محبت دنوں کی محتاج نہیں ہوا کرتی

 


عتیق انور راجا


اس سے قطع نظر کہ ویلنٹائن ڈے منانے کی ابتدا کب ہوئی کیسے ہوئی۔دنیا میں بہت سے تہوار کسی نہ کسی روایت سے ہی جڑے ہوتے ہے۔کبھی یہ افسانوی کرداروں پر اور کبھی کسی انہونی کہانی پر بھی اپنا لیے جاتے ہیں۔بہت سے تہوار وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔۔اور یہی ان تہواروں کا حسن بھی ہوتا ہے۔یوں تو ہر ملک اور علاقے کے آج بھی مخصوص تہوار ہیں ۔کچھ تہوار مذہبی رسومات سے جڑے ہیں تو بہت سے تہواوں کا تعلق صرف علاقائیت پر ہوتا ہے ۔ ۔لیکن محبت کی نشانی سمجھ کے منایا جانا والا دن ویلنٹائن ڈے آج ساری دنیا میں علاقےمذہبقوم اور رنگ و نسل کا امتیاز کیے بنا منایا جانا شروع ہو گیا ہے ۔محبت دنیا کا سب سے پاکیزہ اور لازوال رشتہ ہے ۔ انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اس لیے اللہ پاک نے محبت کا یہ پاک جذبہ انسان کی فطرت میں رکھ دیا ہے ۔لیکن محبت کے جو معنی آج کل سمجھے جارہے ہیں ۔وہ بلکل الٹ ہیں۔راہ چلتے کوئی دل کو بھا جانایا کسی کی ظاہری خوبصورتی دیکھ کر اس کی طرف مائل ہوجانا محبت نہیں ہے ۔بلکہ محبت اس انسان کے اخلاق و کردار کو دیکھ کے پیدا ہوتی ہے ۔اور ایسی محبت نہ صرف دیر پا ہوتی ہے ۔بلکہ یہ محبت کسی کا دل توڑنے کی وجہ بھی نہیں بنتی ہے ۔افسوس ہم نے بحثیت قوم یہ طے کرلیا ہے کہ اہل مغرب کا ہر برا کام ہر بری رسم بنا سوچے سمجھے اپنانی ہے ۔اپنے آپ کو روشن خیال ظاہر کرنے کے چکر میں ہم اپنی اقدار اور روایات بھولتے جارہے ہیں۔ ہمارا میڈیا نئی نسل کے اخلاق بگاڑنے میں پیش پیش ہے ۔ جیسے ہی فروری کا مہینہ شروع ہوتا ہے ۔ہمارے نوجوانوں کو بِنا پیے ہی نشہ ہونے لگتا ہے ۔ہر کوئی اپنے آپ کو عاشق سمجھنے لگتا ہے ۔جس طریقے سے آج ہمارا میڈیا اس دن کا پرچار کر رہا ہے ۔اس سے نوجوان نسل گمراہیبے حیائی اور ذ ہنی غلامی کی طرف جانا شروع ہو چکی ہے ۔یہ ہماری ذہنی غلامی اور سوچ کی ناپختگی ہی تو ہے کہ ہم اپنی علاقائی اور مذہبی رسومات بھلا کے اغیار کے رنگ میں رنگتے چلے جارہے ہیں۔دکانوں مکانوں اور بازاروں کو سرخ گلابو ں سے سجا لینے سے محبت کیسے پروان چڑ سکتی ہے ؟۔یا پھر سرخ رنگ کے کپڑے پہن لینے سے گلاب ہاتھوں میں پکڑے نامحروموں کو تحائف دینے سے کیسے محبت کا اظہار ہو سکتا ہے ؟۔ہاں اس سے نوجوان غلط کاری کی طرف ضرور متوجہ ہورہے ہیں۔جو کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے بہت خطرناک چیز ہے ۔اس ملک کی بہت سی اخلاقی اور مذہبی روایات ہیں ۔جنہیں ہم کسی طور بھی نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔دنیا بھر میں منائے جانے والے تہوار وہاں کی ثقافت اور مذہبی عقائد کی ترجمانی کرتے ہیں۔کوئی بھی قوم کسی دوسری قوم کو خوش کرنے کے لیے اپنی اقدار کو پسِ پشت نہیں ڈالتی ہے ۔مسلمانو ں نے جب سے اغیار کی ذہنی اور فکری غلامی قبول کی ہے ۔ہم ان کی ہر بات کو درست سمجھ کے مانتے چلے آرہے ہیں۔دنیا کا مالیاتی نظام چونکہ اہل مغرب کی مٹھی میں ہے ۔ہم نے ان سے قرض لے کے اپنی عیاشیوں کو پورا کرنا ہوتا ہے ۔اس لیے قرض دیتے وقت وہ لوگ بڑی مکاری سے اپنی رسومات ساتھ تحفے میں دیتے ہیں۔پہلے پہل ان کی طرف سے صرف ترغیب دی جاتی تھی ۔مگر جب ہم نے قرض پہ قرض لے کے خود کو ان کا غلام بنا لیا ہے ۔اب وہ بڑے دھڑلے سے اپنا ہر ایجنڈا ہمارے سامنے رکھ کے نیا قرض دیتے ہیں۔قرض کی ہر نئی قسط کے ساتھ ایک نیا مطالبہ کبھی نیا ٹیکس لگانے کا حکم نامہ ملتا ہے تو کبھی اسلامی تعلیمات سے دور کرنے کے لیے کوئی اور پلاننگ کی جاتی ہے۔سارے اسلامی ملک آج غلامانہ زندگی گزار رہے ہیں۔اپنے اپنے ملک میں رہتے ہوئے بھی مسلمان بہت حد تک اہل مغرب اور امریکہ کے مرہونِ منت ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک میں مغربی تہذیب بہت تیزی سے فروغ پا رہی ہے ۔ہماری نئی نسل اور خود کو ماڈرن سمجھنے والے چند لوگ اس تہوار کو ہر صورت مغربی انداذ میں منانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب سے میڈیا آذاد ہوا ہے تب سے ویلنٹائن ڈے مسلم ممالک میں بہت زور شور سے منایا جانے لگا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا کو بڑے بڑے اشتہارات ایسے ہی کاموں کی ترویج پر ملتے ہیں ۔آج بہت سے ٹی وی چینلز جس طرح سے اس دن کی مناسبت سے پروگرام تیار کررہے ہیں ۔ان کی تیاریاں او ر جوش خروش دیکھ کے احساس ہوتا ہے کہ کس طرح محبت جیسے پاکیزہ اور مقدس رشتے کو غلط انداذ میں پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ہمارے معاشرے میں کوئی بھی شخص اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کی جوان بہن یا بیٹی کسی غیر مرد سے محبت کے نام پر پھول وصول کرے۔محبت ایک پاک اور خالص جذبہ ہے ۔ایک ایسا جذبہ جسے کبھی زوال آسکتا ہی نہیں ہے ۔ اگر ہم اپنے ماں باپ سے محبت کریں تو دین و دنیا میں کامیابی کی سند ملتی ہے ۔اپنے ماں باپ کو محبت سے دیکھتے ہیں تو مقبول حج کا ثواب ملتا ہے ۔اگر محبوب خدا حضرت محمد مصطفےؐ سے محبت کریں تو ہر منزل آساں ہوجاتی ہے ۔رب راضی ہو جاتا ہے ۔
اگر ہم سماجیمذہبی اور معاشرتی حدود و قیود کو سامنے رکھ کے کوئی بھی دن مناتے ہیں تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ۔اس کے ساتھ ہی ہمیں اہل مغرب کے دوسرے اچھے کاموں کو بھی اپناناچاہیے ۔ ہمیں سمجھنا ہے کہ کیسے وہ لوگ چند صدیوں میں ہمیں پچھاڑتے ہوئے دنیا کے حکمران بن بیٹھے ہیں۔ہمیں وقت کی پابندیقانون کا احترام صفائی کا خیال صحت کا نظام اور دوسرے بہت سے کاموں میں بھی اہل مغرب کی پیروی کرلینی چاہیے ۔محبت دنوں کی نہیں محتاج نہیں ہوتی ہے ۔ہمیں اپنے رویوں کو درست کرتے ہوئے ہر دن کو محبت کا دن سمجھ کے منانا چاہیے ۔ہماری حالت اب یہ ہو چکی ہے کہ اغیار کی نقل کے چکر میں ہم اپنی اصل بھولتے جارہے ہیں۔محبت انسان کی روح کو مہطر کرنے والا جذبہ ہے ۔محبت کرنے والے لوگ ادب والے دل والے اور احساس کرنے والے ہوتے ہیں۔
(بشکریہ نوائے وقت)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *