آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 6

اگلے روز جب بیرا چلم پی رہا تھا، میں نے اس سے پوچھا:
’’شیر دیکھ کر تم چیخے کیوں تھے؟تمہیں معلوم نہ تھا کہ وہ مجھ پر یاسانا پر حملہ کر دے گا؟‘‘
’’سرکار مجھ سے قصور ہوا، معاف کر دیجیے۔‘‘اس نے مکاری سے پلکیں جھپکاتے ہوئے کہا۔
’’معاف تو میں تمہیں اچھی طرح کروں گا۔‘‘میں نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا:’’بیرا میں اتنا نادان نہیں،جتنا تم سمجھتے ہو۔ پہلے تم نے تلوادی جنگل کا ذکر چھیڑ کر میری آتش شوق بھڑکائی تاکہ میں کسی سانپ، بچھویا مکڑی سے ڈسا جاؤں لیکن تم نے دیکھا کہ ان چیزوں کا مجھ پر اثر نہیں ہوتا۔ پھرتم نے مجھے شیر کے ذریعے مروانے کی تدبیر نکالی جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔‘‘
وہ اٹھا اور روتا ہوا میرے پیروں پر گر پڑا۔
’’سرکار، یہ بالکل غلط ہے،بھلا میں آپ کو کیوں مروانے لگا؟ کہاں آپ، کہاں میں۔۔۔میں آپ سے دشمنی کرکے زندہ بچ سکتا ہوں؟‘‘

’’زیادہ بک بک مت کرو۔ اب تم ٹھیک ہو چکے ہو، کل تم میرے ساتھ جنگل میں چل کر اس شیر یا چیتے کو تلاش کرو گے اور تمہاری جان بخشی کی یہی صورت ہے کہ چیتے کو ہلاک کر ویا شیر کو۔۔۔میں تمہاری مدد کے لیے تیار ہوں لیکن درندے پرگولی تم چلاؤ گے اور کان کھول کر سن لو، اگر تم نے بھاگنے یا دھوکا دینے کی کوشش کی تو میں اپنے کارتوسوں کا پورا ڈبا تم پر خالی کر دوں گا، سمجھے؟‘‘
اب اتفاق دیکھیے کہ میں جس وقت بیرا سے یہ باتیں کررہا تھا، اسی وقت گاؤں کا مکھیا چند آدمیوں کے ساتھ رونی شکل بنائے آیا اور کہنے لگا کہ اس کی ایک گائے گزشتہ رات سے گم ہے اور تلاش کرنے کے باوجود اس کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔ شاید شیر اسے پکڑ کر لے گیا ہے۔
’’تم رات کے وقت گائے کہاں باندھتے ہو؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’اپنے مکان کے صحن میں اور دروازہ بند تھا۔‘‘
’’پھر گائے کیسے باہر نکل گئی؟‘‘
’’صاحب،آدمی رات کو اچانک میری آنکھ کھلی تو میں نے کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی۔کتے مسلسل بھونک رہے تھے۔ میں وجہ معلوم کرنے کے لیے اٹھا تو دیکھا صحن کا دروازہ کھلا ہے اور گائے موجود نہیں۔میں بھاگتا ہوا باہر نکلا اور گائے کو آواز دی۔اس کا نام’’رانی ‘‘ہے۔وہ میری آواز پر پلی ہوئی ہے۔ جہاں ہو، فوراً آجاتی ہے لیکن چیختے چیختے میرا گلا بیٹھ گیا۔ رانی نہ آئی۔ اس کے گلے میں جو رسی بندھی تھی، وہ بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔ صحن کی دیوار اگرچہ کچی ہے لیکن زیادہ اونچی نہیں اور کوئی بھی شخص باہر سے دیوار چڑھ کر میرے گھر میں آ سکتا ہے لیکن گاؤں بھر میں مجھ سے کسی کو دشمنی نہیں۔پھر کون ایسا بے رحم ہو گا جو گؤما تاکو یوں کھول کر جنگل میں لے جائے گا۔‘‘
’’جنگل میں؟تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ گائے جنگل میں لے جائی گئی ہے؟‘‘
’’جناب،گاؤں کے آدمیوں نے گائے کے کھروں کے نشان جنگل کو جاتے دیکھے ہیں اور ان نشانوں کے ساتھ ساتھ کسی آدمی کے پیروں کے نشان بھی پائے گئے ہیں۔‘‘
میں سوچ میں ڈوب گیا۔ صریحاً کسی شخص نے شرارت کی تھی اور مکھیا کے گھر میں آدھی رات کو کودکر گائے کھولی اور جنگل میں لے گیا لیکن سوال یہ تھا کہ کس لیے؟
’’اچھا،تم لوگ اطمینان سے بیٹھو۔ہم اس معاملے کی چھان بین کریں گے۔‘‘
میں نے سب کو دلاسا دے کر رخصت کیا اور بیرا کو ساتھ لے کر بیل گاڑی پر بیٹھا۔میں نے محسوس کیا، بیرا کچھ کہنا چاہتا ہے لیکن خوف کے مارے کہتے ہوئے ہچکچاتا ہے۔یکایک وہ رونے لگا ۔میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا اور نرمی سے بولا:
’’بیرا،دیکھو سچ مچ بتا دو،میں کچھ نہ کہوں گا۔کیا گائے تم ہی کھول کر جنگل میں لے گئے تھے؟‘‘
اس نے آنکھوں سے گنگا جمکنا بہاتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی ا ور بھری ہوئی آواز میں کہا:
’’سرکار ،یہ لمبی کہانی ہے اگر جیتا رہا تو سناؤں گا۔ آپ چاہتے ہیں کہ میں اس شیر کو ماروں یا مرجاؤں تو میری بندوق مجھے دے دیجیے۔‘‘
اس نے جس انداز میں بندوق کے لیے التجا کی تھی،وہ میں رد نہ کر سکا۔ بندوق لاکر اسے تھمادی۔اس کے چہرے پر بے پناہ خوشی کے آثار نمودار ہوئے۔ اس نے اپنی بندوق پر ہاتھ پھیرا اور ایسی آواز میں ،جس سے عزم کا اظہار ہوتا تھا،کہا:
’’آپ سمجھتے ہیں کہ بیراڈرپوک ہے۔۔۔سرکار، میں ڈرپوک نہیں۔۔۔مجھے حالات نے ایسا بنا دیا ہے۔اگر آپ میری دیکھ بھال کا وعدہ کریں تو میں سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے شیر مار کر آپ کے پاس لے آؤں گا۔ آپ جائیے، بنگلے میں آرام کیجیے، میں اکیلا جنگل میں جاؤں گا۔‘‘
’’بہت اچھا،میں تمہاری بات سے خوش ہوا لیکن پھر کہے دیتا ہوں اگر تم نے بھاگنے کی کوشش کی تو عبرتناک سزا دوں گا کہ زندگی بھر یادرکھو گے۔‘‘میں نے کہا اور الٹے پاؤں اپنی قیام گاہ کی طرف لوٹ گیا۔
بیرا کی شخصیت میرے لیے ناقابل فہم معمہ بن گئی تھی۔ جب سے میری اس سے ملاقات ہوئی تھی ،اس کی پراسرار شخصیت کے بہت سے پہلو میرے سامنے آچکے تھے اور کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اس کی فطرت میں کیا ہے اوروہ کس کینڈ ے کاآدمی ہے۔ جس اعتماد اور عزم سے وہ اپنی بندوق لے کر گیا اور سورج چھپنے سے پہلے پہلے شیر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، اس پر مجھے بار بار حیرت ہوتی تھی، پھر خیال آتا ،وہ مجھے دھوکا دے کر بھاگ تو نہیں گیا۔گاؤں کے مکھیا اور اس کی گائے کے راتوں رات غائب ہو جانے کا معاملہ مزید حیران کن تھا۔بیرا نے اس کی گائے کیوں کھولی اور اسے جنگل میں درندوں کا کھاجا بننے کے لیے کیوں چھوڑا؟۔
ان سوالات پر غور کرتا ہوا میں قیام گاہ میں پہنچا۔ میری یہ قیام گاہ گاؤں کے درمیان بنا ہوا کچا مکان تھا جو میرے آنے سے پیشتر ایک لکڑہارے کے قبضے میں تھا۔ گاؤں والوں نے لکڑ ہارے کو ایک دوسری جگہ منتقل کر کے یہ مکان لیپ پوت کر میرے لیے تیار کر دیا۔دودھ، دہی اور مکھن یہاں افراط سے تھا اور انڈوں اور گوشت کے لیے مرغیاں بھی کثرت سے تھیں۔گاؤں کے سادہ دل اور سادہ لوح باشندے میرے ازحد خاطر تواضع کرتے اور میں ان کی مہمان نوازی سے پورا پورا لطف اٹھا رہاتھا۔
تیسرے پہر جب میں مکان سے باہر بیٹھا تھا، میں نے دیکھا، گاؤں کا مکھیا اپنے دو تین لڑکوں اور کئی آدمیوں کے ساتھ ادھر سے گزرا۔ مکھیا کا ایک لڑکا نہایت تندرست اور خوبصورت سفید گائے کی گردن میں بازو حائل کئے چل رہا تھا۔ان سب کے چہرے خوشی اور مسرت کے جذبات سے روشن تھے۔ مجھے باہر بیٹھا دیکھ کر مکھیا فوراً میری طرف آیا اور آتے ہی میرے پاؤں چھوئے اور کہنے لگا:
’’جناب،میری گائے مل گئی۔وہ بڑی پہاڑی کے قریب ایک درخت سے بندھی ہوئی تھی۔ابھی ابھی میرا ایک لڑکا ادھر گیا تو گائے دکھائی دی۔‘‘
میں دم بخود اس کا منہ تکنے لگا۔ عجیب بات تھی کہ اس تمام عرصے میں کسی درندے نے گاؤں کو گزندنہ پہنچایا۔مکھیا نے اپنے ساتھیوں کو چلے جانے کا اشارہ کیا اور زمین پر اکڑوں بیٹھ کر جیب سے ایک چھوٹی سی چلم نکالی اور اس میں تمبا کو بھرا۔ چلم سلگانے کے بعد اس کے دو تین کش لگائے اور آہستہ سے کہنے لگا:
’’جناب، یہ بیرا پجاری آپ کو کہاں سے مل گیا۔ بھگوان کے لیے اپنے آپ پر ترس کھائیے اور اس شخص کے ساتھ جنگل میں نہ جایا کیجیے۔ یہ اب تک کئی شکاریوں کو مروا کر ان کے روپے پیسے اور سامان پر قبضہ کر چکا ہے۔‘‘اسکی بات سن کر میں چونک اٹھا۔(جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *