آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 4

دوروز بعد بیرا پجاری نہایت تشویشناک تاثرات چہرے پر سجائے میرے پاس آیااور تلوادی جنگل کے درندوں کا ذکر اس انداز میں چھیڑا کہ میرے دل میں وہاں جانے کا اشتیاق پیدا ہو۔میں فوراً اس کا منصوبہ بھانپ گیا، تاہم میں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
’’بیرا،تم نے مجھے پہلے اس جنگل کے بارے میں کیوں نہ بتایا، میں وہاں ضرور جاؤں گا‘‘۔
’’سرکار،ایسا غضب بھی نہ کیجیے گا۔ وہاں بلائیں رہتی ہیں،بلائیں۔۔۔نہ جانے کتنے آدمی ان بلاؤں نے ہڑپ کر لیے ہیں۔میں تو وہاں جانے کا مشورہ نہ دوں گا۔ مجھ سے غلطی ہوئی کہ اس جنگل کا نام لے بیٹھا۔‘‘
اپنی دانست میں وہ میرے جذبے اور ولولے کو ہوا دینے کی کوشش کررہا تھا ۔مجھے اس کی چالاکی پر ہنسی آئی اور یہ سوچ کر غصہ بھی آیا کہ وہ مجھے نرا گاؤدی سمجھتا ہے۔اب میں نے اسے دہشت گردہ کرنے کے لیے کہا:

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 3 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
’’بیرا، اگر اس جنگل میں مجھے کسی شیر نے کھا لیا یا ریچھ نے مار ڈالا تو تمہیں سولی پر لٹکا دیا جائے گا۔‘‘
اس کا چہرہ پہلے سیاہ پھر یک دم زرد ہو گیا اور ہونٹ کانپنے لگے۔ایسا معلوم ہوتا تھا اس کی حرکت قلب بند ہو جائے گی۔ دفعۃً وہ بری طرح روتا ہوا زمین پر گرا اور میرے پیر پکڑ کر فریاد کرنے لگا:
’’سرکار،میری خطا معاف کر دیجیے۔ میں آپ کے ساتھ اس جنگل میں نہ جاؤں گا۔اگر میں سولی پر چڑھ گیا تو میرے بال بچے بھوکے مر جائیں گے۔‘‘
’’ایک نہ ایک دن تمہیں مرنا ہی ہو گا۔‘‘میں نے جواب دیا:’’اس لیے ڈرنا فضول ہے۔رہے بال بچے، سو ان کی فکر تمہارے بعد’’بھگوان‘‘ کریں گے۔‘‘
’’جیسی سرکار کی مرضی‘‘۔بیرا نے ہاتھ جوڑ کر رحم طلب نظروں سے میری طرف دیکھا اور میری بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی۔
میں دوسرے روز بنگلے میں بیٹھا تلوادی کی سیاحت کا پروگرام بنا رہا تھا کہ گاؤں کا ایک شخص ہاتھ میں کارڈ لیے میرے پاس آیا۔پنگرام کے پوسٹ ماسٹر نے مجھے خط لکھا تھا جس کا مضمون درج ذیل ہے:
’’عالی جناب،مجھے پتا چلا ہے کہ آپ اس علاقے میں موجود ہیں،اس لیے یہ خط سب سے پہلے آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔گزشتہ دو ہفتوں سے ماتھرکی اونچی سڑک کے قریب ایک چیتے نے اپنی خونریز سرگرمیوں سے بستی کے لوگوں کا جینا حرام کررکھا ہے۔وہ اب تک پندرہ بیس مویشی ہلاک کر چکا ہے اور عنقریب آدمیوں کی باری آنے والی ہے۔جن لوگوں نے یہ چیتا دیکھا ہے،وہ نہایت ہراساں ہیں اور کہتے ہیں ایسی مہیب بلا سے پہلے کبھی سابقہ نہیں پڑا۔ یہ چیتا نہ صرف جنگل کے عام چیتوں کی نسبت قوی ہیکل اور خونخوار ہے بلکہ قدو قامت میں شیر سے بھی بڑا ہے۔اگر آپ اپنی سابقہ شاندار روایات اور انسان دوستی کے تحت مظلوم باشندوں کو اس درندے سے نجات دلا سکیں تو یہ لوگ زندگی بھر آپ کا احسان نہیں بھولیں گے۔‘‘
خط پڑھنے کے بعد میں نے فوراً بیرا کو بلایا اور حکم دیا کہ دس منٹ کے اندر اندر چلنے کی تیاری کرے۔ میں نے اسے شکار کے تمام’’سازو سامان‘‘کا انچارج بنا دیا۔ اس نے استفہامیہ انداز میں میری طرف دیکھا اور کہنے لگا:
’’کہاں جانا ہے سرکار؟‘‘
’’تلوادی کے جنگل میں۔‘‘میں نے کرخت لہجے میں کہا:’’اب میں کوئی بہانہ نہ سنوں گا۔جلدی سے رائفلیں اور ٹارچ، تمباکو کے پیکٹ، کارتوسوں کے ڈبے اور تمام ضروری سامان بیل گاڑی میں رکھو۔پنگرام کے پوسٹ ماسٹر کا خط آیا ہے۔اس نے ہمیں چیتے سے دو دو ہاتھ کرنے کی دعوت دی ہے‘‘۔
شام کے ساڑھے پانچ بجے ہم گاؤں ماتھر کے نزدیک پہنچے۔یہ گاؤں جنگل کے شمالی سرے پر آباد ہے اور دریائے کا دیری کی ایک شاخ اس کے نزدیک سے گزرتی ہے۔راستے میں تین چار مقامات پر سرخ اورپیلی مکڑیاں تیزی سے ایک طرف جاتی نظر آئیں۔انہیں دیکھتے ہی بیرا کی حالت غیر ہو گئی اور اس نے فوراً ٹارچ روشن کرکے ہاتھ میں پکڑ لی۔میں نے ٹارچ اس کے ہاتھ سے چھین لی اور کہا:
’’آؤ بیرا، دیکھیں یہ مکڑیاں کہاں جارہی ہیں،ضرور کوئی خاص بات ہے۔‘‘
بیل گاڑی روک لی گئی۔میں نے بیرا کو دھکا دے کر نیچے اتارا اور دونوں مکڑیوں کے پیچھے پیچھے چلے۔لمبی گھاس کے ایک وسیع قطعے کے کنارے پر یہ مکڑیاں ٹیڑھی ترچھی قطار کی صورت میں تیزی سے رینگ رہی تھیں۔ ہمارے قدموں کی آہٹ پاکر وہ فوراً گھاس میں چھپ گئیں۔ہم بھی رک گئے۔چند لمحے انتظار کرنے کے بعد مکڑیاں گھاس سے نکلیں اور اپنے راستے پر چل پڑیں۔
’’سرکار سورج چھپنے والا ہے،گاؤں تک پہنچتے پہنچتے اندھیرا چھا جائے گا۔‘‘بیرا نے آہستہ سے کہا۔
کوئی جواب دیئے بغیر میں نے جیب سے ربڑ کے موٹے دستانے نکال کرہاتھوں میں پہنے اور اس سے پیشتر کہ بیرا کچھ سمجھ سکتا، لپک کر ایک سرخ پکڑلی۔بیرا کے حلق سے گھٹی گھٹی چیخ نکل گئی اور وہ الٹے پاؤں بیل گاڑی کی طرف دوڑا۔مجھے خدشہ تھا کہ تنگ آکر وہ فرار نہ ہو جائے،چنانچہ مکڑی پھینک کر میں بھی اس کے پیچھے بھاگا اور اسے راستے میں جالیا۔
’’مجھے جانے دیجیے سرکار،میں مر جاؤں گا۔ میں آپ سے آئندہ اپنی بندوق بھی نہ مانگوں گا۔‘‘
’’تم بڑے بزدل ہو بیرا۔‘‘میں نے ہنس کر کہا:’’مکڑی تو میں نے اسی وقت پھینک دی تھی۔ چلو، ہانکو گاڑی۔‘‘
پون گھنٹے بعد ہم گاؤں کے اندر پہنچ چکے تھے۔ہر طرف ہیبت ناک سناٹا طاری تھا۔ چند آوارہ کتوں نے ہمیں دیکھ کر یک لخت بھونکنا شروع کر دیا۔ پھر کسی طرف سے ایک آدمی کے بولنے کی آواز سنائی دی۔تھوڑی دیر بعد جھونپڑوں اور پتھر کے بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے مکانوں میں سے مرد،عورتوں اور بچے نکل کر آگئے اور انہوں نے ہماری بیل گاڑی گھیر لی۔میں نے دیکھا وہ سب کے سب بیرا کی طرف عقیدت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں،شاید اس لیے کہ وہ پجاری تھا۔
’’سرکارتمہارے گاؤں میں آئے ہیں۔‘‘بیرا نے میری طرف اشارہ کیا اور ہاتھ جوڑ دیے۔اس کی تقلید میں سبھی مرد اور عورتوں نے ہاتھ جوڑے اور گردنیں جھکا جھکا کر عجیب عجیب سی حرکتیں کرنے لگے۔کچھ لوگ دوڑے ہوئے گئے اور بانس کا بنا ہوا ایک بڑا سا تخت اٹھا لائے۔اس پر پتوں کی بنی ہوئی چٹائی بچھائی اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ چند لمحے بعد میں نے تاملی زبان میں پوچھا:
’’تم میں س کسی شخص نے اس چیتے کو تو نہیں دیکھا جو شیر سے بھی بڑا ہے؟‘‘
جواب دینے کی بجائے سب لوگ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگے۔ان کا خیال تھا کہ میں تاملی زبان نہیں جانتا۔ آخر ایک شخص نے زبان کھولی اور بتایا:
’’صاحب،میں نے وہ چیتا دیکھا ہے۔وہ یہاں سے تین میل دور ندی کے کنارے پانی پی رہا تھا اور اسی نے اگلے روز شام کے وقت میرے بھائی کی گائے پکڑ کر مار ڈالی تھی۔‘‘
’’گائے کی لاش تم میں سے کس نے دیکھی؟‘‘
’’میں نے صاحب۔‘‘ اسی شخص نے جواب دیا:’’چیتے نے کچھ باقی ہی نہیں چھوڑا، بس ہڈیاں باقی رہ گئی تھیں۔‘‘
’’ہاں صاحب۔‘‘
’’چلو بیرا، ذرا وہ جگہ دیکھ آئیں۔‘‘میں رائفل لے کر اٹھ کھڑا ہوا۔
’’سرکار، کچھ بھوجن تو کر لیجئے۔‘‘بیرا نے کہا۔
’’بھوجن آکر کریں گے۔‘‘میں نے جواب دیا۔ لوگوں کو حیران اور کسی قدر خوفزدہ چھوڑ کر ہم تینوں گاؤں سے نکل کر جنوبی رخ کی طرف چلنے لگے۔ہمارے راہبر کا نام سانا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ٹین کی بنی ہوئی لالٹین تھی۔ راستہ اتنا دشوار گزار اور خراب تھا کہ ایک میل چلنے کے بعد میرے اعصاب جواب دے گئے لیکن سانا بہت اطمینان سے چلا جارہاتھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا وہ جنگل کے چپے چپے سے بخوبی آگاہ ہے۔
لالٹین کی مدھم روشنی میں ٹھوکریں کھاتے،گھاس روندتے اور کانٹوں سے بچتے بچاتے آخر کار ہم ندی کے قریب پہنچ گئے۔ میں نے گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ رات کے ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔گائے کی ہڈیاں ندی سے تیس گز دور ایک درخت کے نیچے بکھری ہوئی تھیں، کھوپڑی الگ پڑی تھی۔ میں نے دیکھا جنگلی چیونٹوں اور بے شمار کیڑے مکوڑوں کے علاوہ سرخ رنگ کی پانچ مکڑیاں بھی اس پر چمٹی ہوئی ہیں۔
کنارہ افق سے چاند جھانکنے لگا اور تھوڑی دیر بعد پہاڑی کے عین اوپر آگیا۔ اس کی روشنی اتنی تھی کہ ہم اپنے اردگرد کا منظر بخوبی دیکھ سکتے تھے، تاہم میں نے ٹارچ کی مدد سے ندی کے دائیں کنارے کا معائنہ کیا اور یہ دیکھ کر سخت حیرت ہوئی کہ چیتے کے پنجوں کے تازہ نشان وہاں موجود ہیں۔ میرے ہاتھ میں اعشاریہ بارہ کی شاٹ گن اور بیرا کے پاس ونچسٹر رائفل تھی لیکن وہ اسے چلانا نہ جانتا تھا۔ یہ رائفل احتیاطاً ساتھ لے لی تھی۔(جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *