بیانیہ اور بدزبانیہ 

افراد کی باہمی دشمنی اورعداوت تو سمجھ آتی ہے مگر ارباب اقتدارواختیارکی ریاست اور ریاستی اداروں کے ساتھ عداوت جبکہ آئینی اقدامات کیخلاف سیاسی مزاحمت ناقابل فہم اورناقابل برداشت ہے۔پاکستان کی طاقتوراشرافیہ آئین وقانون کوموم کی ناک سمجھتی اور اپنے بچاؤکیلئے اسے باربارتوڑتی مروڑتی ہے۔ نوازشریف تیسری باربھی ایوان اقتدارسے کیوں نکالے گئے ہم اس کافیصلہ تاریخ پرچھوڑدیتے ہیں تاہم تینوں بار بدعنوانی کوبنیادبنایاگیا مگر موصوف نے ریاست کیخلاف بغاوت کاعلم بلندکردیااورقوم کو مجیب الرحمن کادکھڑاسنایااوراسے راہ حق پربتایا۔نوازشریف کی نااہلی بارے عدالتی فیصلہ تسلیم کرنے کے باوجودعوامی اجتماعات اورٹی وی ٹاک شوزمیں عدلیہ پر تنقید وتضحیک کے تیربرسائے جارہے ہیں۔ نوازشریف تین باروزیراعظم منتخب ہوئے لہٰذاء وطن عزیز کے آئین اورہماری آزاد عدلیہ کااحترام کرنا ان پر دوسروں سے زیادہ فرض اورقرض ہے۔عدالت عظمیٰ سے نااہلی کی ہیٹرک کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن)کے قائد نوازشریف اوران کے حامیوں کابیانیہ تبدیل ہوتے ہوتے ” بدزبانیہ”ہوگیا ہے۔ نوازشریف کی شخصیت اوران کے طرز سیاست پر” اوروں کونصیحت خودمیاں فضیحت”کامحاورہ پوری طرح صادق آتا ہے۔پیپلزپارٹی کے منتخب وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کوان کی عدالت سے نااہلی پر نوازشریف نے جونصیحت کی تھی اپنی نااہلی پرانہیں وہ نصیحت کیوںیاد نہیں۔توہین عدالت میں سزایافیہ حکمران جماعت کے سابق سینیٹر نے حالیہ رہائی کے بعد معذرت خواہانہ ،سنجیدہ اورسلجھی گفتگوکرنے کی بجائے آئینی اداروں کیخلاف اشتعال انگیز لہجے میں پریس کانفرنس کرکے اپنے سیاسی آقاؤں کوخوش کرنے کی کوشش کی،جوعدالت کی عزت نہیں کرتااسے حکمران، سیاستدان یا قانون دان کہناہرگز مناسب نہیں،کوئی ٹریڈر یا ڈیلر ڈیل اورڈھیل کے بل پرتین باروزیراعظم تومنتخب ہوسکتا ہے مگر لیڈریعنی نجات دہندہ نہیں بن سکتا۔قیام پاکستان کیلئے ہمارے پاس قائداعظم ؒ تھے آج استحکام پاکستان کیلئے ہمیں کسی وزیراعظم یامغل اعظم نہیں بلکہ ایک نجات دہندہ کی ضرورت ہے۔ اس کووزیراعظم منتخب کیاجائے جو آئین وقانون اورقوم کوجوابدہ ہو،جوکسی مغل اعظم کی طرح احتساب سے استثنیٰ چاہتا ہے اسے مسترد کردیاجائے۔پچھلے دنوں نوازشریف کومسلم لیگ (ن)کاتاحیات قائد اور شہبازشریف کوقائمقام صدر مقررکیا گیا ۔کچھ باکردارلوگ عہدوں کے بغیر بھی اپنے عہدکا جلی عنوان بن جاتے ہیں اورکچھ عناصرکو پارٹی کااعلیٰ عہدہ ہونے کے باوجود سیاسی اچھوت ماناجاتاہے ۔”قائد”کاخطاب یالقب قوم سے ملتا ہے خوداپنایانہیں جاسکتا،جس طرح بابائے قوم محمدعلی جناحؒ کیلئے قائداعظم،خان لیاقت علی خان شہیدؒ کیلئے قائدملت اور ایٹمی پاکستان کے معمار ذوالفقارعلی بھٹوشہیدکیلئے قائدعوام کاخطاب انہیں قوم نے ان کے کرداروافکار کی بنیادپردیاتھا۔ نوازشریف تو”پرچی ”کے بغیر پریس کانفرنس یاعوامی اجتماع سے خطاب نہیں کرسکتے ۔شنید ہے” پرچی ”سے بات” پرچوں” اورجاتی امراء سے جیل تک جانیوالی ہے کیونکہ آزاد ،بیداراوربدعنوانی سے بیزارعدلیہ دباؤمیں آئی اورنہ آئے گی ۔اس بار کوئی این آراونہیں بلکہ بے رحم احتساب ہوگا۔قومی معیشت میں نقب کیلئے بنائے جانیوالے سوراخ بندکرنے کیلئے چوہوں اور عادی چوروں کوکیفرکردارتک پہنچانا ازبس ضروری ہے ۔
ہمارے میڈیاکوبھی ایک ضابطہ اخلاق بنانے کی ضرورت ہے ،جو لوگ آئینی اوردفاعی اداروں پرحملے کررہے ہیں انہیں بے نقاب اوران کابائیکاٹ کیاجائے،سیاسی بونوں کوضرورت سے زیادہ اہمیت یعنی کوریج نہ دی جائے۔بدعنوانی کے ارتکاب پرقانون کے شکنجے میں آنیوالے بدزبانی پراتر آئے ہیں،ہمارامیڈیاقومی حمیت اورمصلحت کے تحت ان کا ”بدزبانیہ” ہرگزنشر نہ کرے۔پچھلے دنوں لاہورمیں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمنٹرین شیخ رشید نے پارلیمنٹ پرایک بارلعنت بھیجی توحکمران جماعت اوراتحادیوں کی طرف سے عمران خان اورشیخ رشیدپرذاتی حملے کئے گئے اوراس بات کوہزارباردہرایا جبکہ حکمران جماعت کی طرف سے عدلیہ پرتنقیداوراس کی توہین کرنااپنابنیادی حق سمجھ لیا گیا ۔وفاق اورپنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے اورپھر بھی نوازشریف سیاسی انتقام کاماتم کررہے ہیں ۔نوازشریف کے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ میں کوئی فرق آیانہ ان کی سرکاری سکیورٹی اور وی آئی پی سہولیات میں کمی آئی ۔کہاجاتا ہے منتخب پارلیمنٹ” سپریم ”ہے مگر راقم کے نزدیک سپریم وہ ہے جس کا نام ”سپریم کورٹ” ہے۔ہر پارلیمنٹ کی عمر پانچ سال جبکہ عدالت کی عمرستربرس ہے ، منتخب اسمبلیاں تو دو ماہ بعد بھی ٹوٹ سکتی ہیں لیکن عدلیہ کاوجود دشمن ملک کے ساتھ جنگ میں بھی برقراراورفعال رہتا ہے۔تین چار کروڑووٹرز کی نمائندہ پارلیمنٹ بائیس کروڑپاکستانیوں کی قسمت کے فیصلے نہیں کرسکتی۔چودہ دہائیاں قبل بھی قاضی کسی خلیفہ کی ہدایات پر نہیں بلکہ آزادانہ انصاف کرتے تھے،خلیفہ وقت بھی قاضی کی عدالت میں ادب سے پیش ہوتے اورفیصلے تسلیم کرتے رہے۔حکمران اشرافیہ کے مٹھی بھر لوگ احتساب کے ڈر سے انتقام کاشور مچاتے ہیں مگر عام پاکستانیوں نے کبھی عدلیہ پرعدم اعتماد نہیں کیا۔میں سمجھتاہوں قانون بنانانہیں قانون منوانا اہم ہے ،پارلیمنٹ ایک دن میں ایک ہزارقانون بنا سکتی ہے مگر سپریم کورٹ کے بغیران قوانین کی کوئی وقعت نہیں۔ریاست کی رٹپارلیمنٹ نہیں آئینی اورسکیورٹی اداروں کے بل پر قائم ہوتی ہے ۔منتخب ایوان میں تلاش کرنے پر کئی انگوٹھاچھاپ اورکچھ سڑک چھاپ بھی مل جائیں گے جبکہ جیل میں بیٹھے ملزم بھی ارکان اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں لہٰذاء ان کابنایاہرقانون آنکھیں موندکرتسلیم نہیں کیاجاسکتاجبکہ عدالت میں بیٹھے منصف مستند قانون دان ہوتے ہیں اوریقیناًانہیں آئین نے بنیادی انسانی حقوق اوراخلاقی اقدار سے متصادم قانون مسترد کرنے کااختیار دیا ہے ،لہٰذاء سیاستدان جوقانون ”پاس ”کرتے ہیں انصاف کے ایوانوں میں براجمان ماہرقانون دان ملک وقوم کوکسی امتحان یابحران سے بچانے کیلئے کسی بھی متنازعہ قانون کو ”فیل ”کر سکتے ہیں ۔ہمارے سیاستدانوں کاکسی جج یاجرنیل کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جاسکتا،عدلیہ کاجج اورپاک فوج کاجرنیل کئی امتحانات پاس اور کٹھن مراحل طے کرنے کے بعداس منصب ومقام تک پہنچتاہے جبکہ سیاستدان توپیراشوٹ سے آتے ہیں۔بلاول زرداری کو سیاست کے آغازمیں پیپلزپارٹی کا مرکزی چیئرمین بنا دیاگیامگرکوئی بلاول کاہم عمرپاک فوج کاسپہ سالار نہیں بن سکتا۔مریم نوازکسی انتخابی حلقہ سے کامیاب ہوئے بغیر مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما ہیں جبکہ ریاستی اداروں میں اس قسم کامذاق نہیں ہوتا۔سیاسی اداروں میں موروثیت ہے مگرریاستی اداروں میں موروثی کلچر نہیں ۔ریاست پارلیمنٹ کے بغیرچل سکتی ہے مگرانصاف کے بغیر اس کاوجودبرقرارنہیں رہ سکتا۔ قوانین کی تشریح اوران کے نفاذکاراستہ سپریم کورٹ کی عمارت سے گزرتا ہے۔ سائل انصاف کیلئے پارلیمنٹ نہیں عدالت کارخ کرتے ہیں۔ملزم کومجرم قراردینا یابیگناہ ہونے کی صورت میں باعزت رہاکرنا عدالت کے دائرہ اختیار میں ہے۔اگرعدالت سمیت سکیورٹی ادارے نہ ہوں توہمارے ملک کاماحول اورمنظرجنگل سے بدترہوجائے۔عدالتی فیصلے کی تعمیل کیلئے پولیس کلیدی کرداراداکرتی ہے،اس کے باوجودجج حضرات پولیس کے افسروں اوراہلکاروں کی ضرورت سے زیادہ بازپرس کرجاتے ہیں۔پولیس پرتنقید ضرورکی جائے ،اصلاح کیلئے تجاویزبھی دی جائیں مگرکسی کوپولیس فورس کی اجتماعی توہین کرنے کاحق نہیں پہنچتا ۔دوسری طرف دشمن ملک کے حملے کی صورت میں پارلیمنٹ نہیں فوج کی ضرورت پڑتی ہے ۔فوجی حکمرانوں کے ادوارمیں اسمبلیوں کے بغیر بھی ملک چلتا رہا مگرعدالت کوکسی ڈکٹیٹر نے بھی کام سے نہیں روکاتھا۔پرویز مشرف نے اپنے دورصدارت میں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کیخلاف جومتنازعہ قدم اٹھایا اس کے ری ایکشن میں چاروں صوبوں کے قانون دان اٹھ کھڑے ہوئے مگر اس کے باوجود آمریت نے عدالت پرحملے کاارتکاب نہیں کیا۔پرویز مشرف دور کے چیف جسٹس افتخارچودھری کی عوامی طاقت کے بل پربحالی توہوگئی مگربعدازاں منصب پرہوتے ہوئے موصوف کی بدنیتی کے سبب بدحالی ان کامقدربن گئی ،آج پاکستان کے محروم عوام اپنے انتھک چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکے جانثاربن گئے ہیں ۔ریاست کیلئے جمہوریت نہیں جمہور کی اہمیت زیادہ ہے ۔سعودیہ سمیت کئی ملکوں میں پارلیمانی نظام نہیں مگرعدالتی نظام فعال ہے ۔پاکستان کی حکمران اشرافیہ عام آدمی سے زیادہ ضرورتمند ہے ،یہ لوگ اپنے اپنے مفادات کیلئے قانون بناتے اوربگاڑتے ہیں،راتوں رات آئین میں ترمیم کرلی جاتی ہے ۔ پرویز مشرف دورکی آئینی اصلاحات کے نتیجہ میں نوازشریف تیسری بارو زیراعظم منتخب نہیں ہوسکتے تھے جبکہ اے این پی کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے صوبہ خیبر کے نام کی تبدیلی سے غرض تھی لہٰذاء راتوں رات اٹھارویں ترمیم پراتفاق ہوگیا مگر کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر کئی دہائیوں بعدبھی اقتدارپرست سیاستدان متفق یامتحد نہیں ہوئے۔
دنیا بھر میں ریاست کوسیاست کامحور ماناجاتا ہے مگر ہمارے ہاں چند عاقبت نااندیش سیاستدان ریاست کی قیمت پرسیاست کر تے ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جوسیاست کی آڑ میں تجارت چمکاتے اورپاکستان کے وسائل چوری کرکے بیرون ملک منتقل کرتے رہے اورکئی دہائیوں بعداحتساب کیلئے نیب کی گرفت میں آئے تواس آئینی اقدام کوانتقام کانام دے دیا۔پاکستان پر ڈاکو راج کرتے تھے مگر احتساب کارواج نہیں تھا ،بریانی کی ایک پلیٹ پربک جانیوالے ووٹرکومحتسب قرار نہیں دیاجاسکتا لہٰذاء انتخاب کواحتساب کہنا فراڈ ہے۔ہمارے ملک میں انتخاب کئی بار بلکہ بار بارہوئے مگراحتساب ایک بار بھی نہیں ہوا ،اب ہونے لگاہے تواسے منطقی انجام تک پہنچایاجائے۔حکمران جماعت کی عدالت سے عداوت اس وقت شروع ہوئی تھی جس وقت جسٹس سجادعلی شاہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ہواکرتے تھے اور انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف کوعدالت میں طلب کیاتھایعنی یہ عداوت اورعادت کافی پرانی ہے۔اس وقت کے اخبارات کی لیڈز سے چیف جسٹس سجاد علی شاہ پربراہ راست حملے کی شہادت بھی ملتی ہے۔اس وقت عدالت عظمیٰ کی عمارت پرہونیوالی یلغار کے شرمناک مناظر آج بھی پاکستانیوں کے اذہان پرنقش جبکہ میڈیا کے پاس تصاویر اورویڈیوز کاریکارڈ محفوظ ہے۔پاکستان کے چیف جسٹس اور عدالت عظمیٰ کی عمارت پرحملے میں سابق ارکان قومی وصوبائی اسمبلی میاں منیر ،طارق عزیز، اختررسول چودھری ،چودھری تنویراورسردارنسیم اختر پیش پیش تھے ،ان میں سے طارق عزیز ،میاں منیر اوراختررسول چودھری مسلم لیگ قائداعظمؒ میں چلے گئے جبکہ چودھری تنویراورسردارنسیم اخترمسلم لیگ (ن) میں رہے،بعدازاں اختررسول چودھری نے تحریک انصاف میں قبول نہ کئے جانے پردوبارہ مسلم لیگ (ن) میں پناہ تلاش کرلی اورانہیں حکمران جماعت نے لاہورسے صوبائی اسمبلی کاٹکٹ بھی دے دیامگروہ عوام میں مقبول میاں اسلم اقبال سے ہار گئے،چودھری تنویرکومسلم لیگ (ن) نے سینیٹر منتخب کیا جبکہ سردارنسیم اختران دنوں راولپنڈی کے میئر ہیں۔عدالت عظمیٰ پرحملے میں ملوث افرادکی مسلم لیگ (ن) میں اس طرح بھرپورپذیرائی کی گئی جس طرح یہ لوگ دشمن ملک پرحملے کے ہیروزہوں،توہین عدالت کے مجرم نہال ہاشمی کوسزاہوئی تومریم نوازنے اپنے سوشل میڈیااکاؤنٹ پر مجرم کی تصویر ڈی پی کے طورپرلگائی تھی ۔ حکمران اشرافیہ عدلیہ اورنیب کیخلاف سازشوں میں کسی بھی حدتک جاسکتی ہے،عام لوگ ان کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں۔ کسی بھی ریاستی ادارے پرحملے کوریاست پرشب خون مارنے سے تعبیر کیاجائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *