ترک ستم کا ارادہ نہیں ہے تجھ سے


غزل ثریا بابر


ترک ستم کا ارادہ نہیں ہے تجھ سے تو ایسا بھی وعدہ نہیں ہے
پگھل جائے گا سنگ دل دھیرے دھیرے طلب عشق کی بھی تو زیادہ نہیں ہے
چلی ہے عجب رسم بے پردگی کی بدن پر حیا کا لباد ہ نہیں ہے
میں کچھ بھی کہہ دوں اور وہ مان جائے طبیعت کا اتنا بھی سادہ نہیں ہے
چھلکنے کو ہر پل ثریا کیوں آنکھیں ذرا صبر کا اب تو مادہ نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *