اسے کیسے میں لکهوں گی

اسے کیسے میں لکهوں گی
میں بےبس ہوں
کہاں سے لفظ وہ لاؤں
جو دل کا حال کہہ پائیں
میں ایسے لفظ ڈهونڈوں گی
جنہیں لکهوں تو کاغذ پر دئیے سے جگمگا اٹهیں
جنہیں سوچوں تو ذہن و دل کا ہر گوشہ مہک جائے
جنہیں ہونٹوں پہ لاؤں تو ” دُعــا ” کے
پهول کهل جائیں
کہیں سے لفظ مل جائیں
دهنک اوڑهے ہوئے
کچهہ لفظ مجهہ کو ڈهونڈنے ہوں گے
کہ جن سے نظم لکهنی ہے
اسے سب کچهہ بتانا ہے
مجهے کتنی محبت ہے مجهے کتنی عقیدت ہے
مجهے کتنی ضرورت ہے
(چوہدری محمد یاسین مہر )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *