یومِ عظمت و رفعت**6 ستمبر۔جرات و بہادری ،ایثار و قربانی اور شجاعت و محب الوطنی کے کارناموں کی لا زوال داستانوں کا دن


** ۔تحریر ۔ رشید احمد نعیم


6 ستمبر کی یاد منانے کے لیے جب کتابِ ماضی کی ورق گردانی کی جاتی ہے تو وطنِ عزیزکے دفاع کے لیے ولولہ ،اتحاد اور نظم و ضبط کی ایک لا زوال داستان سامنے آتی ہے۔جب رات کے اندھیرے میں ہمارے چالاک و مکار مگر بزدل دشمن نے ہمارے وطن عزیز کی سرحدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے پاک سرزمین پر حملہ کر دیا۔رات کی تاریکی میں اس طرح کا حملہ کرنا بین الاقوامی اصولوں کو پاؤں تلے روندنے کے مترادف تھامگر اخلاقیات سے عاری ہندو قوم کیا جانے کہ اصول و قواعد کس چیز کا نام ہے ؟ بھارت کومقبوضہ کشمیرمیں مجاہدین کی فتوحات ہضم نہیں ہو رہی تھیں لہذا اس نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر باضابطہ اعلانِ جنگ کرنے کی اخلاقی پابندی کو بالا طاق رکھتے ہوئے لاہور کے محاذ پر حملہ کر دیا۔ بھارت کے نا عاقبت اندیش حکمران اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ اس طرح وہ پاکستان کو فتح کر لیں گے مگر غیور ، بہادر اور محب وطن پاکستانیوں نے قومی یکجہتی کا وہ مظاہرو کیا کہ دشمن ہکا بکا رہ گیا۔شجاعت و بہادری کی داستانیں رقم کرنے والی ہماری مسلح افواج نے دشمن کی جارحیت کا اس طرح منہ توڑ جواب دیا کہ ان کے ناپاک اور مذموم عزائم خاک میں مل گیے۔ہماری بہادر افواج کے جوانوں نے بھارتی فوج کے دانت کھٹے کر دیئے اور فوج کے ساتھ ساتھ ملی جذبے سے سرشار قوم نے اپنے سے پانچ گنا بڑی طاقت کی وہ درگت بنائی کہ ساری دنیا حیران ہو گئی اور ہماری فوج کے جانبازوں نے اپنے لہو سے ہماری تاریخ کے وہ روشن باب رقم کئے جن پر ہمیں فخر ہے۔ان کے یہ عظیم کارنامے ہمارے لیے قیمتی سرمایہ ا ور مشعلِ راہ ہیں۔ بھارت کو اپنے جن ٹینکوں پر بڑا مان تھا ، ہمارے شیر دل سپاہیوں نے ان کو ریزہ ریزہ کر کے ایک نئی داستان رقم کی۔6 ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے جب پاکستان کے جوانوں نے اپنی سرحدوں کے بہادر اور غیّور پاسبانوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوایا۔ پاکستان کے غازی اور شہیدوں نے شجاعت کے ناقابل یقین کارناموں میں اپنی کامیابی کا لوہا گاڑھا ان کی فرض شناسی اور حب الوطنی جدید جنگوں کی تاریخ میں درخشندہ مقام پر فائز کی جا سکتی ہے۔سترہ روزہ اس تاریخی جنگی معرکے میں بھارت کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کر پڑا کیو نکہ بھارت کو صرف اپنے جنگی سازوسامان پر گھمنڈ تھا مگر اس کو اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ ا نہوں نے اس قوم پر وار کیا ہے ، دفاع وطن کے لیے کٹ مرنا جن کے ایمان کا حصہ ہے۔ اس جنگ میں بہت سارے ایمان افروز وقعات رقم ہوئے۔ فقیر اور بھکاری لوگوں نے اپنی جمع پونجی افواج پاکستان کے امدادی کیمپوں میں خوشی خوشی جمع کروا دی۔خون کے عطیات دینے والوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں اور پھر جب ایک دبلے پتلے نوجوان کا خون لینے سے یہ کہہ کر انکار دیا گیا‘‘کہ تیر ا دو کلوو زن کم ہے اور تم خون نہیں دے سکتے‘‘ تو اس کی آنکھیں چھم چھم آنسو بہانے لگتی ہیں ۔ وہ نوجوان ایک دوکان پہ جاتا ہے۔ساری بات بتا کر دو کلو باٹ لیتا ہے ۔ کپڑوں میں چھپاتا ہے اور ایک بار پھر قطار میں لگ جاتا ہے ۔وزن پورا نکلتا ہے ۔ خون دیتا ہے اور خوشی خوشی دوکاندار کو شکریہ کے ساتھ باٹ واپس دیتا ہے ۔ایک اعلان پر کپڑوں اور بستروں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں ۔ امدادی کیمپوں پر راشن کے ڈھیر غلہ منڈی کے منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔ جذبہ ایمانی اور ایثار و قربانی کے مناظر دیکھ کر چشم فلک بھی فخر کرنے لگتی ہے۔ایسی قوم کو شکست دینا صرف کسی دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا تھا۔ آج پھر ہمارا دشمن سرگرمِ عمل ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک بار پھر مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوے اپنے تمام سیاسی و فروعی اختلافات کو بھول کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیں اور دشمن کو بتا دیں کہ یہ وطن ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے۔ہم اس کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اور پاکستان سدا زندہ و پائندہ رہے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *