سیلفی کےشوقین یہ خبرضرورپڑھ لیں

لندن(وائس نیوز)نئی تحقیق سےیہ بات سامنےآئی ہے کہ سیلفیاں لینے کے شوقین افراد دراصل ذہنی مریض ہوتے ہیں، جو خود پسندی اور اپنی آپ میں اتنے مگن ہوتے ہیں کہ اکثر سیلفی کے دوران حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں،برطانوی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیلفی لینے والے افراد دراصل ذہنی طور پر بیمار ہوتے ہیں، اس بیماری کا نام سیلفیٹس رکھا گیا ہے اور اس کی تین اقسام بتائی گئی ہیں،سیلفیاں لینے والے افراد بنیادی طور پر لوگوں کی توجہ حاصل کرنا چاہتےہیں اور ان میں خوداعتمادی کی کمی ہوتی ہےیہ لوگ وقتاً فوقتاً سیلفیاں کھینچتے ہیں اور اپنی سماجی ساکھ کو بڑھانے اور خود کو گروپ کا حصہ محسوس کرانے کی کوشش کرتے ہیں،جرنل آف مینٹل ہیلتھ اینڈ ایڈکشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، امریکن سائکاٹرک ایسوسی ایشن کی جانب سے پہلی مرتبہ سیلفیٹس کا ذکر 2014ء میں ایک مقالے میں کیا تھا جس کے بعد برطانیہ کی ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی ،بھارت کے اسکول آف مینجمنٹ تھیاگرجر نے اس بات پر تحقیق شروع کر دی کہ آیا واقعی اس بات میں صداقت ہے،ان کا کہنا ہے کہ یہ مرض تین کیٹگری میں تقسیم کیا جا سکتاہےجس میں بارڈرلائن (ذہنی مریض بننے کے قریب پہنچ جانا)، اکیوٹ (شدید مرض میں مبتلا ہو جانا) اور کرونک (دائمی مرض یعنی بیماری بہت پرانی ہے) شامل ہیں،ناٹنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر مارک گریفتھ کا کہنا ہے کہ نئی ریسرچ سے ماہرین کو وہ تمام ڈیٹا مل جاتا ہے جو سیلفیٹس کیلئےدرکار تھا،انہوں نے کہا کہ گزرتے وقت کے ساتھ ممکن ہے کہ سیلفیاں لینے کا طریقہ تبدیل ہوجائے لیکن 6 ایسے عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے جو کسی بھی سیلفیٹس کے مریض کو پہچاننے کیلئے کافی ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ مریض خود کو سیلفیاں لینے سے روک نہیں پاتا اور ہر وقت تصاویر لیتا ہے اور انہیں دن میں 6 مرتبہ آن لائن شیئر کرتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *