معاشرے کے بگڑتے ہوئے ثقافتی رُخ

اقبال زرقاش/ فکرِ فردا


پاکستان میں مغرب زدہ ذہنیت کے حامل افراد نے جس طرح غیر ملکی ثقافتی یلغار سے ہمارے اسلامی معاشرے کو تباہی و بربادی کے دہانے پر لاکھٹرا کیا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ہماری قوم بالخصوص نوجوان نسل اپنی روایات ، تاریخ اور ثقافت سے بیگانہ نظرآتے ہیں ۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا لباس، گفتار اور چال ڈھال بے حیائی کے سانچے میں ڈھل کر فحاشی، بے حدوں کو چھو رہی ہے اُن کا کوئی رُخ ایسا نہیں جو انہیں کسی صالح قوم کے باکردارثابت کرسکے اُن کی ناہیں بے لگام زبانیں چھوٹ ، فکر آوارہ اور سوچ پراگندہ ہے ان میں دوسروں پر تنقید کا رجحان اس قدر بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے تئیں فرشتہ سمجھتے ہیں اور دوسروں خصوصاً بڑوں کی ہلکی سی لغزش کو بھی معاف کرنے کے لیے تیار نہیں۔ہمارا نوجوان طبقہ فکرو نظر کے اس تضاد کا شکار ہے جس کا منتہائے مقصود آوارگی ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے ان کے بدنمااعمال کو اس قدر خوشنما بنا کر ان کے روبرو رکھ دیا ہے کہ وہ کانٹوں کو پھول اور مجرمانہ لغزشوں کو حسنِ عمل قرار دے رہے ہیں اور یہی خصوصیت زوال آمادہ اقوام و افراد کی ہوا کرتی ہے۔ معاشرے کے اس بگڑتے ہوئے ثقافتی انداز میں سب سے زیادہ نمایاں ہاتھ ہمارے ذرائع ابلاغ کا ہے خصوصاً الیکڑانکس میڈیا کے مغرب زدہ ذہنیت کے حامل پروڈوسرز، تخلیق کار اور فنکار اس میں پیش پیش ہیں جو شوبز سے تعلق رکھنے والی فنکاروں کو نیم عریاں لباس میں نوجوان نسل کے سامنے پیش کر کے ان کے جذبات کو بھٹرکاتے ہیں اور ان کی فکر کو پراگندہ کرتے ہیں بدکردار فحاشہ خواتین کو قومی سطح کی ہیرو بنا کر ان کے انٹرویو نشر کیے جاتے ہیں۔ خام ذہن اسی انداز معاشرت کو ارتقاء کا کمال سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ہمارا دین چادر اور چاردیواری کے تحفظ کا ضامن ہے مگر ٹی وی چینل ہم وطن بہنوں اور بیٹیوں کو جس (لباس برہنگی) میں پیش کر تا ہے وہ اہل دل کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
اسی طرح مختلف مصنوعات کی تشہیر کے لیے جس طرح نوجوان لڑکیوں کو پیش کیا جاتا ہے ہماری نوجوان نسل اپنے ملی اور ثقافتی ورثے کو بھول کر ان لوگوں کے انداز و اطوار کو آئیڈیل گردانتی ہے جو شوبز کی دنیا کے لیے تو وجہ افتخار ہو سکتے ہیں مگر ہماری قومی زندگی میں کسی رخ سے بھی نشان راہ نہیں بن سکتے کیونکہ ہماری قومی زندگی طاؤس و رباب سے نہیں شمشیر و سنان سے عبارت ہے ۔ فنکار اور اداکار اپنے اپنے مخصوص دائرے میں بہر کیف درست ہوتے ہونگے کیونکہ اس آرٹ کے پس پردہ خون جگر کی سرخی جھلکتی ہے اس بیان سے ان کی توہین ہرگز مقصود نہیں ۔ کہنا صرف یہ ہے کہ ان کی قدر و منزلت ان کے خاص دائرے میں ہونی چاہیے انہیں بطور ایک قومی ہیرو اور آئیڈیل کے سامنے نہیں آنا چاہیے ۔ آج کی ننھی منی پود کو اپنی تاریخ کے عظیم سپہ سالاروں ،حکمرانوں اور اہنماؤں کے نام تک یاد نہیں مگر شوبز سے تعلق رکھنے والوں کی خاندانی تاریخ اور حسب نسب ازبر ہے۔ ٹی وی چینلز کے زریعے بلاشبہ ایسے پروگرام نشر ہوتے ہیں جو ہمارے دین اور ہماری تاریخ پر روشنی ڈالتے ہیں ان پر وگراموں کو صیح وقت اور موزوں مقام نہیں دیا جاتا۔نیت پر شبہ نہیں کرنا چاہیے مگر پھر بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ شعوری یا لاشعوری طور پر سعی یہی ہے کہ دینی پروگرام کم سے کم لوگ دیکھ پائیں جبکہ پروگراموں کی اکثریت اشتہاروں کا انداز، ترنم کے رُخ اور سروں کی لہریں ایک ایسی ثقافت کو رواج دے رہے ہیں جن کا بہر کیف ہماری تاریخ سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔لڑکپن اور شباب ایک ایسا دور ہے جس میں عادتیں راسخ ہو کر فطرت بن جاتی ہیں اور ہماری نوجوان نسل ہے کہ ٹی وی چینلز پر پیش کیے جانے والے انداز ملبوسات، زیب و زینت کے نئے نئے زاویواں اور سازو آواز کی موجوں میں ڈوبتی چلی جا رہی ہے ۔ بحالات موجودہ ٹی وی چینلز کا سب سے بڑا احسان یہی نظر آتا ہے کہ اس نے ہر شریف گھر کو سینما گھر بنا دیا ہے ارباب بسیت و کشاد کو ان معاشرتی خرابیوں کا کماحقہ علم ہے اور وہ بھی اس برائی میں برابر کے شریک ہیں اگر غیر ملکی ثقافتی یلغار کو نہ روکا گیا اور ہماری نوجوان نسل کے شب و روز ایسے ہی رہے تو ہمارا حال ایسے مستقبل کی نشاندہی کر رہا ہے جہاں حد نظر تک سراب ہی سراب ہے اگر ہم رقص و سرور، سازو آواز کے ا سی قدر رسیا رہے تو ڈر ہے کہ مشرق سے کوئی ایسی آندھی نہ آجائے جو ہمیں اُڑا کے لے جائے یا مغرب سے کوئی ایسا طوفان نہ آجائے جو ہمیں خشک پتوں کی طرح بہا لے جائے ۔ اس سے پہلے ہمیں اپنی ان بداعمالیوں کا محاسبہ کر لینا چاہیے تاکہ ہمارے ملک میں آئے روز جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اپنی کوتاہیوں کا پیش خیمہ ہیں جن پر ہم نے روشن خیال آزادی رائے کا لبادہ اُوڑھ رکھا ہے ہمیں اپنی صفوں میں چھپے ہوئے ایسے بھیڑیوں کا بھی تعاقب کرنا ہے جو غیر ملکی این جی اوز کے نام پر کروڑوں روپے لے کر ملک خداداد میں عریانی و فحاشی کو فروغ دینے میں پیش پیش ہیں جو ہماری نوجوان نسل کو اور ہماری ثقافت کو داغ دار کرکے دنیا کے سامنے ہماری رسوائی کا باعث بن رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *