کیا عورت اور مرد ایک ساتھ کام کرسکتے ہیں؟

پوچھا جاتا ہے کہ کیا واقعی اسلا م کے مطابق مرد اور عورت ایک ساتھ کام نہیں کرسکتے، حالانکہ بعض اوقات کرنا پڑتا ہے ۔میرا اْستاد محترم اعجاز احمد صاحب کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا ہے ۔وہ پاکستان سے باہر مقیم ہیں۔ میں نے اْن کا لیکچر ہلٹن ہوٹل میں رکھوایا۔ وہاں ایک نوجوان لڑکے نے اْن سے سوال پوچھا کہ افغان جہاز میں جانے کی شرط کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کیا تو یہ بات اپنی ماں سے پوچھ کر آیا ہے کہ تْو جہاز پر جانا چاہتا ہے تو وہ نوجوان کہتا ہے’’ نہیں‘‘ اعجازاحمد صاحب نے کہا’’ تو تْو میرا وقت کیوں برباد کررہا ہے‘‘ ہمارے یہاں ایک بڑا کلچر بن گیا ہے۔ مختلف قسم کی روایات میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ہماری زندگی میں بہت کچھ ہے جو کہ ہم نے کرنا ہے لیکن ہم لوگ ابھی بھی اسی چکر میں مبتلا ہیں کہ مرغی کو ذبح کرتے وقت تکبیر مرغی پر پڑھیں یا چھری پر۔ بہت ادب اور خلوص کے ساتھ ہاتھ باندھ کر کہہ رہا ہوں کہ آج کل عورتیں اور آدمی گاڑیوں سے پہچانے جاتے ہیں، پائنچہ نیچا ہونے سے پہچانا جاتا ہے، ٹوپی کے انداز سے پہچان بنالی جاتی ہے کہ یہ لوگ کون سے مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ آج کے نوجوان ان سب کے لیے گوگل پر تحقیق کیوں نہیں کرتے۔ آج کل ٹیکنالوجی اتنی وسیع ہوچکی ہے آپ جتنا چاہو اپنے علم میں اضافہ کرلو۔ کسی بھی علم کو حاصل کرنے کے لیے ادب ضروری ہوتا ہے۔ میرا سوال ان لوگوں سے ہے جو مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ مرد اور عورت ایک ساتھ کام کرسکتے ہیں؟ وہ بھی اسلام کے نظریے کے مطابق ۔۔۔تو میں اْس سے صرف یہ پوچھنا چاہوں گا کہ ہماری ماں جنّت کی سردار سیّدہ عائشہ صدیقہؓ کے دوہزار سے زائد طالب علم تھے کہ وہ بھی مرد حضرات جو اْن سے اسلام کی تعلیم حاصل کرتے تھے ،کیا آپ یہ سوچ سکتے کہ اس دور میں جدید سہولیات نہیں تھیں تعلیم کی،آن لائن یا فون کا سسٹم نہیں تھا ۔اماں حضرت عائشہ صدیقہؓ اْن کو تعلیمات کیسے دیتی ہوں گی ۔آپ لوگ دھرنوں میں تو اکٹھے نعرہ بازی کرتے ہیں، لیکن جہاں کوئی مذہبی جماعت ہو، وہاں مرد اور عورت کو الگ الگ بٹھا دیا جاتا ہے، ایسا کیوں ہے؟ علم کا حصول دونوں کے لیے مختلف کیوں ہے؟ جب اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کی تعلیم کو الگ نہیں کیا تو آپ لوگوں نے یہ سوچ کیوں لیا ہے کہ مرد اور عورت الگ الگ ہے۔اپنی اخلاقی تعلیم و تربیت کو بہتر بنائیں بچوں اور بچیوں کو اعتماد دیں،ان کی خوبیوں کو اجاگر کریں ۔یہ ذہنی پسماندگی اور پراگندگی کا مسئلہ ہے جس نے ہماری اجلی روایات اور شخصیت کے اعتماد کو توڑا ہے۔بہتر ماحول مہیا کریں تاکہ ایسے سوالات نہ کئے جاسکیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *