پاکستان ایک ابھرتی معاشی طاقت

 


عتیق انور راجا


پاکستان کاشمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنہیں قدرت نے ہر طرح کی سہولتوں سے نوازا ہے ۔اس ملک کی زمین بہت زرخیز ہے تو اس مٹی کے جوان بہت بہادر اور دنیا میں ایک خاص پہچان کے حامل ہیں۔مگر نہ جانے اس ملک کو کس کی نظر لگ گئی ۔کہ یہ ملک اپنے قائم ہونے سے لے کر آج تک اندرونی اور بیرونی سازشوں کا مرکز بنا رہا ہے۔ اس ملک کو بہت سالوں تک اندرونی خلفشاروں نے ہی تماشہ بنائے رکھاہے ۔حکومت اکثر وقت غیر سیاسی نمائندوں کے پاس ہی رہی ہے ۔جمہوریت کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پنپنے ہی نہیں دیا گیا ۔جب طاقت کا ترازو غیر منتخب لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے تو وہ دیر پا منصوبے نہیں بنا پاتے ہیں۔بلکہ انہیں حکومت چلانے کے لیے ایسے مشیر میسر آجاتے ہیں۔جن کا ملک کے عوام سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوا کرتا ہے ۔اور وہ اپنی نوکری پکی کرنے کے چکر میں حکمرانوں کو ایک ان دیکھی آگ میں جھونکتے چلے جاتے ہیں۔افغان جنگ جسے ہم نے جہاد سمجھ کے اور اپنی بقا کے نعرے پر لڑا تھا وہ اصل میں ایک سپر پاور کا دوسری سپر پاور کے ساتھ ٹکراو تھا۔اس جنگ میں ہمارا حصہ کچھ بھی نہ تھا ۔مگر ہمیں یہی کہا گیا کہ یہ جنگ اسلام کی جنگ ہے ۔اگر ہمارے حکمران اس وقت سمجھ بوجھ سے کام لیتے تو شائد آج ہمیں اس مصیبت کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔جو اس وقت ہمارے گلے کا ہار بنی ہوئی ہے ۔اسی جنگ نے اس ملک میں جدید اسلحے کے ڈھیر لگانے شروع کیے تھے ۔اور اسی جنگ سے ہمارے ملک میں نشے کا کاروبار زور پکڑنا شروع ہوا تھا۔اسی جہاد نما جنگ کا خمیازہ ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔اور نہ جانے آگ کی یہ فصل کب تک ہم کاٹتے رہیں گے۔دشت گردی کی جنگ کا حصہ بننے کے بعد سے پاکستان جہاں ہزاروں کی تعداد میں اپنے شہریوں کی قربانیاں دے چکا ہے ۔وہیں اقتصادی میدان میں بھی پاکستان کو ناقابلِ برداشت نقصان کا سامنا رہا ہے ۔ماہرین کے مطابق نائن الیون میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بننے کے بعد سے اب تک پاکستان سواارب ڈالر کا نقصان برداشت کرچکا ہے ۔دشت گردی نے جہاں ہمیں جانی نقصان پہنچایا ہے وہیں ہماری اقتصادیت کو بھی بہت بری طرح سے لتاڑا ہے ۔پاکستان کے حالات اتنے خراب ہو گئے تھے کہ بجائے اس کے کہ غیر ملکی سرمایہ کار یہاں انویسمنٹ کرتے249 ملک کے اپنے لوگ بھی اپنا سرمایا بیروں ملک منتقل کرنے کو ترجیع دینے لگے تھے ۔مگر میاں نواز شریف اور ان کی ٹیم کی تعریف کی جانی چاہیے کہ انہوں نے ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے پہلے ملک سے دشت گردی کا ناسور بہت حد تک کم کردیا ہے ۔اس کے بعد انہوں نے ساری توجہ ملکی اقتصادی حالت بہتر بنانے کی طرف مرکوز کردی ہے ۔ساری دنیا اور بھارت کی مکمل مخالفت کے باوجود سی پیک منصوبے کی تکیل کا سفر اس ملک کے عوام کے لیے ایک گراں قدر تحفے سے کم نہیں ہے ۔گوادر بندرگاہ سے پہلے تجارتی جہاز کے رخصت ہوتے ہی پاکستان کی معاشی تاریخ کے سنہرے باب کا آغاز ہوگیا ہے گوادر سی پیک منصوبے سے کم وبیش سات لاکھ لوگوں کو برائے راست روزگار میسر آئے گا۔اور ملکی شرح نمو میں بھی تقریباً ڈھائی فیصد اضافے کی توقع ہے ۔یوں تو پاکستا ن کی معاشی حالت بہت دہائیوں سے خراب رہی ہے ۔مگر پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد ڈالر کی قیمت ایک دم مسلسل اضافے نے ضروریات زندگی کی ہر چیز کو مہنگا کردیا تھا۔پیپلزپارٹی کا سارا دور عدالتی مقدموں اور اصلاحات کی کوششوں میں گزر گیاتھا۔نہ وہ کوئی اصلاحی پرگرام مرتب کر سکے اور نہہمارا نظام انصاف اپنی پوری طاقت کے باوجود انہیں قرار واقعی سزا دے سکا۔نون لیگ کی حکومت جب اقتدار میں آئی تو پاکستان کو دو بڑے چیلنج تھے ۔ایک طرف ملکی معاشی حالت درست کی جانی بہت ضر وری تھی ۔اور ساتھ ہی ملک میں جاری دشت گردی کی فضا کو کنٹرول کرنے کے لیے کچھ سخت اور بر وقت فیصلے کرتے ہوئے شمالی علاقہ جات کو کلےئر کروانا تھا۔اپنی مسلح افواج کو ہر طرح کے اختیارات دے کر حکومت نے شمالی بارڈر اور کراچی کے حالات کا رخ بہت حد تک واپس امن کی طرف موڑ دیا ہے۔نواز حکومت کے لیے بہت ضروری تھا کہ معشیت کی بہتری کے لیے پہلے حالات کو سازگار بنایا جاتا ۔اور اس حکومت نے اس کاز کے لیے واقعی بہت کام کیا ۔مسلسل بحرانو ں میں گھرا میرا پیارا وطن اب کہیں جا کے استحکام اور ترقی کے سفر پر چل پڑا ہے ۔جیسے جیسے سی پیک منصوبہ تکمیل کی طرف جارہا ہے ۔پاکستان کی معاشی حالت بہتر ہونے کے واضع اشارے ملنے لگے ہیں۔چین تو شروع دن سے اس منصوبے کا حامی اور مددگار رہا ہے ۔مگر اب خطے کے سارے ممالک جن میں روس 249ایران اور دوسری وسط ایشیائی ریاستیں شامل ہیں وہ بھی اس منصوبے سے استفادہ کرنے کو بیچین نظر آتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے بحرانوں میں گھرے ملک کو بہتر معاشی راستے پر ڈالنے پر اقوام عالم نے نواز شریف حکومت کو سراہا ہے ۔خلیج ٹائمز لکھتا ہے کہ اس وقت پاکستان کا شمار دس ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں میں کیا جارہا ہے ۔ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے ایک بہترین جگہ ہے۔ورلڈ بینک کی تازہ ترین روپورٹ میں پاکستان کی کاروباری ضابطہ کار پر مستقل مزاجی سے عمل درآمد کی بنا پر اسے ابھرتی معیشت ظاہر کیا جارہا ہے ۔پاکستانی عوام کے لیے یہ ترقی خوش کن بھی ہے اور حیران کن بھی ۔آج کا پاکستان اپنی معاشی پالیسوں کی بنا پر عالمی سرمایہ کاروں کے لیے دلچسپی کا سبب بن رہا ہے ۔پاکستا ن میں روپے کی قدر بڑھ رہی ہے ۔شرحِ سود کم ہو رہی ہے ۔زرِ مبادلہ کے زخائر بڑھ رہے ہیں۔معاشی ترقی کے یہ سب اشارے سرمایہ کاروں کو ترغیب دلانے کے کافی ہیں۔اس سے بیرونی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے آسانی سے راغب کیا جاسکتا ہے ۔کراچی سٹاک ایکسچنیج کی بات کی جائے تو وہ بھی معاشی میدان میں حکومتی اقدامات کی ترجمانی کرتا ہے ۔اس وقت کراچی سٹاک ایکسچینج کی کارکردگی ایشیامیں پہلے نمبر ہے اور دنیا میں پانچویں نمبر پر شمار کی جارہی ہے ۔معاشی جریدے بزنس انسائیڈ نے پاکستان کے بارے پیش گوئی کی ہے کہ یہ ملک 2030 تک دنیا کی بیسویں بڑی معاشی طاقت بن کے ابھرے گا ۔یہ سب کچھ حکومت کے طرف سے کیے جانے والے مسلسل کام ہیں جنہیں اب دنیا بھی سراہنے لگی ہے ۔آج ضرورت ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔اور ملکی ترقی میں اپنا اپنا بھر پور کردار ادا کرتے رہیں۔
(بشکریہ نوائے وقت)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *