گر فردوس برؤے زمین است 

ارشد منیر چوہدری 


’’فیصلہ جموں و کشمیر کے عوام کا ہی چلے گا ‘‘ یہ تجزیہ معروف آسٹریلوی تجزیہ نگار و مصنف ڈاکٹر کرسٹوفر سنیڈن نے اپنے خصوصی سروے میں کیا تھا اور بالکل مبنی بر حقائق کیا تھا ۔ ہر رات کا انجام دن ہوتا ہے ۔ رات چاہے جتنی بھی لمبی اور تاریک ہوآخر کارسحر نمودار ہوتی ہے اور ساری تاریکی چھٹ جاتی ہے ۔ مظلوم کشمیروں پرمظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں لیکن اُن کے حوصلے تو کوہ ہمالیہ سے بھی بلند ہیں کہ ہمت ہی نہیں ہارتے ۔ آج ستر سال گزرنے کے باوجود کشمیری بھارت کی بالادستی کو ماننے پر تیار نہیں ہیں اور مزاحمت کی نت نئی راہیں وا ہوتی ہیں تو اِس کا صاف اور سیدھا مطلب یہی ہے کہ اگلے سترسال کے بعد بھی بھارتی جارحیت کو نہیں مانا جائے گا اور 8لاکھ سے زائد بھارتی سپاہ ناکارہ ثابت ہوں گی ۔ جغرافیائی تقسیم کے مطابق مقبوضہ وادی جموں و کشمیرکا رقبہ دو لاکھ چوبیس ہزار سات سو اٹھہتر مربع میل ہے اور بھارت کے زیر قبضہ علاقہ میں 95لاکھ سے زائد مجبوو مقہور افراد کی آبادی ہے جس میں سے تقریباً مجموعی طورپر 80فیصد مسلمان آبادی پر مشتمل ہے ۔ آج کشمیر میں اوسطاً 11سے 12کشمیری خواتین و مردپر ایک بھارتی فوجی مسلط ہے ۔
آج اس پوری وادی کا کوئی گھرانہ ایسا نہیں ہے جس گھرسے بھارتی درندوں کے ہاتھوں باپ، بیٹا،بھائی شہید نہ ہوئے ہوں یاجس گھر سے عفت مآب بیٹیوں ، بہنوں کی عصمت دری نہ کی گئی ہو یا ماؤں کے تقدس کو قدموں تلے نہ روندا گیا ہو ۔کشمیر جس کو قائد اعظم ؒ نے شہ رگ قراردیاتھا آج تک اس شہ رگ سے خون ٹپک رہاہے اور ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں لیکن ستم یہ ہے کہ ہم نے کبھی بھی کسی بھی پلیٹ فارم پر ’’سب سے پہلے کشمیر ‘‘ کا نعرہ نہیں لگایا ، کشمیریوں کی بھارت سے واضح نفرت کے باوجود، اقوام متحدہ کی استصواب رائے کی قرارداد وں کے باوجودمسئلہ حل نہیں ہوا اور نہ ہی آئندہ اِس کے حل ہونے کے آثار نظرآتے ہیں کیونکہ امریکہ ، برطانیہ اور اسرائیل نے ہر پلیٹ فارم پر بھارت کی حمایت کی ہے اور افسوس اِس امر کا ہے کہ پاکستان کسی بھی سفارتی پلیٹ فارم پر اِس ایشو کو اُس انداز سے نہیں اٹھا سکا جس انداز سے اٹھا یا جانا چاہئے تھا ۔ ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘جناب قاضی حسین احمد رحمۃ اللہ علیہ نے 5جنوری 1989ء کو پہلی بار منانے کیلئے ایک ماہ بعد کی اپیل لاہور پریس کلب میں بذریعہ پریس کانفرنس کی تھی اورمیاں نوازشریف وزیر اعلیٰ پنجاب اور ازاں بعد محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم پاکستان نے تائید کی اور پہلی بار 5فروری 1989ء کو ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ منایا گیا ۔ ازاں بعد میاں نواز شریف نے حکومتی حیثیت دی مگر اب یہ صرف محض ایک دن اور ایک فیشن بن کر رہ گیاہے ۔ہم محض اِس دن کوئی بڑا جلسہ ، کوئی جلوس اور کوئی سیمینار منعقد کرلینے سے یا پھر کسی واک کا اہتمام کرلینے سے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا حق ادا کرلیا ہے جبکہ ہرگز ہرگز ایسا نہیں ہے اور نہ ہی ان جلسے ، جلوسوں کا بھارت کی صحت پر کوئی اثر پڑتاہے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت دنیا کی سب سے بڑی ’’جھوٹی جمہوریت ‘‘ثابت ہوئی ہے ۔آج بھی اِس جمہوریت نے کبھی مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے تو کبھی ماؤنواز باغیوں کو گھیرتے ہوئے نظرآتی ہے ۔ یہی بھارت سکھوں کیلئے شمشان گھاٹ ثابت ہواہے تو تامل ناڈوقبائل بھی بھارتی جارحیت سے ٹکراتے نظرآتے ہیں ۔ آج بھارت کے مظالم کو دیکھتے ہوئے بھارت کے اندر کا ایک مخصوص حلقہ تنگ آچکاہے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا قائل ہوچلاہے ۔CNBCکی نمائندہ خصوصی اور معروف بھارتی تجزیہ نگار اردون دتی رائے کہتی ہیں کہ بھارت کا جھوٹ بیچ دوراہے پھوٹ چکا ہے کہ کشمیر کے اندرسے مزاحمت ختم ہورہی ہے اورمیڈیا پر ایسے مظاظر دکھائے جارہے ہیں کہ اب کشمیری کافی ہاؤس میں بیٹھے موسم پر بات چیت کررہے ہیں یا پھر ٹی وی شوز پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ درحقیقت پچھلے تین چار سال سے ہر موسم گرما میں ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو مصر میں التحریر چوک سے مشابہ ہیں ، وہی مظالم ، وہی ظالم بھارتی فوجی سورمے مظلوم کشمیریوں پر اندھا دھند گولیاں برسارہے ہیں اور وہی جمہوریت کے جیالے خواتین پر شیل برسارہے ہیں ۔وہ لکھتی ہیں کہ حقیقت یہ ہے آزادی کے متوالے آزادی کے حصول تک امن سے نہیں بیٹھیں گے اور یہ کٹھن راستہ کشمیریوں کو منزل مقصود تک ضرورپہنچائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا ظالم چہرہ تب سامنے آتاہے جب بھارتی سورمے وسیع پیمانے پر پکڑ دھکڑ کرتے ہیں اور سینکڑوں کشمیریوں کو بغیر کسی خطاو جرم کے جیلوں میں ٹھونس دیاجاتاہے اور جب لوگوں کے گھروں کی کھڑیوں کو توڑ کر اُن کے گھروں میں داخل ہوتے ہیں اور محض لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی خاطر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے بیس تیس نوجوانوں کو شہید کردیتے ہیں تو بھارت کا مکروہ چہرہ نمودارہوجاتاہے ۔
اسی طرح امریکی صحافی ڈیوڈ بریس مین نے کشمیر کا دورہ کیا اور تسلیم کیا کہ ’’مقبوضہ کشمیر فوجی کیمپوں، تفتیشی مراکز ، جیلوں ، بینکروں اور مورچو ں سے اٹاپڑاہے جس کی وجہ سے رقبہ اور آبادی کے تناسب سے دنیا میں سب سے بڑا’’ فوجی قبضہ‘‘ والا علاقہ بن چکاہے ‘‘۔مقبوضہ جموں و کشمیر جس پر نام نہاد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نے غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے وہاں کشمیری بیواؤں کی تعداد22ہزار 806، یتیم کشمیری بچوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد، کشمیری خواتین کے ساتھ گینگ ریپ سے متاثر تعداد10ہزار کے زائد اور سوالاکھ سے زائد کشمیری ناکردہ جرم کی پاداش میں جیلوں میں زندگی گزار رہے ہیں ۔
بھارتی اٹوٹ انگ کے کے نظریے پر اب دراڑیں پڑتی نظر آتی ہیں ، یہ دراڑیں کشمیریوں کی جہد مسلسل ، پُرامن احتجاجوں ، بغیر اسلحہ کے سیاسی جدوجہدکے نتیجہ میں مزیدگہری ہوتی جائیں گی جبکہ دوسری طرف پاکستان اگر صرف ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ پر اکتفا نہ کرے بلکہ اپنے مؤقف کو بھرپور سفارت کاری کے ذریعے پوری دنیا میں ہر پلیٹ فارم پر اٹھائے تو بھارت سے کئی اردون دتی رائے اٹھیں گی ۔ کچھ عرصہ قبل ’’عام آدمی پارٹی ‘‘ کے سربراہ اروند کجریوال نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کا مطالبہ کیا تھا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج سے خصوصی اختیارات ’’پبلک سیفٹی ایکٹ‘‘ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ یہ سب اُس اندھیرے کے چھٹنے کی نشاندہی کرنے کے آثار ہیں جو برسوں سے مظلوم کشمیریوں پر چھایا ہواہے ۔جو اِک سہانی صبح کی نوید ہے جب کشمیر لہو رنگ نہ ہوگا بلکہ رنگوں سے مزین اصل تصویر جنت ہوگا ، جو کشمیریوں کو جھیل ڈل کے کنارے موسم گرما کی رُت میں گہرے پانیوں پر تیرتے بجرے دکھائی دینے کے آثار ہیں ۔
آج کشمیرکے ایک لاکھ سے زائد شہیدوں کا لہو مسلمانان عالم اور پاکستان کے تمام باسیوں کو آواز دے رہاہے تم کب بیدارہوگے اور اقوام عالم ، سلامتی کونسل کا ضمیر کب جاگے گا اور کشمیر ۔۔۔لہو ٹپکاتا ہوا کشمیر ۔۔۔کب آزادہوگا ؟کب ٹوٹ گی ظلم کی زنجیر اور کب آزاد ہو گا کشمیر ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *