مریم نواز شریف نے اثاثے چھپائے ، ٹیکس چوری کی :جے آئی ٹی نوے کی دہائی میں ان کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ، آمدن سے زیادہ قرار دے دیئے گئے

اسلام آباد ( وائس آف سوسائٹی نیوز) جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم صفدر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے 92-1991 میں انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے شروع کئے ، مریم صفدر کے جمع کردہ اثاثہ جات میں نوے کی دہائی میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھنے میں آیا مگر ان کے بارے میں ذرائع آمدن کو ظاہر نہیں کیا گیا ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مریم صفدر کے اثاثہ جات کی مالیاتی تفصیلات کے تجزیئے اور ایف بی آر کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ اس میں تضاد ہے جو کہ اثاثہ جات اور ٹیکس کو بچانے کے مترادف ہے ۔ مریم صفدر نے بی ایم ڈبلیو کی ملکیت ظاہر کی جس کو انہوں نے کلیم کیا کہ ان کو یہ کار متحدہ عرب امارات کی ایک رائل فیملی نے تحفہ میں دی ہے ۔ مریم صفدر نے کہا ہے کہ انہوں نے کسٹم ڈیوٹی خود ادا کی ہے جبکہ ان کے ایسے کوئی ظاہری ذرائع آمدن نہیں تھے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی کار ان کی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں اٹھائیس ملین میں فروخت کردہ ظاہر کی گئی ہے ۔ اگلے ہی سال ویلتھ سٹیٹمنٹ میں دو بارہ ظاہر کی گئی ہے ، گاڑی کی مالیت جو انہوں نے بتائی اور محمد صفدر نے اس کار کی مالیت چھ ملین بتائی ہے اور کہا ہے کہ یہ کار 2016 تک ہماری ملکیت رہی ، یہ بیان اثاثہ جات اور ٹیکس چھپانے کے مترادف ہے ۔ یہی نہیں کہ انہوں نے اثاثہ جات ظاہر کردہ ذرائع آمدن کے بغیر حاصل کئے بلکہ انہوں نے لاکھوں روپے قرضہ لیا جس کے لئے ذرائع آمدن کو خفیہ رکھا گیا تھا ۔ 2008 سے مریم صفدر نے بھاری تعداد میں تحفے وصول کرنا شروع کئے جن کی مالیت کروڑوں میں تھی اور ان کو زرعی اراضی کے حصول کے لئے استعمال کیا گیا ، کیونکہ زرعی اراضی کی آمدن پر ٹیکس کی چھوٹ ہے جس کی بدولت انہوں نے اس رقم کو قانونی شکل میں منتقل کر لیا ۔ مریم صفدر کے اثاثہ جات اور دستیاب ایف بی آر ریکارڈ کی چھان بین اور تجزئیے سے معلوم ہوتا ہے کہ مریم صفدر کے اثاثہ جات بادی النظر میں غیر متناسب ہیں اور ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ مریم صفدر نے 92-1991 نے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے شروع کئے ، ایف بی آر نے ان کا مکمل ٹیکس ریٹرن اور ویلتھ سٹیٹمنٹ کا ریکارڈ نہیں دیا ، 1991-92، 92-93، 95-96، 98-99، 99-2000، 2004-2005، 2008-2009 میں انہوں نے ویلتھ سٹیٹمنٹ فائل نہیں کی جبکہ انہوں نے 1991-92 ، دو ہزار چار پانچ اور دو ہزار آٹھ نو کے آئی ٹی ریٹرن بھی داخل نہیں کئے ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مریم صفدر جب طالبہ تھیں تب سے ہی فیملی بزنس کا حصہ تھیں ، ان کے پاس انیس سو اکیا نوے بانوے میں ایک اعشاریہ سینتالیس ملین کے اثاثہ جات تھے اور ویلتھ ٹیکس ریٹرن داخل کرنا شروع کئے ، یہ بات بہت اہم ہے کہ ان کے کوئی ظاہری ذرائع آمدن نہیں تھے مگر وہ کروڑوں روپے کی مالک تھیں ، کسی بھی ظاہر کردہ ذرائع آمدن کے بغیر صرف ایک سال کے عرصے 93-1992 میں ہی ان کے اثا ثہ جات اکیس فیصد تک بڑھ گئے جو کہ ایک اعشاریہ سینتالیس ملین سے تیس اعشاریہ پا نچ ملین تک پہنچ گئے ۔ مریم صفدر کے پاس انیس سو ترانوے چورانوے تک حدیبیہ پیپرز ملز کے چار لاکھ چوبیس ہزار چار سو حصص تھے اور وہ انیس سو چھیانوے سے اٹھانوے تک کمپنی کی ڈائریکٹر بھی تھیں ۔ ایس ای سی پی میں موجود ایم آر ٹی ایم ایل کے مالیاتی ریکارڈ کے مطابق مریم صفدر کے دو ہزار ایک سے تین کے درمیان ایک ہزار حصص تھے جن کو ویلتھ ٹیکس میں ظاہر نہیں کیا گیا ۔ ایس ای سی پی ریکارڈ کے مطابق اتفاق شوگر ملز میں بھی مریم صفدر کے پچپن ہزار حصص تھے جسے انہوں نے ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ظاہر نہیں کیا ۔ سی ایس ایم ایل (شو گر مل) میں مریم صفدر کے ایک کروڑ چوبیس لاکھ چودہ ہزار پچپن حصص دو ہزار دس کے دوران موجود تھے جبکہ انہوں نے دو ہزار نو دس ویلتھ سٹیٹمنٹ میں چون لاکھ چودہ سو پچپن حصص ظاہر کئے جو کہ اثاثہ جات کو چھپانے اور ٹیکس چوری کے مترادف ہے ۔ دو ہزار نو دس کے ریکارڈ کے مطابق مریم صفدر کے تہتر اعشاریہ پچاس ملین کے اثاثہ جات تھے جن میں چوہدری شوگر ملز سے بیالیس ملین کا قرضہ ، نواز شریف سے دو اعشاریہ دو ملین کا قرضہ ، کلثوم نواز سے ایک ملین کا قرضہ شامل ہیں ۔ نواز شریف نے مریم صفدر کے نام پر اپنے پرسنل ریٹرن میں چوبیس اعشاریہ پچاسی ملین کی زمین کو ظاہر کیا جو کہ دو ہزار دس گیارہ کی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ظاہر کیا تھا جبکہ اس سال مریم صفدر کے اثاثہ جات میں اسے ظاہر نہیں کیا گیا جو اثاثہ جات کو چھپانے کے برابر ہے ۔ انہوں نے دو ہزار دس گیارہ میں اکتیس اعشاریہ دس ملین کے تحائف وصول کئے اور اثا ثہ جات ایک سو دو اعشاریہ ترانوے ملین ہو گئے ، دو ہزار گیارہ بارہ میں ا کیانوے اعشاریہ چھ ملین کے تحائف لئے اور دو سو دس اعشاریہ آٹھ ملین کے اثاثے ہو گئے ، دو ہزار بارہ تیرہ میں پینتیس اعشاریہ چھیاسی ملین کے تحائف لئے اور دو سو چھتیس اعشاریہ پانچ ملین اثاثے ہو گئے ۔ دو ہزار تیرہ چودہ میں ایک سو بانوے اعشاریہ زیرو پانچ ملین کے تحائف لئے اور تین سو سیتالیس اعشاریہ چھ ملین کے اثا ثے بن گئے ، دو ہزار چو دہ پندرہ میں تین سو دس اعشاریہ تریپن ملین کے تحائف حاصل کئے اور چھ سو چون اعشاریہ بتیس ملین کے اثاثے ہو گئے ۔ دو ہزار پندرہ سولہ میں 172 ملین کے تحائف لئے اور آٹھ سو تیس اعشاریہ تہتر ملین کے اثا ثے ہو گئے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مریم صفدر کا کوئی ذرائع آمدن نہ تھا جس سے ان کی آمدن میں اضافہ ہوتا رہتا اور ان کے شو ہر کا بھی 14-2013 تک کوئی ذرائع آمدن نہ تھا ۔ مریم نواز اپنے والد اور بھائیوں سے بھاری مالیت کے تحائف وصول کرتی رہی ہیں جس سے ان کے اثا ثے 2016-2009 تک ساڑھے تہتر ملین سے بڑھ کر آٹھ سو تیس اعشاریہ تہتر ملین تک جا پہنچے ۔ اس مدت کے دوران انہوں نے آٹھ سو چار ملین کی زرعی اراضی خریدی جو ان کی ظاہر کردہ ذرائع آمدن تھی ۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں مر حوم میاں محمد شریف کے اثاثہ جات بارے تفصیلات بتاتے ہوئے اپنی فائنڈ نگز میں بتایا ہے کہ اگرچہ میاں محمد شریف اپنے خاندانی کاروبار( جس نے بہت ترقی کی) میں شریک رہے ہیں مگر انہوں نے طویل مدت تک انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے ۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان کی کمپنیوں کے کوائف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی کمائی کے ذرائع ان کے اثاثوں کے بڑھنے سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ان کے اثاثہ جات میں تیزی 1992-93میں سب سے زیادہ تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میاں شریف کے کاروبار کی معاشی صورت حال پر تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بادی النظر میں میاں شریف کے پاس اثا ثہ جات غیر متناسب اور اپنے بتائے گئے ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *