکن سفارت خانہ منتقل کیا جائے گا۔درا صل نیتن یاہو کا مقصد واضح ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس وقت موجودہ خطے کی صورتحال میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرے کہ جب ایک طرف شام میں دہشت گرد گروہوں نے شامی حکومت کے خلاف مسلح دہشت گردانہ کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں تو دوسری طرف لبنان میں صدارتی انتخابات کا وقت ہے، اسی طرح تیسری طرف مصر ہے کہ جہاں حال ہی میں محمد بن سلمان نے دورہ کیا ہے جو کہ خود بھی امریکہ کا ایک بڑا اتحادی ہے، جبکہ اردن کا معاملہ اسرائیل کے لئے زیادہ اہم نہیں کیونکہ وہاں پہلے ہی مظاہروں کا آغاز ہو چکا ہے اور اسرائیل کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ باقی رہی پاکستان کی بات تو پاکستان کے خلاف امریکی بیان بازی اور پھر اسرائیل کا ہندوستان کا دورہ اور اس سے قبل ہندوستانی وزیر اعظم مودی کی اسرائیل یاترا در اصل پاکستان کے خلاف دونوں صیہونی قوتوں کے ناپاک عزائم کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔عراق کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے کہ جہاں دہشت گردی کے مسئلہ سے نمٹاجا رہا ہے، دیگر مسلم ممالک کی بات کریں تو عرب ممالک کا اتحاد پہلے ہی یمن میں جنگ مسلط کر چکا ہے ، تو اب لے دے کر ایران ہی رہ گیا ہے کہ جو خطے میں امریکی و صیہونی ناپاک منصوبوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور فلسطین کاز کا سب سے بڑا حمایت گذار بھی ہے کہ جس کا خود فلسطین کے عوام اور فلسطین کی تمام سیاسی و مزاحمتی جماعتیں مختلف اوقات میں اعتراف کر چکی ہیں۔بہر حال ایسے موقع پر نیتن یاہو کی جانب سے ٹرمپ کے شیطانی منصوبے یعنی القدس شہر میں امریکی سفارت خانہ کی منتقلی اور القدس شہر کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنے کی یاد دہانی کروانا یقیناًاسرائیل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ درج بالا خطے کی صورتحال میں فلسطین کے بارے میں حتمی طور پر اسرائیلی تسلط کو جگہ مل جائے اور اسرائیل سمیت امریکہ کو کسی مزاحمت کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔اس موقع پر نیتن یاہو نے ایپک کمیٹی کے امریکی اعلی عہدیدار ڈیوڈ فرایئڈ مین کا نام بھی لیا اوراعلان کرتے ہوئے کہا کہ یروشلم میں منتقل ہونے والے امریکی سفارتخانہ کا پہلا امریکی سفیر ڈیوڈ فرایئڈ مین ہو گا۔نیتن یاہو نے اسرائیل کے خطر ناک ترین ایٹمی پلانٹ ڈائمونا کے قیام میں امریکی حکومت کا بے پناہ شکریہ ادا کیا کہ جس کے باعث اسرائیل کے پا س چار سو کے قریب ایٹم بم ہیں جبکہ یہی امریکہ اور اسرائیل ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک بشمول شمالی کوریا اور ایران سمیت پاکستان جیسے ممالک کے ایٹمی انرجی کے منصوبوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔نیتن یاہو نے اسرائیل کی خفیہ اور دہشت گرد ایجنسی موساد کی تعریف کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو بتایا کہ ان کی اس خفیہ ایجنسی کی وجہ سے آج نہ صرف صیہونی محفوظ ہیں بلکہ دنیا کے عام انسانوں کو بھی امن حاصل ہے جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے کہ یہی موساد ماضی میں نہ صرف امریکی جہاز کو نشانہ بنا کر تباہ کر چکی ہے جس میں سیکڑوں امریکی شہری جاں بحق ہوئے تھے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں اہم شخصیات کا قتل اور اغوا کرنا اس خفیہ ایجنسی ہی کے کارنامے ہیں جس کی بدولت دنیا کے متعدد ممالک پریشان ہیں۔نیتن یاہو نے اسرائیل کی بڑھتی ہوئے فوجی تعداد پر بھی فخر کیا ہے اور امریکی شہریوں کو بتایا ہے کہ یہ سب صرف اور صرف امریکی امداد اور تعلقات کے باعث ہو رہاہے جس پر وہ مسلسل امریکہ کا شکریہ ادا کرتے رہے، حتیٰ امریکی صدر کو ایک گریٹ صدر کا لقب بھی دیا۔نیتن یاہو نے مقبوضہ فلسطین میں موجود قدرتی ذخائر سے حاصل شدہ فوائد کو بیان کیا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ سب وسائل و ذخائر جن پر صیہونی جعلی ریاست قابض ہے فلسطین و فلسطینیوں کے ہیں جس کو نیتن یاہو نے ایپک اجلاس میں اپنا اپنا کا راگ الاپ کر اسرائیلی مہر ثبت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ہمیشہ کی طرح اسرائیلی وزیر اعظم ایران سے متعلق نفسیاتی دباؤ کا شکار رہے جہاں انہوں نے امریکی و اسرائیلی کارکنان ایپک کو مختلف حیلے بہانوں سے خوش کرنے کی کوشش کی وہاں ان پر ہمیشہ کی طرح ایران سے متعلق نفسیاتی دباؤ برقرار رہا، انہوں نے ایران کے نیوکلئیر منصوبوں پر نقطہ چینی کی جبکہ اپنی اسی تقریر میں اسرائیل کے نیوکلئیر پلانٹ ڈائمونا کی بڑھتی ہوئی کارکردگی کا خوشی سے اعلان کیا اور امریکی تعاون پر شکریہ ادا کیا۔وہ شدید پریشانی کے عالم میں کہتے رہے کہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں نے معاہدہ کر کے شدید غلطی کی ہے اور امریکہ کو چاہئیے کہ اس معاہدے سے نکل جائے کیونکہ اس معاہدے سے ایران آئندہ دس سالوں میں مزید نیوکلئیر انرجی حاصل کرے گا جو ہم نہیں چاہتے۔خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ ہو یا پھر اسرائیل ، اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ خطے کے امن کو تباہ کرنے میں یہ خود ملوث ہیں، دہشت گرد ی کو فروغ دے رہے ہیں، دہشت گرد گروہوں کا قیام عمل میں لاتے ہیں، فلسطین میں انسانیت سوز مظالم کے ذمہ دار ہیں، دنیا کے دیگر حصوں میں مداخلت کرتے ہیں، انسانی حقوق کی پائمالی کرتے ہیں، بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روند ڈالتے ہیں، انسانیت کی تذلیل کرتے ہیں، نیتن یاہو کی جانب سے امریکی حکومت کا ان تمام جرائم پر شکر گذار ہونا دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم امہ اپنے مشترکہ دشمن امریکہ کی مکمل شناخت حاصل کرے اور اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *