کیا واقعی انسان چاند پر گیا ہے (تحریر رانا محمد نعیم)

جولائی 1969ء میں دنیا نے اپنی سانسیں روک کر اپالو 11 کے چاند پر اترنے کا نظارہ ٹی وی پر دیکھا ۔ نیل آرم سٹرانگ نے چاند پر قدم رکھ کر یہ تاریخی جملہ کہا یہ انسان کا ایک چھوٹا سا قدم ہے لیکن بنی نوع انسان کی بہت بڑی چھلانگ “لیکن کچھ لوگوں کے نزدیک نیل آرم سٹرانگ کا یہ جملہ انسانی تاریخ کے سب سے بڑے ڈرامے کا محض ایک ڈائیلاگ تھا۔وہ ایسا کیوں کہتے ہیں آئیے آج اسکا جائزہ لیتے ہیں۔ان دنوں امریکہ اور روس کی سرد جنگ عروج پر تھی ایسے میں روس نے مدار میں اپنا پہلا سیٹلائٹ بھیج کر دنیا کو حیران کر دیا۔ نیوریاک ٹائمز نے فوراً اداریہ لکھا کہ روس خلا سے امریکی شہروں پر ایٹمی حملے کر سکتا ہے۔ تب امریکی حکومت پر شدید دباؤ آیا کہ روس کی اس ” چھلانگ ” کا جواب دیا جائے۔ ان دنوں امریکہ میں یہ بحث بھی ہونے لگی کہ روس چاند پر میزائل بیس بنائے گا۔ بظاہر روس خلائی جنگ جیت رہا تھا۔بل کیسینگ اس کمپنی میں انجینیر اور ڈیزائنر تھا جس نے اپالو 11 بنائی تھی۔ بل کیسنگ نے راکٹ اور تمام منصوبے کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ ” جو کچھ میں نے ٹی وی پر دیکھا وہ سارا ایک جھوٹ اور ڈرامے کے سوا کچھ نہیں “اسکے مطابق ہمارے تیار کردہ راکٹ کے ذریعے چاند پر جانے اور وہاں سے بخیریت واپس آنے کا امکان 0.001 % ہے۔ وہ آج تک اپنے اس دعوے پر قائم ہیں۔ امریکہ میں ایک محاورہ ہے ۔۔۔ ایف یو کانٹ میک اٹ فیک اٹ ( یعنی آپ کر نہیں سکتے تو کرنے کا ڈراما کرو )چاند پر اترنے کی ویڈیو فوٹیج پر ایسے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کے تسلی بخش جوابات آج تک نہیں مل سکے ہیں مثلاً چاند پر اترنے والی شٹل کے نیچے اسکے طاقتور انجن سے نکلنے والے بلاسٹ کا کوئی نشان تک موجود نہیں ہے۔ حالانکہ وہ نیچے سب کچھ اڑا دیتی ہے۔ اس فوٹیج میں ستارے کہیں نظر نہیں آرہے جبکہ آسمان بلکل سیاہ ہے۔لائٹ صرف چند سو گز کے علاقے میں ہی نظر آرہی ہے اور اسکے باہر اندھیرا جیسے کوئی سٹیج تیار کی گئی ہو۔اس فوٹیج میں امریکی پرچم ہوا سے پھڑپھڑا رہا ہے جبکہ چاند پر ہوا کا کوئی وجود نہیں ہے۔راکٹ کے بلاسٹ کا شور 150 سے 160 ڈیسابل ہوتا ہے جو کان پھاڑ دیتا ہے۔ اس فوٹیج میں اتنے شور کے ساتھ اترنے والے شٹل کے اندر خلابازوں کی بات چیت صاف سنائی دے رہی ہے اور ایک سرسراہٹ کے سوا کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ویڈیو کو دگنی رفتار سے چلایا جائے تو اس میں چہل قدمی کرنے والے خلاباز اور چاند گاڑی بلکل نارمل انداز میں چلتے پھرتے محسوس ہوتے ہیں جیسے زمین پر۔انہوں نے کہا کہ چاند کی سطح پاؤڈر کی طرح ہے۔ تب شٹل کی دوبارہ پرواز کے بعد اس کے نیچے آنے والے طوفان سے ” چاند پر انسانی قدموں کے نشانات ” مٹ کیوں نیہں گئے؟شٹل کا واپس اڑنا تو لگتا ہی نہیں کہ دھماکے کے زور پر اڑی بلکہ یوں لگتا ہے کہ اس کو اوپر کسی چیز سے باندھ کر کھینچا گیا ہے۔ناسا نے اس دوران جو سینکڑوں ہزاروں تصاویر لیں ان پر اٹھنے والے سوالات اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہیں مثلاً بڑے بڑے کیمرے خلابازوں کے سینوں پر بندھے ہوئے تھے جن کی وجہ سے ان کے لیے جھکنا تک مشکل تھا۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے ” محض تکے ” سے ہزاروں تصویریں لیں جنکی فریمنگ بلکل پرفیکٹ ہے۔بہت ساری تصاویر ایسی ہیں جن میں مختلف چیزوں کے سائے بلکل مختلف زاویے پر ہیں گویا سورج کے بجائے روشنی کا منبہ کہیں نزدیک ہی تھا۔بعض تصاویر ایسی ہیں جن میں سورج یا روشنی خلاباز کے عین پیچھے ہے لیکن اس کے باوجود سامنے سے اس خلاباز کی ساری جزئیات بلکل واضح نظر آرہی ہیں جیسے سامنے سے بھی روشنی کا بندوبست کیا گیا ہو۔کچھ تصاویر ایسی بھی ہیں جن کا پس منظر ایک جیسا ہے لیکن کچھ میں خلائی شٹل ہی موجود نہیں۔ وہ تصاویر کب لی گئیں؟ان ساری تصاویر کی کوالٹی زیادہ اچھی نہیں جبکہ اس دور میں بہت اچھے کیمرے موجود تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ناسا نے جان بوجھ کر ذرا غیر واضح تصاویر بنوائیں۔یہاں کچھ اور ایونٹس بھی کافی دلچسپ ہیں مثلاً ۔۔۔۔۔۔۔جب اس مشن کی منصوبہ بندی کی گئی تو امریکہ کے پاس کوئی دو درجن کے قریب خلاباز تھے۔ جن میں سب سے مشہور ورجل گرس گریسن تھا جس کو چاند پر بھجوانے کا پلان تھا۔پھر ںہایت حیرتناک انداز میں صرف 3 سال کے مختصر عرصے میں مختلف ” حادثات ” میں ان خلابازوں میں سے 10 کی موت واقع ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرنے والے سارے اس منصوبے کے خلاف تھے اور اس کو ناممکن سمجھ رہے تھے۔ ان میں سے ورجل گرس گریسن کی فیملی آج بھی الزام لگاتی ہے کہ ” ورجل کو قتل کیا گیا ہے اور ناسا جانتی ہے کہ کس نے کیا ہے۔ ” اسی طرح ٹامس رانل بیرن اس پروگرام کا سیفٹی انسپکٹر تھا۔ اس نے کانگریس کے سامنے اپنے 500 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی اور اس مشن کو ناممکن قرار دیا۔ یہ رپورٹ پیش کرنے کے ایک ہفتے بعد بیرن اپنے خاندان سمیت ایک کار حادثے میں ہلاک ہوگیا۔شائد انہوں نے سچ کو دفن کر دیا۔امریکہ میں ایک انتہائی حساس علاقہ ہے جس کو “Area 51 ” کہا جاتا ہے۔ نہ وہاں کسی کو جانے کی اجازت ہے نہ اوپر سے جہاز گزارنے کی اجازت ہے۔ روسی سیٹلائٹ نے وہاں کی کچھ تصاویر نکالیں ہیں۔ ان تصاویر میں ایک علاقہ بلکل چاند کی سطح جیسا لگتا ہے حتی کہ کچھ گڑھے بلکل ویسے ہی ہیں جیسے ناسا کی فوٹیج میں نظر آتے ہیں۔کچھ ماہرین کے مطابق یہ سارا ڈراما وہیں سٹیج کیا گیا تھا۔ چاند پر اترنے سے کچھ ماہ پہلے الینگٹن ائرپورٹ پر ایک بلکل ویسے ہی شٹل کے پروٹو ٹائپ کا تجربہ کیا گیا جو چاند پر اترنا تھا۔ اس کو نیل آرمسٹرانگ چلا رہا تھا اور وہ اس سے بلکل کنٹرول نہیں ہو رہی تھی۔ اس نے آخری سیکنڈ میں خود کو ایجکٹ کر لیا اور وہ شٹل تباہ ہوگئی۔ اسکی ویڈیوز موجود ہیں۔رالف رینی نامی سائنسدان کے مطابق زمین کی محفوظ تہوں سے اوپر تباہ کن ریڈی ایشن سے بچنے کے لیے سیسے کی کم از کم 6 فٹ موٹی چادر درکار ہے جو اس شٹل کی بھی نہیں تھی جس میں وہ بیٹھ کر گئے تھے اور ان دنوں سورج کی سطح پر تاریخی طوفان آیا ہوا تھا جس نے ریڈی ایشن کی مقدار کو ہزار گنا بڑھا دیا تھا۔ ان خلابازوں نے مختلف قسم کے فائبر کی چند تہوں سے بنے ان خلائی سوٹس میں یہ ریڈی ایشن کیسے برداشت کر لی؟1978ء میں Capricorn One کے نام سے ایک فلم بنائی گئی جس میں ایک ملک دنیا کو بے وقوف بنا کر مریخ پر جانے کا ڈراما کرتا ہے۔ اس فلم کی فوٹیج بلکل ویسی ہی ہے جیسے چاند پر جانے کی۔ اس فلم کے پروڈیوسر کے مطابق اگر ہم 4.8 ملین ڈالر کے بجٹ کے ساتھ ایسی فلم بنا سکتے ہیں تو ناسا اپنے 40،000 ملین کے بجٹ کے ساتھ کیوں نہیں کر سکتی۔ مختلف سرویز کے مطابق 20 فیصد امریکیوں کو یقین ہے کہ انسان کبھی چاند پر گیا ہی نہیں۔ کچھ نقاد چیلنج کرتے ہیں کہ ۔۔۔ “ناسا دنیا کی سب سے طاقتور دوربین کے ذریعے دنیا کو چاند پر شٹل کا بچ جانے والا حصہ ہی دکھا دے ” ۔۔۔۔۔۔۔۔ :)سوال یہ بھی ہے کہ ۔۔۔ انسان دوبارہ چاند پر کیوں نہیں گیا؟
شائد اسلئے کہ دوسری بار دنیا کو بے وقوف بنانا ممکن نہیں ہوگا۔شائد چاند پر جانے کا معاملہ بھی ” نظریہ ارتقاء ” کی طرح کا سائنسی فراڈ ہے جس کو محض ضد اور ڈھٹائی سے سچ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *