وزیراعظم نااہل کابینہ تحلیل

اسلام آباد (وائس آف سوسائٹی نیوز)نواز شریف , حسن , حسین , مریم نواز , کیپٹن (ر) صفدر‌ اور ڈار کیخلاف 6 ھفتوں میں نیب ریفرنس احتساب عدالت 6 ماہ میں فیصلہ کرے ، سپریم کورٹ اثاثو ں سے متعلق حقا ئق چھپائے ، جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا ،عوامی نمائندگی ایکٹ اور آرٹیکل 62کے تحت دیانتدار نہیں رہے ، قومی اسمبلی کی رکنیت ختم ،صدر جمہوری تسلسل اور ایوان سے نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے اقدامات کریں ،احتساب عدالت کو جعلی دستاویزات پر کارروائی کا اختیارلندن فلیٹس، عزیزیہ ملز اور دیگر 16کمپنیوں کے متعلق ریفرنس دائر ہونے کے بعد عدالت عظمیٰ کے ایک جج نگرانی کرینگے ،سپریم کو رٹ کے پانچ رکنی بینچ کا متفقہ فیصلہ،الیکشن کمیشن سے نوازشریف کی قومی اسمبلی رکنیت ختم کر نے کا نو ٹیفکیشن جار ی ، وزیر اعظم عہدے سے سبکدوش پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیدیا ۔ اثاثوں سے متعلق حقائق چھپانے پر وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے ۔ جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا۔الیکشن کمیشن فوری نواز شریف کی بطور ممبر مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)نا اہلی کا نو ٹیفکیشن جا ری کر ے ، عدالت نے اپنے فیصلے میں صدر مملکت ممنون حسین کو ہدا یت کی ہے کہ وہ آئین کے تحت ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں، لندن فلیٹس، عزیزیہ سٹیل ملز اور دیگر 16کمپنیوں کے معاملے پروزیر اعظم نوازشریف،حسین نواز اور حسن نواز کیخلاف 3ریفرنسز جبکہ لندن فلیٹس کے معاملے پر مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر کے خلاف بھی ایک ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا۔عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا۔نیب کو فیصلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یہ ریفرنسز چھ ہفتے میں داخل کرے اور چھ ماہ کی مدت میں ان کا فیصلہ کیا جائے ،اس حوالے سے ان ریفرنسز کی نگرانی سپریم کورٹ کے ایک جج کرینگے ۔فیصلے کے بعدنوازشریف اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے اور وفاقی کابینہ تحلیل ہوگئی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد ،جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجا زالاحسن پر مشتمل پا نچ رکنی لارجر بینچ کمرہ عدالت نمبر ایک میں دن 11 بجکر 58منٹ پر پہنچا۔دوپہر12 بجے کے قریب جسٹس اعجاز افضل نے متفقہ فیصلہ پڑھ کر سنایا۔پانچوں ججز نے نواز شریف کو دبئی کی کیپٹل ایف زیڈ ای کمپنی میں اپنی قابل وصول تنخواہ (اثاثہ )کو ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دیا ،عا م انتخابات 2013کے کاغذات نا مزدگی میں متحدہ عرب امارا ت کی کیپٹل ایف زیڈ ای جبل علی کمپنی کے قابل وصول اثا ثہ جات جو کہ نکا لے نہیں گئے ان کو عوامی نما ئندگی ایکٹ 1976 کے سیکشن12ٹو ایف کے تحت ظا ہر نہ کر نے پراور غلط ڈیکلیئر یشن داخل کر نے پر میا ں نواز شریف عوامی نما ئندگی ایکٹ کے سیکشن 99ایف اور آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت صادق اور امین نہیں رہے ،جس وجہ سے ان کو بطو ر ممبر پارلیمنٹ نا اہل قرار دیا جاتا ہے ، الیکشن کمیشن نواز شریف کی بطو ر ممبر پارلیمنٹ نا اہلی کا فوری نو ٹیفکیشن جاری کرے اور ان کا بطور وزیر اعظم عہدہ بھی ختم ہو جائے گا۔ نواز شریف نے تنخواہ کی وصولی سے بھی انکار کیا تھا لیکن ویج پروٹیکشن سسٹم کے تحت تمام ملا زمین کو الیکٹرانک سسٹم کے تحت ادائیگیو ں نے بھی ان کے بیان کو جھو ٹا قرار دیا ہے ۔فیصلے میں کہا گیا کہ سوال یہ تھا کہ نواز شریف کے کیپٹل ایف زیڈ ای سے پیسے کو ظاہر نہ کیا تو کیا اس پر نا اہلی ہو سکتی ہے تو عوامی نما ئندگی ایکٹ میں لفظ اثاثہ جات کو بیان نہیں کیا گیا اس لیے کیس کے طور پر اس کے عمومی مقصد کو لیا جا تا ہے ،جب تنخواہ ایک قانونی مقصد کے تحت ایک اثاثہ تھا تو نواز شریف کو چا ہیے تھا کہ اس کو اپنے اثاثوں میں ظا ہر کر تے تو اس با رے میں نواز شریف کے وکیل نے کہا انہو ں نے کبھی بھی تنخواہ وصول نہیں کی ،عدالت نے کہا کہ کیا نواز شریف نے دبئی میں ورک پرمٹ (اقامہ) حاصل کیا،کیا وہ ایف زیڈ ای کمپنی کے چیئرمین کے عہدے پر رہے اور کیاوہ تنخواہ کے حقدار تھے تو فاضل وکیل کے جواب مثبت تھے تا ہم فاضل وکیل نے جواب میں کہا وزیر اعظم نے 10000درہم تنخواہ وصول نہیں کی ،جب کوئی قابل وصول تنخواہ لی نہ گئی ہو تو وہ قابل وصول اثاثہ ہو تو نواز شریف کو چا ہیے تھا کہ وہ اس کو کا غذات نامزدگی میں ظاہر کر تے ،جب یہ کہا گیا کہ انہو ں نے تنخواہ وصول نہیں کی تو نہ لی جا نے والی تنخواہ کو قابل وصول ہو نے سے روکا نہیں جا سکتا یہ ایک اثاثہ ہے نواز شریف نے اپنے یہ اثاثے ظاہر نہیں کیے تو یہ غلط ڈیکلیئریشن کے مترادف ہے ۔ اس کے بعد نواز شریف آئین کے آرٹیکل 62ون ایف اور عوامی نما ئندگی ایکٹ کے 99ون ایف کے تحت صادق اور امین نہیں ہیں۔ فیصلے میں عدالت نے نیب کو ہدا یت کی ہے کہ وہ ایون فیلڈ لندن فلیٹس کے حوالے سے نواز شریف ،مریم نواز ،حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کے خلاف ریفرنس داخل کرے ،نیب یہ ریفرنس فیصلے میں بتا ئے گئے مواد، اس سے متعلقہ جو مواد نیب میں ہو اور میو چل لیگل اسسٹنس (ایم ایل اے ) کے تحت جو مواد حاصل ہوا س کی بنیاد پر داخل کر ے ،نیب دوسرا ریفرنس عزیزیہ سٹیل ملز کمپنی اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے نواز شریف ،حسین نواز اور حسن نواز کے خلاف ریفرنس داخل کر ے ،نیب تیسرا ریفرنس نواز شریف ،حسین نواز اور حسن نواز کے خلاف16دیگر کمپنیوں کے حوالے سے دا خل کر ے ،نیب چو تھا ریفرنس آمدن سے زیادہ اثاثہ جات رکھنے پر وزیر خزانہ اسحق ڈار کے خلاف دا ئر کر ے ،نیب کو ہدا یت کی گئی کہ وہ شیخ سعید ،مو سیٰ غنی ،کاشف مسعود قاضی ،جاوید کیا نی اور سعید احمد کو بھی شا مل تفتیش کر ے جوکہ اثاثہ جات اور آمدن سے زائد اثاثہ جات رکھنے کے حوالے سے نواز شریف ،مریم نواز ،حسین نواز،حسن نوازاور اسحق ڈار کے ساتھ بلواسطہ یا بلا واسطہ تعلق رکھتے ہیں ، اگر کوئی اور بھی اثاثہ سامنے آتا ہے تو نیب اضافی ریفرنس داخل کرا سکتا ہے ۔اگر احتساب عدالت سمجھتی ہے کہ جواب گزارو ں یا کسی اور فرد کی جانب سے دا خل کرا ئی جا نیوا لی دستا ویزات یا بیان حلفی جعلی اور جھو ٹے ہیں تو اس صورت میں احتساب عدالت قانون کے تحت اس کیخلاف منا سب ایکشن لے سکتی ہے ۔فیصلے میں چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کی گئی کہ وہ پاناما کیس کے فیصلے پر عملدرا ٓمد کی نگرانی کیلئے ایک جج کی نا مزدگی کر دیں جو کہ نیب اور احتساب عدالت کی کارروائی کی نگرانی کر یں ۔جسٹس اعجاز افضل نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چیف جسٹس میا ں ثاقب نثار نے تین ججو ں پر مشتمل عملدرا ٓمد بینچ تشکیل دیا اور جے آئی ٹی نے 10 جولائی کو عملدرآ مد بینچ کو اپنی رپورٹ پیش کی ،اس رپورٹ پر فریقین کواعتراضات سے آگاہ کر نے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا اور نواز شریف کی جانب سے خواجہ حارث، اسحق ڈار کی جانب سے وکیل طارق حسن نے متفرق درخواست داخل کر تے ہوئے اعتراضات بیان کیے جبکہ درخواست گزارو ں کی جانب سے نواز شریف کو نا اہل قرار دینے کی استدعا کی گئی ،درخواست گزارو ں نے مزید بتایا کہ برطا نیہ سے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر ایرل جارج اور مو سیک فو نیسکا(بی وی آئی ) سے کاغذات کی تصدیقی کا پیا ں موصول ہو ئی ہیں،جس سے ظاہر ہوا ہے کہ مریم نواز ہی لندن فلیٹس کی بینیفشل مالک ہے اور ان کی بطور ٹرسٹی دستا ویزات جعلی ہیں اس لیے ان کیخلاف جعلسازی پر کارروائی کی جائے ،جبکہ کیلبری فونٹ 2007 میں ما رکیٹ میں دستیا ب ہوالیکن اس کو 2006میں ٹرسٹ ڈیڈ کی تیاری کے لیے استعمال کیا گیا اور اہلی سٹیل ملز سے گلف سٹیل ملز کے 25 فیصد حصص جو کہ 12ملین درہم بنتے ہیں اس با رے میں طارق شفیع کا بیان بھی درست نہیں ہے جبکہ قطری نے بھی جے آئی ٹی کو اپنا بیان ریکارڈ نہیں کرایا ،جواب گزارو ں کو 20اپریل کے عدالتی حکم میں سوالات کے جواب اور منی ٹریل فرا ہم کر نے کے لیے منا سب مو قع دیا گیا لیکن اس دوران ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا اور طارق شفیع کے بیان حلفی اور قطری خط میں تضادات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی معتبر نہیں ، جے آئی ٹی نے جو بیانات ریکارڈ کیے ان میں مطابقت نہیں، جس سے منی ٹریل کی کہا نی متا ثرہوئی ،دبئی سے جدہ مشینری کی ٹرانسفر اور عزیزیہ سٹل ملز کے قیام کے شواہد کا ابھی انتظار ہے ،ہل میٹل کے قیام کے ذرائع بھی ثابت نہیں ہو سکے ،جے آئی ٹی کی رپورٹ کے تحت کوئی شک و شبہ با قی نہیں رہتا کہ نواز شریف ، ان کے بچو ں کے اوربے نا می داراثاثہ جات ان کی آمدن سے غیر متنا سب ہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے عدالت کے رو برو اپنا مو قف اپنایا کہ جے آئی ٹی نے اپنے مینڈیٹ سے تجا وز کیا ہے ،عدالت نے حکم بھی نہیں دیا اور حدیبیہ پیپرز ملز کو جے آئی ٹی نے کھو ل دیا جبکہ حسین نواز ،حسن نواز اور مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ لندن فلیٹس حسین نواز کے ہیں اور ان کی منی ٹریل قطری لیٹر میں بیان شدہ ہے ،جبکہ اسحق ڈار کے وکیل طارق حسن کا کہنا تھا اسحق ڈار کے اثاثہ جات کا وقتاً فوقتاً آڈٹ ہوا ہے اور ان میں کو ئی بے ضابطگی نہیں پائی گئی ،عدالت نے کہا تمام فریقین کے معروضات کو سنا گیا اور اب تک حاصل ہو نیوالے مواد کے محتاط تجزیہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف ،مریم نواز ،حسین نواز اور حسن نواز کیخلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ لمیٹڈ،ہارت سٹون پراپرٹیزلمیٹڈ،قیو ہولڈنگ لمیٹڈ،کیونت ایٹن پلیس ٹو لمیٹڈ،کیو نٹ سیلون لمیٹڈ،کوی نٹ لمیٹڈ،فلیگ شپ سکیورٹیز لمیٹڈ،کیو نٹ گلوسسٹر پلیس لمیٹڈ ،کیو نٹ پیڈینگٹین لمیٹڈ ،فلیگ شپ ڈویلپمنٹ لمیٹڈ ،الانا سروسز،لانکن سا،چاڈرن انشورنس،انسباچر انشورنس، کومبر انشورنس اور ایف زیڈ ای کیپٹل کے حوالے سے مواد بادی النظر میں آرڈیننس کے سیکشن نو دس اور پندرہ کے تحت کیس بن سکتا ہے ، جبکہ اسحق ڈار کے خلاف یہ معاملہ ہے کہ ان کے تھوڑے عرصہ میں ہی اثاثہ جات 9.11ملین سے 831.70ملین ہو گئے اور یہ 91فیصد تک بڑھ گئے ،عدالت نے کہا کہ ہما رے سامنے یہ دلیل پیش کی گئی کہ جے آئی ٹی نے حدیبیہ پیپرز ملز کیس کو کھو ل کر آئین سے تجا وز کیا ہے جبکہ یہ ریفرنس لاہور ہائیکورٹ نے ختم کر دیا تھا لیکن عدالت نے کہا کہ یہ درست نہیں ہے کیو نکہ جے آ ئی ٹی نے صرف اس ایما پر اپنی سفا رشات پیش کی ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں رپورٹ کی تیاری پر جے آئی ٹی کے اراکین کی کارکردگی کو سراہا ہے اور مزید کہا ہے کہ جے آئی ٹی کے اراکین کی مدت ملا زمت کو تحفظ فرا ہم کیاگیا ہے ۔ان ارکان کی نامزد کر دہ جج کو بتا ئے بغیر ٹرانسفر و پوسٹنگ نہیں کی جا ئے گی۔ عدالت نے پاناما کیس میں پیش ہو نے والے وکلا کو بھی عدالت کی معاونت کر نے پر سراہا۔تین رکنی عملدرآمد بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کو کورٹ آرڈر قراردیاگیاہے ۔بعدازاں آرڈر آف کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی پڑھ کر سنایا۔سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کا 25صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا۔ فیصلہ جسٹس اعجاز افضل نے تحریر کیا۔ فیصلہ 18صفحات جبکہ کورٹ آرڈر7صفحات پر مشتمل ہے ۔اس سے قبل جسٹس آصف سعید کھو سہ اور جسٹس گلزار احمد نے 20اپریل کو اپنے اقلیتی فیصلے میں لندن جائیداد کو بیان نہ کر سکنے پر وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *