آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 5

میں نے سانا اور بیرا کو ایک قریبی درخت پر چڑھ جانے کا اشارہ کیا۔ میں سمجھ گیا کہ ا گر چیتا تھوڑی دیر پہلے ادھر سے گزرا ہے تو اس نے ہمیں ضرور دیکھ لیا ہو گا اور اپنی فطرت کے مطابق قریب ہی چھپ کر ہماری حرکتوں کا جائزہ لے رہا ہو گا۔ سچ پوچھیے، میں شیر سے اتنا ہراساں نہیں ہوتا جتنا چیتے سے۔۔۔مجھے معلوم ہے یہ درندہ کتنا مکار اور دھوکے باز ہے۔ ایک ثانیے کے لیے شکاری بے خبر ہوا اور چیتے نے ٹینٹوا دبایا۔ دفعتاً ایک اور خیال میرے ذہن میں آیا۔۔۔چیتا اگر اس طرف گھوم رہا ہے تو اس کی کوئی خاص وجہ ہو گی۔ ممکن ہے اس نے ایک اور جانور مار ڈالا ہو۔میں نے سانا کو آواز دی اور پوچھا:
’’گاؤں کا کوئی آدمی مویشی لے کر آج ندی کی طرف تو نہیں آیا تھا؟‘‘
’’نہیں صاحب، آج کوئی نہیں آیا۔‘‘
’’کوئی جانور تو گم نہیں ہوا؟‘‘
’’مجھے معلوم نہیں ،جناب۔۔۔اگر ایسا واقعہ ہوتا تو مجھے ضرور پتا چل جاتا۔‘‘
آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 4 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
میں جس مقام پر کھڑا تھا، اس کے سامنے پچیس تیس فٹ کے فاصلے پر آلو چے کے دس بارہ درخت کھڑے تھے۔ مجھے محسوس ہوا، ان درختوں کے پیچھے کوئی جانور چھپا ہوا ہے۔شاید چیتا ہی ہے کیونکہ ایک سکینڈ سے بھی بہت کم وقفے میں میں نے اس کی چمکتی ہوئی آنکھیں دیکھ لی تھیں۔ میں زمین پر لیٹ گیا اور آہستہ آہستہ درختوں کی طرف رینگنے لگا۔ ابھی میں نے بمشکل پانچ سات فٹ ہی فاصلے طے کیا تھا کہ میری نگاہ سیاہ چیونٹیوں کی ایک لمبی قطار پر پڑی جو ان درختوں کی جانب جارہی تھیں۔ میں نے غور سے دیکھا۔ درختوں کے پاس ایک بیل کی لاش پڑی تھی اور چیتا لاش کے عین پیچھے چپ چاپ کھڑا میری طرف گھور رہا تھا۔ چیتا دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور مجھے اپنی بصارت پر شبہ ہونے لگا کہ واقعی یہ چیتا ہے یا کوئی بڑا شیر، لیکن نہیں،وہ چیتا ہی تھا کیونکہ چاند کی مدھم زرد روشنی میں اس کی چمکتی کھال پر سیاہ دھبے مجھے صاف دکھائی دے رہے تھے۔
میں دم سادھے پڑا رہا۔ چیتے نے دبے پاؤں بیل کی لاش کے گرد چکر لگایا اور اس کا پچھلا حصہ کھانا شروع کر دیا۔ گوشت چبانے اور ہڈیاں کڑکڑانے کی آواز میرے کانوں تک پہنچنے لگی۔میں نے فائر کرنے کے لیے بندوق اٹھائی ہی تھی کہ دائیں جانب سے ایک چرخ اچھلتا ہوا نمودار ہوا۔ چیتے نے چرخ کو دیکھا اور چند قدم آگے بڑھ کر غرایا۔ چیتے کی آواز سن کر چرخ زور سے چلایا اور بدحواسی میں بھاگتا ہوا سیدھا میری طرف دوڑا۔ اب میری حماقت، بلکہ گھبراہٹ ملاحظہ ہو کر چیتے پر گولی چلانے کے بجائے دھائیں سے چرغ پر فائر جھونک دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چرخ تو وہیں ڈھیر ہو گیا اور چیتا گرجتا غر اتا جنگل میں غائب ہو گیا۔ دیر تک اس کی آواز مجھے سنائی دیتی رہی۔ چیتے کے یوں صحیح سلامت فرار ہو جانے سے مجھ پر جنون کی سی کیفیت طاری ہو گئی۔ بیل کی لاش دیکھنے سے معلوم ہوا کہ چیتا تھوڑا سا گوشت ہی کھانے پایا تھا کہ اسے بھاگنا پڑا اور ممکن ہے رات کے پچھلے پہر بھوک سے بے تاب ہو کر دوبارہ ادھر آئے۔سانا اور بیرا درخت سے اتر کر میرے پاس پہنچ گئے اور بیل کو دیکھنے لگے۔سانا نے میرے استفسار پر نفی میں گردن ہلائی اور کہا:
’’نہیں سرکار، یہ بیل ہماری بستی کا نہیں ہے۔‘‘
ٹارچ کی تیز روشنی میں لاش کا ایک بار جائزہ لیا گیا اور یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ شیر کے دانتوں کے نشان اس کی گردن پر موجود ہیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شیر نے بیل مارا اور گھسیٹ کر یہاں تک لے آیا لیکن اس کے بعد نہ معلوم کیا واقعہ پیش آیا کہ وہ اپنے شکارکے گوشت سے پیٹ بھرے بغیر چلا گیا اور چیتے کو آنے کا موقع مل گیا۔
بیل کی لاش کے گرد پنجوں کے نشان دکھائی نہ دیئے کیونکہ یہاں گھاس کثرت سے اگی ہوئی تھی۔ ابھی میں سوچ رہا تھا کہ کیا کارروائی کرنی چاہئے کہ کچھ فاصلے پر قد آدم گھاس سے چند گیدڑ شور مچاتے ہوئے نکلے اور ندی کی طرف بھاگ گئے۔ میں نے فوراً ٹارچ بجھا دی اور سانا کو بھی لالٹین کی بتی گل کردینے کا اشارہ کیا۔ گھاس برابر ہل رہی تھی، جس سے اندازہ ہوتاتھا کہ کوئی بڑا جانور گھاس کے اندر آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ دفعتہً بیرا پجاری بھیانک آواز میں چلایا:
’’شیر۔۔۔شیر۔۔۔بھاگو۔۔۔‘‘
پھر وہ پاگلوں کی طرف ایک درخت کی طرف دوڑا لیکن ٹھوکر کھا کر گرا اور وہیں پڑے پڑے چیخنے لگا۔ میں آج تک حیران ہوں کہ اس کم بخت کو سوجھا کیا تھا۔بیرا کو یوں چیختے دیکھ کر سانا بھی لالٹین پھینک کر بھاگا اور اس سے بیشتر کہ میں کچھ سمجھ سکوں، گھاس میں ایک قوی ہیکل شیر برآمد ہوا۔ سانا کی طرف لپکا اور ایک ہی جست میں اسے جالیا۔ اب بیرا کے ساتھ سانا بھی چلا رہا تھا:
’’صاحب بچاؤ۔۔۔شیر نے مجھے پکڑ لیا ہے۔۔۔۔ ہائے ۔۔۔ مارڈالا۔۔۔‘‘
یہ حادثہ اتنی سرعت سے پیش آیا کہ میرا ذہن قطعاً ماؤف ہو گیا۔بیرا کے بھاگنے اور گھاس میں سے شیر کے نکل کر سانا پر جھپٹنے میں مشکل سے چند سکینڈ لگے ہوں گے۔میں نے اندھا دھند شیر پرگولی چلا دی۔ شیر جھلا کر میری طرف پلٹا لیکن فوراً ہی رخ بدل کر ندی کی طرف بھاگا اور کنارے کنارے دوڑتا ہوا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ بیرا مسلسل چیخ رہاتھا لیکن سانا کی جانب سے کوئی آواز نہ آتی تھی۔ میں سمجھا کہ بے چارہ ختم ہو گیا ا ور اس کی حالت واقعی ایسی ہی تھی۔ شیر کا پنجہ اس کے چہرے پر اس انداز میں پڑا تھا کہ دائیں آنکھ باہر نکل آئی تھی اور رخسار بالکل ادھڑ چکا تھا۔ دوسرا زخم سینے پر تھا۔ چہرہ اور سینہ خون میں لت پت ہو چکا تھا۔ میں نے پہلے اس کی نبض ٹٹولی، پھر سینے پر اپنا کان لگایا۔ دل کی حرکت ابھی جاری تھی لیکن بہت آہستہ۔۔۔پھر اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور وہ بری طرح تڑپنے لگا۔ میں نے اپنی پیٹی سے بندھی ہوئی پانی کی بوتل کھولی اور چند قطرے اس کے حلق میں ٹپکانے کی کوشش کی مگر دانت سختی سے بھنچے ہوئے تھے۔پانی حلق کے اندر نہ جا سکا۔ سانا بہت صحت مند اور طاقتور آدمی تھا اور جس طرح اس کی جان نکلی ہے،وہ منظر میں مرتے دم تک فراموش نہ کر سکوں گا۔
اگر میں گاؤں والوں کوبتا دیتا کہ سانا کی موت کا باعث بیرا پجاری ہے تووہ لوگ یقیناً اس منحوس شخص کی ہڈی پسلی ایک کر دیتے لیکن ایسا کرنے سے سانا تو اس دنیا میں دوبارہ نہ آتا۔ گاؤں والے اس کی حسرت ناک موت سے بے حد غمگین اور طیش میں تھے۔بعض لوگ مجھے مجرم سمجھتے تھے۔ بیرا تین روز تک بخار کی حالت میں پڑا پھنکتا رہا۔ اس کی پیشانی اور ایک گھٹنے پر چوٹ آئی تھی۔ گاؤں کے ایک بڈھے لکڑ ہارے نے کچھ جڑی بوٹیاں پیس کر بیرا کے زخموں پرتھوپیں اورچند دن کے اندر اندر نہ صرف اس کے زخم بھر گئے بلکہ بخار بھی ٹوٹ گیا۔(جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *