نااہلی مدت کیس، جب تک ڈیکلریشن موجود، نا اہلی موجود رہے گی: سپریم کورٹ

اسلام آباد: (بیوروچیف پنجاب میاں محمد عمران ندیم سے) چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اب کسی اور کو نہیں سنیں گے، پیرکو صرف اٹارنی جنرل دلائل دیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ممکن ہے آرٹیکل 62 ون ایف کیس میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت کا تعین کریں، پھر کیس ٹو کیس فیصلہ کیا جائے۔رائے حسن نواز کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو کام پارلیمنٹ نے نہیں کیا وہ عدالت کیسے کر سکتی ہے؟ سیاسی معاملات پر فیصلہ سازی پارلیمنٹ کو کرنی چاہیے، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال ہونی چاہیے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت ایمانداری کا تعین کرسکتی ہے؟ بے ایمان شخص کچھ عرصہ بعد ایماندار کیسے ہوجائے گا۔وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ بنیادی حقوق آئین کا دل اور روح ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے دل کی بات کی، میں نے نوٹ بک پر دل بنا لیا، تسلیم کرتے ہیں آرٹیکل 62 ون ایف مبہم ہے، اس کی تشریح کرنا مشکل ٹاسک ہوگا، ہماری نظر میں آرٹیکل 62 اور 63 آزاد اور الگ الگ ہیں، جب تک ڈیکلریشن موجود رہے گی تو نا اہلی بھی موجود رہے گی۔ وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ 1985 تک کسی رکن کی نا اہلی کے لیے عدالتی فیصلہ ضروری نہیں تھاِ، عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بی اے ڈگری کی شرط سے ووٹرز کی پسند محدود ہوگئی۔ عدالت نے مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *