آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 7

حیرت سے اسکی آنکھوں میں دیکھا اور پوچھا’’جب میں یہاں آیا تھا تو یہ بات تم اس وقت بتاتے۔‘‘
’’جناب،مجھے بیرا سے ڈر لگتا ہے۔وہ جب چاہے، مجھے مروا دے کیونکہ میں اس کے بہت سے بھیدوں سے واقف ہوں۔مجھے یقین ہے کہ میری گائے کھول کر جنگل میں باندھ کر آنے کی حرکت بیرا کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔اس نے اس طریقے سے مجھے تنبیہہ کر دی کہ میں اس کا بھید آپ کے سامنے نہ کھولوں۔‘‘
’’تم بیرا کو کب سے جانتے ہو؟‘‘
’’اس روز سے جس روز وہ پیدا ہوا۔‘‘مکھیا نے جواب دیا۔’’بیرا میرا سگا چھوٹا بھائی ہے۔‘‘
میرے سر پر جیسے کسی نے ہتھوڑا دے مارا۔چند لمحوں تک میں گم سم بیٹھا مکھیا کی طرف دیکھتا رہا۔ مجھے احساس ہوا کہ اس کے چہرے کے خدوخال، جسمانی قدوقامت اور کسی حد تک آواز بھی بیرا سے ملتی جلتی ہے۔ فرق صرف ا تنا تھا کہ بیرا کے جسم پر لنگوٹی تھی اور مکھیا کے جسم پر کرتا اور دھوتی۔بیرا کا سرمنڈا ہوا، ڈاڑھی مونچھ صاحب اور چوٹی لمبی تھی۔ مکھیا کے سر پر بڑے بڑے بال اور چہرے پر گھنی مونچھیں تھیں۔
’’بیرااگر چہ میرا بھائی ہے لیکن اس کی قاتلانہ سرگرمیاں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ میں آپ پر ظاہر کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔‘‘مکھیا نے کہنا شروع کیا۔’’مجھے اپنی جان کی پروا نہیں۔میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ دوسرے لوگوں کو اس کے ہاتھ سے بچایا جائے۔شاید آپ کو معلوم ہو کہ تین مہینے پہلے اس جنگل میں ایک نوجوان انگریز شکاری کو شیر نے مار ڈالا ہے۔اسے شیر نے نہیں مارا تھا جناب،خود بیرا اسے وہیں چھوڑ کر چلا آیا اور اگلے روز گیدڑوں اور لگڑ بگھوں نے شکاری کو نوچ نوچ کر ہڑپ کرلیا۔‘‘
’’تمہیں اس واقعے کا کیسے پتا چلا؟‘‘
’’جناب مجھے اتفاقہ طورپر علم ہوا۔وہ انگریز نوجوان اسی گاؤں میں بیرا کے ساتھ آیا تھا۔ میں اسی وقت سمجھ گیا کہ بیرا اس نوجوان کے پیچھے کسی بری نیت سے لگا ہوا ہے کیونکہ شکاری کے بٹوے میں بہت سے نوٹ بھرے ہوئے تھے۔شکاری نے گاؤں کے ایک آدمی کو کچھ رقم دے کر ایک بچھڑا خریدا اور بیرے کے کہنے کے مطابق جنگل میں لے جاکر ایک درخت سے باندھ دیا۔ اس کا خیال تھا کہ شیر اس بچھڑے کی بو پرآئے گا اور وہ اسے مار لے گا۔ دوروز تک بچھڑا محفوظ رہا لیکن تیسری رات شیر نے اسے مار ڈالا اور گھسیٹ کر بہت دور ایک گہری کھائی کے قریب لے گیا۔ اس کھائی کے دوسرے کنارے پر ایک پہاڑی ٹیلا ہے جس میں کئی غار بنے ہوئے ہیں۔شیر اور ریچھ انہی غاروں میں رہتے ہیں۔اگلے روز صبح جب بیرا نے بچھڑا وہاں نہ پایا تو شکاری کو خبر کی اور شکاری اسی وقت بیرا کے ساتھ چل پڑا۔ اس کھائی کے اتر کی جانب پنگرام کو جانے والی سڑک گزرتی ہے۔ میں اس روز پنگرام سے گاؤں کی طرف آرہا تھا کہ کھائی کے قریب پہلے فائروں کی اور پھر شیر کے گرجنے کی آواز سنی،میں جلدی سے ایک درخت پر چڑھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک شیر بھاگتا ہوا آیا اور کھائی پھلانگ کر غار میں پناہ لینے کے بجائے ایک جھاڑی کے اندر چھپ کر ہانپنے لگا۔ میں درخت پر بیٹھا ہوا شیر کو بخوبی دیکھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہی انگریز شکاری نمودار ہوا۔ اس کے کپڑے تار تار تھے اور وہ جوش و خروش سے جھاڑیاں پھلانگتا اورگھاس روندتا ہوا بڑھ رہا تھا۔ میں نے بیرا کوبھی اس کے پیچھے پیچھے دوڑتے دیکھا۔ بیرا نے شکاری کو بتایا کہ شیر کھائی پھلانگ کر دوسری طرف چلا گیاہے۔نوجوان شکار جونہی کھائی عبور کرکے پتھر کے نزدیک پہنچا،شیر نے جست کی اور ایک ہی دوہتڑ میں شکاری کو پرے پھینک دیا۔ یہ حملہ اس قدر غیر متوقع اور اچانک تھا کہ شکاری سخت زخمی ہو کر دور جاگرا اور بے ہوش ہو گیا۔ شیر دھاڑتا ہوا اپنے غار کی طرف بھاگ گیا۔ میرے سامنے بیرا نے بے ہوش اور زخمی شکاری کی تلاشی لے کر اس کا بٹوہ اور رائفل سنبھالی اور رفوچکر ہو گیا۔ میں نے خوف سے شکاری کے نزدیک جانے کی جرات نہ کی اور چپ چاپ گاؤں چلا آیا۔ تین دن بعد میں پھر گیا تو ہڈیوں کے سوا وہاں کچھ نہ تھا۔۔۔‘‘
مکھیا نے بات ختم ہی کی تھی کہ گاؤں کے پرلے سرے پر غل مچا اور چند لمحوں بعد میں نے دیکھا کہ بیرا کندھے پر بندوق رکھے فاتحانہ شان سے گاؤں والوں کے جھرمٹ میں چلا آتا ہے۔اسے دیکھتے ہی مکھیا چپکے سے کھسک گیا۔ بیرا نے میرے پاس آن کر بندوق ایک طرف رکھی اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا:
’’سرکار، شیر مارا گیا۔۔۔میرے ساتھ چل کر دیکھئے۔‘‘
اب اس کا ایک نیا روپ میرے سامنے تھا۔ میں نے کچھ کہے بغیر رائفل اور ٹارچ اٹھائی اور بیرا کے ساتھ جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں بیرا پجاری کے ساتھ شیر کو دیکھنے لگا تو سخت حیران تھا کہ شیر اس شخص کے ہتھے چڑھ کیسے گیا۔ بیرا پجاری کا گزشتہ کرداراس امر کا ثبوت تھا کہ وہ نہایت بزدل اور گیڈر صفت آدمی ہے۔شیر کا سامنا اس کے بس کی بات نہیں۔ممکن ہے کسی اتفاق حادثے کے تحت شیر مارا گیا ہو۔
’’مجھے یقین نہیں آتا بیرا کہ تم نے شیر مار لیا ہو گا۔‘‘میں نے کہا۔
’’سرکار،بھگوان نے آج میری جان بچائی ورنہ میرے مرنے میں کوئی کسر نہ تھی۔‘‘
’’کیوں کیا ہوا؟تفصیل سے بتاؤ۔‘‘
’’سرکار،مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ شیر، جسے میں نے مارا ہے،وہی تھا جو کسی دوسرے گاؤں سے بیل پکڑ کر لے آیا لیکن پیٹ بھرنے سے پہلے ہی چھوڑ کر بھاگ گیا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ اس کی گردن پر شیر کے دانتوں کے نشان موجود تھے۔ آپ سے اپنی بندوق لے کر میں سیدھا اسی طرف گیا جہاں اس ظالم شیر نے سانا پر حملہ کیا تھا۔ میں نے اس کے پنجوں کے نشان بھی دیکھے اور کہیں کہیں تازہ خون بھی گرا ہوا پایا۔خون کے یہ دھبے ندی کے پار بھی نظر آئے۔ میں سمجھ گیا کہ شیر کسی وجہ سے زخمی ہے ا ور یہ خون اسی کا ہے، چنانچہ میں پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہوا آگے بڑھا۔کیا دیکھتا ہوں کہ شیر جھاڑیوں کے قریب بے حس و حرکت بیٹھا ہے۔بس سرکار میں نے اسی وقت اس کا نشانہ لیا اور فائر کر دیا۔گولی شیر کی گردن میں لگی اور وہ آواز نکالے بغیر مر گیا۔ میں نے بالکل قریب سے دیکھا تو اس کے سینے اور پیٹھ پر گہرے زخم تھے جن پر گاڑھا خون جما ہوا تھا۔‘‘
’’اس کہانی سے تو کچھ یوں معلوم ہوتا ہے شیر پہلے ہی مرا ہوا تھا۔‘‘میں نے کہا۔
وہ حیرت سے میری طرف تکنے لگا:’’نہیں سرکار، اس نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا تھا۔‘‘
’’جھوٹ بولتے ہو۔‘‘میں نے زور دے کر کہا:’’ابھی سب کچھ پتا چل جاتا ہے۔اچھا یہ بتاؤ کہ گاؤں کا مکھیا تمہارا بھائی ہے؟‘‘
بیرا کے ہاتھ سے بندوق چھوٹ کر گر پڑی اور وہ تھر تھر کانپنے لگا۔
’’بولو،جواب دو۔‘‘میں نے غصے سے کہا:’’یہ بات مجھے پہلے کیوں نہ بتائی۔ تمہیں شرم آنی چاہیے کہ تم نے اتنے شریف ا ور غریب آدمی کی خوبصورت گائے کھول کر جنگل میں باندھ دی۔ اس نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے۔میں اس انگریز شکاری کا قصہ بھی سن چکا ہوں جو تمہاری ذلیل حرکتوں کے باعث شیر کے ہاتھوں مارا گیا اور تم نے اس کا روپیہ ہڑپ کرلیا۔سچ سچ بتاؤ تم نے اب تک کتنے شکاریوں کو درندوں کے ذریعے مروا کر ان کا سامان قبضے میں کیا ہے اور وہ سامان کہاں ہے؟‘‘
میرے اس انکشاف پر بیرا کی جو حالت ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔(جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *