ماں بولی دیہاڑ پر ایک باوقار تقریب

 


عتیق انور راجا


دنیا میں ہر کوئی اپنی زبان میں بات کرنا پسند کرتا ہے ۔دنیا میں پیدا ہونے والا جان رکھنے والا سب سے پہلے اپنی ماں سے ہی کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا پہننا سیکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کسی کی زندگی میں اس کی ماں کا کردار ماں کا احساس ہمیشہ سے ہی بہت بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے ۔دنیا میں ہر رشتہ اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے ۔ ہر رشتے کی اپنی ایک خاص نسبت ہوتی ہے ۔مگر جو تعلق ایک ماں کا اپنی اولاد سے ہوتا ہے وہ کسی اور ررشتے کے لیے سمجھنا ہی بہت مشکل ہے ۔مادری زبان کی نسبت سے گوجرانوالہ میں سائبان ادب وثقافت نے ماں بولی دیہاڑ کے نام سے ایک بھر پور اور خوبصورت تقریب کا اہتمام آرٹس کونسل ہال میں کیا ۔جس میں شہریوں نے مادری زبان کی بقا اور اس کی اہمیت پر بہت عمدہ طریقے سے اور دلائل سے گفتگو کی ۔اس شاندار تقریب میں گوجرانوالہ کی علمی اور ادبی شخصیات نے شرکت کی ۔اور حاضرین محفل کو مادری ذبان اور خاص کر پنجابی زبان کی اہمیت سے روشناس کرانے کی کوشش کی ۔گوجرنوالہ شہر جو کبھی پہلوانوں کے شہر کی حثیت سے ہی جانا جاتا تھا ۔آج کل ادبی محفلوں میں رنگا نظر آتا ہے ۔اور شہر کی سبھی علمی طبقے ان محفلوں کی شان بڑھانے کے لیے کچھ کر گزرنے کے لیے بیتاب دکھائی دیتے ہیں۔اس خوبصورت محفل میں بھی ملک کے معروف شاعر جان کاشمیری نامور ٹی وی کمئیر شاعر سیف بھٹی پر نسپل گورنمنٹ کالج محترمہ نائیلہ بٹ اور دیگر بہت بڑی تعداد میں شہریوں نے خصوصی شرکت کی ۔ بھارتی پنجاب سے آئے ایک سکھ وفد نے پنجابی زبان کے حوالے سے منعقد اس تقریب میں خصوصی شرکت کی ۔سکھ وفد کے لوگوں نے اس محفل میں آکے دلی خوشی کا اظہار کیا ۔اور اپنے جذبات کی دل کھول کے ترجمانی کی ۔وفد کے نمائندہ مختار سنگھ چیمہ تھے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں یہاں آکے ایسا لگا رہا ہے ۔جیسے ہم اپنے ہی گھر میں ہیں ۔ہم جہاں کہیں بھی گھومنے پھرنے جا رہے ہیں ۔لوگ ہم سے بے پناہ پیار اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔یہ محبت اور پیار ہمارے درمیان مشترکہ دولت ماں بولی پنجابی زبان کی وجہ سے ہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ سائبان ادب و ثقافت اور گوجرانوالہ کے شہریو ں نے جس طرح سے ہمیں سر آنکھو ں پر بٹھایا ہوا ہے ۔اسے دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی دور میں ہمارے ماں باپ بڑے بزرگ واقعی کسی جنت میں رہتے ہوں گے ۔دنیا جو چاہے کہتی رہے مگر ہم یہ بات کھل کے کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان امن و محبت بانٹنے والوں کا ملک ہے ۔یہاں ہر طرف امن ہی امن ہے ۔اکا دکا واقعات ساری دنیا میں ہو رہے ہیں ۔مگر صرف پاکستان کو ہی بدنام کیا جانا درست بات نہیں ہے ۔گورنمنٹ کالج کی پرنسپل میڈیم نائیلہ بٹ نے خوبصورت نظمیں پیش کیں۔ چئیرمین سائبان ادب و ثقافت نے حاضرین محفل کا شکریہ ادا کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ سا ل میں صرف ایک دن منا لینے سے ماں بولی کا حق ادا نہیں ہو سکتا ہے ۔اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم سارا سال اس اہم مسئلہ پر بات کرتے رہیں۔ہم نے اپنی ماں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ماں بولی زبان کو بچانے اور سکولوں میں پڑھائے جانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہے ۔اب یہ حکومت وقت پر منحصر ہے کہ وہ کب پنجاب کے لوگوں کو ان کا بنیادی اور فطری حق دیتی ہے ۔یہ عجیب منطق ہے ۔ جب جب پنجابی زبان کو سکولو ں میں پڑھانے کی بات کی جاتی ہے ۔کچھ لوگو ں کو صوبائیت کا بخار ہو جاتا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں یہ ایسے ہی لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان بنتے وقت قائد اعظم کےمخالفت کی تھی ۔اور پاکستا ن بنانے کے خلاف تھے۔آج ہمارے دوسرے صوبوں میں تو مادری زبان پڑھائی جارہی ہیں ۔ابھی پچھلے دنوں سندھ اسمبلی نے سندھی زبان کو قومی زبان قرار دیا تھا۔خیبر پختونخواہ میں اس نئے سال سے ہند کو اور سرائیکی زبان کے ساتھ دوسری علاقائی زبانیں سکولوں میں پڑھائی جانی شروع ہو رہی ہیں ۔اب یہ سوال پنجاب حکومت سے پوچھا جانا چاہیے کہ کب تک آخر کب تک ملک کی بڑی زبان پنجابی زبان کو سکولوں میں نہیں پڑھایا جانا شروع کیا جاتا ہے ۔آخر وہ کھل کے بتا کیوں نہیں دیتے کہ پنجابی زبان سے انہیں کیا اعتراز ہے ۔ہر طرح کی سختیو ں اور پابندیوں کے باوجود پنجابی زبان آج بھی دنیا کی پہلی دس زبانوں میں شامل ہوتی ہے ۔یہی اس کے موثر ہونیکی بڑی دلیل ہے ۔ہمارے ملک میں امن و محبت کا جو درس ہمارے پنجابی کلام میں ہے وہ سبق آج کے معاشرے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔ہمارے صوفیا کرام نے ہمیشہ محبت اور اخوت کا ہی درس دیا ہے ۔انہوں نے اپنوں بیگانوں سب کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے تھے۔آج مسلمان مسلمان کے خلاف ہے ۔مگر صوفیا کی تعلیم نے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی اپنا گرویدہ بنائے رکھا۔
اسلام میں ماں کے مقام کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب کسی نے آقاؐ سے پوچھا کہ میں کس کی خدمت کروں تو جواب میں سرکار ؐ نے فرمایا اپنی ماں کی ۔پوچھنے والا پوچھتا گیا اور رحمت الالمین بار بار ماں کی شان بیان کرتے رہے ۔چوتھی بار آپؐ نے کہا اپنے باپ کی ۔ پھر اس کے بعد باقی دوسرے قریبی رشتہ داروں کی ۔ماں کا لفظ ہی اتنا پیارا ہے کہ جب انسان ماں کہتا ہے تو انسان کے اندر روشنی 249توانائی 249حوصلہ اور انمول خوشی پیدا ہونے لگتی ہے ۔ماں جب اپنے بچے کو ببلو 249مٹھو249راجو249بوٹایا دوسرا کوئی سا بھی نام دے کے پکارتی ہے ۔تو بیٹے کے لیے جو خوشی اس پکار میں ہوتی ہے وہ کسی بڑے سے بڑے القاب میں ہو سکتی ہی نہیں ہے ۔اکیس فروری کو ساری دنیاماں بولی دن مناتی ہے ۔ہر کوئی اپنی مادری ذبان سے محبت کا اظہار کرتا ہے ۔مادری ذبان کسی بھی علاقے میں رہنے والے لوگوں کی زندگی کے لیے بہت زیادہ اہم ہوتی ہے ۔ اب تو اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی درج ہوچکا ہے ۔کہ بچے کو اس کی ماں بولی میں ہی تعلیم شروع کروانی چاہیے ۔کیونکہ الفاظ کا جتنا ذخیرہ بچے کے پاس مادری ذبان میں ہوتا ہے ۔وہ ساری عمر کوشش کرلے ۔کسی دوسری زبان کے اتنے لفظ اس کے پاس جمع نہیں ہوسکتے ہیں۔پنجا ب حکومت سے گزارش ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ بھی سکولوں میں پرائمری سے پنجابی زبان بطور مضمون ہی شامل کر وادیں۔تا کہ ہماری نئی نسل اس خطے میں محبت کا درس دینے والے صوفیا کے کلام سے مستفید ہوتے رہیں ۔ماں بولی کا مقام بلند کرنے سے ہی ہمارا بھی مقام بلند ہوگا۔۔ انشااللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *