ہماری منزل،مقصد اسلامی ریاست

 


اختر سردار چودھری، کسووال


پاکستان کو کیسا ہونا چائیے تھا ؟پاکستان کا قیام عمل میں لایا کس مقصد کے لیے تھا؟آج ہم کہاں کھڑے ہیں ؟خواب دیکھنے پر بڑی بڑی باتیں کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے ۔لیکن حقیقت بڑی بھیانک ہے ۔اتنی بھیانک کہ اس میں ہم بے سمت ہجوم جو خود کو قوم کہلانے پر بضد ہیں، اپنی منزل کا نشان تک کھو بیٹھے ہیں ۔ایک دور تھا جب مسلمان دنیا کی واحد سپر پاور ہوا کرتے تھے ۔مسلمانوں نے تقریبا پوری دنیا پر حکومت کی ہے ۔کبھی مسلمانوں کا اتنا دبدبہ تھا جیسا اب امریکہ کا ہے ۔زوال کیوں آیا لمبی کہانی ہے ۔پھر سہی ۔اب بات کرتے ہیں کیا مسلمان اپنے اس مقام کو کبھی دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں ؟۔اس کا جواب بھی ہاں میں ہے ایسا ہو سکتا ہے ۔کرنا بس یہ ہے کہ مسلمانوں کو خود مسلمان بننا ہے۔کون سا مسلمان نہیں ۔صرف مسلمان ۔سنی وہابی ،شیعہ ،دیو بندی ،بریلوی ،وغیرہ( نہیں) صرف مسلمان ۔ہمارا ایک نبی ﷺہے ایک قرآن ہے ایک اللہ ہے ہم کو صرف ایک قوم بننا ہے ۔
پاکستان کا قیام اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے عمل میں لایا گیا تھا ۔اسی مقصد کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے جان و مال اور عزت کی قربانیاں دیں تھیں ۔دسمبر 1947ء تک 47لاکھ سے زائد مہا جر پاکستان پہنچ چکے تھے ،یہ دنیاکی سب سے بڑی ہجرت تھی 10سے 15لاکھ مسلمانوں نے جام شہادت نو ش کیا، ان میں بیشتر تعدادعورتوں اوربچوں کی تھی ،قریباً ایک لاکھ مسلمان عورتوں کو اغواکر کے ان پر مجرمانہ حملے کئے گئے کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں لوٹ لی گئیں۔
پاکستان اب کیساہے؟ 18 سے 20کروڑ آبادی ،دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک فوج ۔ساتویں ایٹمی طاقت ،دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ،زرعی ملک ۔اس کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔اللہ نے اس کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے ۔ہمارے ہی ملک میں قانون ہمارا نہیں یعنی مسلم ملک میں اسلامی قانون نہیں ہے۔ جس مقصد کے لیے پاکستان بنا تھا، ابھی تک وہ پورا نہیں ہوا ۔پاکستان کی قومی زبان اردو ہے مگر صرف کاغذوں میں اصل میں عدالتی اور سرکاری زبان انگلش ہے ۔حتی کہ ہفتہ وار چھٹی بھی اسلامی نہیں اتوار کی ہے جمعہ کی نہیں ۔ہمارے پاس سوائے ماضی کے افتخار کے کچھ نہیں یا ہم ایک نعرہ پرست قوم ہیں۔ میرا پاکستان ایسا ہی ہونا چائیے جیسا اس کے بانیوں نے خواب دیکھا تھا ۔علامہ اقبال کے خواب کی تعبیرجیسا ، محمد علی جناح کے خیال جیسا ۔ پاکستان اپنے بانیان کے تصورات کا آئینہ دار ہو۔قائد اعظم نے ایک بار فرمایا تھا ۔
’’پاکستان میں عوامی حکومت ہوگی اور یہاں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کردوں جو ایک ظالمانہ اور قبیح نظام کے وسیلے سےپھل پھول رہے ہیں اور اس بات نے انہیں اتنا خود غرض بنا دیا ہے کہ ان کے ساتھ عقل کی کوئی بات کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ عوام کی لوٹ کھسوٹ ان کے خون میں شامل ہوگئی ہے ۔ انہوں نے اسلام کے سبق بھلا دیے ہیں۔ حرص اور خودغرضی نے ان لوگوں کو اس بات پر قائل کر رکھا ہے کہ دوسروں کے مفادات کو اپنے مفادات کے تابع بنا کر موٹے ہوتے جائیں۔ میں گاؤں میں گیا ہوں,وہاں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ہمارے عوام ہیں ،جن کو دن میں ایک وقت کی روٹی نصیب نہیں۔ کیا یہی تہذیب ہے ؟ کیا یہی پاکستان کا مقصود ہے ؟ اگر پاکستان کا یہی تصور ہے تو میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔‘‘ 15 نومبر 1942 ء میں قائد اعظم نے اپنے خطاب میں فرمایا تھا۔’’ مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں۔ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے چودہ سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ الحمد للہ ، قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا ‘‘
ہماری منزل ، ہمارامقصد مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست ہونا چائیے ۔مدینہ منورہ کی ریاست ہمارے لیے ایک بہترین ماڈل ہے ،جہاں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں فلاحی نظام وضع کیا گیا تھا ،اس بابرکت اسلامی ریاست کی چند خصوصیات بیان کرنے کے بعد اپنی بات کی طرف واپس پلٹتا ہوں ۔
اس ریاست میں عدلیہ آزاد تھی ۔مفت انصاف ملتا تھا ۔اور فورا سچ کو جھوٹ سے الگ کر کے فیصلہ سنایا جاتا تھا ۔اور اس پر اتنی ہی تیزی سے عمل ہوتا تھا ۔سچائی کو پرکھنے کا پیمانہ قرآن و سنت رسول ﷺتھا ۔معاشرہ میں دولت اور دیگر وسائل کی عادلانہ ،منصافنہ ،مساوانہ تقسیم کا بندوبست تھا۔زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب کے ذریعہ دولت کا رْخ امراء سے غرباء کی طرف پھیردیا گیا تھا۔کہ ایک وقت چشم فلک نے دیکھا کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملتا تھا۔ایسے تمام طریقوں پر نہ صرف پابندی تھی، بلکہ کڑی سزا تھی ،جس سے دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو جائے۔ مثلاً سود ، ذخیرہ اندوزی ، ناجائز منافع خوری وغیرہ ۔عوام کی تمام بنیادی ضروریات مثلاََ روزگار، خوراک ، لباس ،صحت اور تعلیم کا مناسب انتظام کیا گیا۔ شیر خوار بچوں ،بوڑھوں،بیماروں ،مسکینوں کے لیے ریاست کی طرف سے وظائف دئیے جاتے تھے۔قانون کا احترام سب کے لیے لازم تھا بے شک وہ حاکم وقت ہی کیوں نہ ہو۔ تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ تھی ۔یاد رہے میں نے لفظ تعلیم و تربیت لکھا ہے ۔صرف معلومات کا حصول جسے آج علم کا نام دے دیا گیا ہے نہیں لکھا ۔
آج بھی ہم اپنے ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ممکن بنا کر یہ سب برکات حاصل کر سکتے ہیں ۔بے شک کے ایسا مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں ہے ۔اس کے لیے ہمارے ملک کو انتخاب کی نہیں، انقلاب کی ضرورت ہے ۔یاد رہے پاکستان کے قیام کا مقصد ہی اسلامی نظام کا نفاذ تھا ۔
تمام مکاتب فکر کے علماء پر مشتمل ایک پینل کا بنایا جانا جو ایک متفقہ اسلامی آئین کی تشکیل کریں۔جس پر پاکستان کے تمام مکاتب فکر متفق ہوں ،جو اسلام کی روح کے عین مطابق ہو ایسا آئین بنایا جائے۔عدل و انصاف کا سسٹم ایسا بنایا جائے کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو ۔
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کوئی اور نہیں انصاف کا حصول ہے۔
پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لیے ایک محب وطن افراد پر مشتمل ادارہ بنایا جائے۔سود اللہ سے جنگ ہے ،اس لیے فوری طور پرملک سے سودی نظام کا خاتمہ کر دیا جائے ۔اس کے لیے غیر جانبدار ادارہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر ایک کاکڑا احتساب ہو سکے ۔ ملک سے باہر رقم لے جانے پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔ملک سے جاگیرداری اور سرداری نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے ۔فرقہ بندی پر مکمل پابندی ہو۔ کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کافر قرار نہ دے سکے۔ملک کی قومی زبان کو سرکاری اور عدلیہ کی زبان قرار دیا جائے اور اس کا نفاذ یقینی بنایا جائے ۔ہماری ثقافت، ہماری تاریخ، قومی زبان اور مذہب اسلام سے عوام آشنا ہو سکیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *