لوگوں کو جینے دو

 


عتیق انور راجا


لاہور میں ایک زیر تعمیر عمارت میں گیس لیکیج کی وجہ سے ایک زور ددار دھماکہ ہواتھا۔یہ دھماکہ اتنا شدید تھا ۔ کہ اس کی آواز بہت دور تک سنی گئی تھی۔اس دھماکے میں سات کے قریب شہری موت کے مسافر بن گئے اور بہت سے شدید زخمی ہو کر ہسپتالوں میں منتقل ہو گئے۔اگر دیکھا جائے تو یہ عمارت تعمیر کروانے والے مالکان اور مزدروں کی غفلت کا نتیجہ ہی لگتا ہے ۔مگر اس خبر کو سب سے پہلے جاری کرنے کے چکر میں ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے خود کش دھماکہ اور پتہ نہیں کیا کیا نام دے کے نشر کیا ۔ہر چینل سب سے پہلے خبر نشر کرنے کے چکر میں اپنی صحافتی ذمہ داریاں بھولتا جارہا ہے ۔آج ہمارا ملک بہت حد تک دشت گردی پر قابو پا چکا ہے ۔ہمارے عسکری ادارے بڑی منصوبہ بندی سے دشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچا رہے ہیں۔پھر ایسی لاپروائی ہمارے میڈیا کے جانب سے بار بار کیوں ہو جاتی ہے ۔کہ پیمرا کو بہت سے ٹی وی چینلز کو اظہار وجوع کے نوٹس جاری کرنے پڑتے ہیں۔کیا ٹی وی چینلز والے اپنی ریٹنگ کے لیے ہی خبر چلاتے ہیں۔کیا انہوں نے اپنے نمائندگان کے لیے خبر کو تحقیقاتی عمل سے گزارنے کا کوئی پیمانہ نہیں بنایا ہوا ہے ۔ایسا کب تک ہوتا رہے گا ۔ہماری حکومت اور عسکری ادارے دشت گردوں کی کمر توڑ رہے ہیں ۔اور یہ بلکل صاف نظر آتا ہے کہ اس ملک سے دشت گردوں کا زور بہت حد تک ٹوٹ چکا ہے ۔دشت گرد پچھلے دنوں ضرور چند ایک وارداتیں کرنے میں کامیاب ہو ئے ہیں۔مگر ہم یہ کیو ں نہیں سوچتے کہ دشت گردوں کا مقصد کیا ہے ۔وہ کچھ لوگوں کو شہید کر کے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔بہت سی تنظیمیں اپنا نام بنانے کے لیے ایسی کاروائیاں کرتی ہیں۔دشت گردوں کو اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لیے جو مشہوری چاہیے ہوتی ہے ۔وہ کسی بھی کاروائی کے بعد لائیو ٹی وی رپورٹنگ کی شکل میں سامنے آجاتی ہے ۔دشت گردوں اور ملک دشمنوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی طرح ملک کے عام لوگوں کو پریشان کرتے رہیں۔عام لوگوں کو پریشان کر کے دشت گرد اور ان کے حمایتی حکومت وقت پر دباو بڑھا سکتے ہیں۔لاہور میں ہونے والے دھماکے کے بعد جس طرح کی کوریج کی جارہی تھی ۔اس کو دیکھ کے ہر کوئی محب وطن شہری پریشان تھا ۔ہر کوئی حکومتی اقدامات پر سوالیہ نشان اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ہر کوئی اس صورتحال سے پریشان دکھائی دے رہا تھا۔اور یہی دشت گرد اور ان کے ماسٹر مائنڈ چاہتے ہیں۔ابھی ڈیفنس دھماکے کی حقیقت سامنے نہیں آ رہی تھی کہ افوا سازوں نے گلبرگ میں بھی دھماکے کی خبر چلانا شروع کردی۔ادھر بھی سب سے پہلے خبر جاری کرنے کا مقابلہ شروع ہوتا دکھائی دینے لگا تھا ۔بم کی افواہ سے سارے شہر میں خوف کے سائے منڈلانے لگے ۔والدین سکول سے آنے والے بچوں کی فکر میں مبتلا ہو گئے ۔بہت سے لوگ کام پر گئے گھر کے مرد و خواتین کے بارے میں متفکر تھے۔لوگ بھاگ کے اپنے پیاروں کے پاس پہنچنا چاہتے تھے ۔سڑکوں پر بھگدڑ کا سماں تھا ۔ٹریفک پولیس کے لیے گاڑیوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا چلا گیا ۔بہت دیر بعد تحقیقات نے واضع کردیا کہ گلبرگ میں کوئی دھماکہ ہوا ہی نہیں ہے ۔اور ڈیفنس میں ہونے والا دھماکہ گیس لیکج کی وجہ تھا ۔اسے خود کش حملے کا نام دے کر میڈیا والوں نے جانے انجانے میں شہریوں کو جو پریشان کیا سو کیا ۔مگر ایسا کر کے ہمارا میڈیا بھی کسی نہ کسی صورت دشت گردوں کا سہولت کا ر ضرور بنتا دکھائی دیا ۔لوگو ں کو پریشان کرنا ہی دشت گردوں اور ملک دشمنوں کا اصل مقصدہوتا ہے اور ہمارے ٹی وی چینلز دشمن کے آلہ کار بن کے عوام کو پریشان کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے ہیں۔دونوں جگوں پر کوئی بمب دھماہ نہیں ہوا تھا مگر شہر میں خوف و ہراس کی فضا دوسرے د ن بھی دکھائی دے رہی تھی ۔گیس لیکج دھماکہ سے اگلے دن بہت سے سکول کالج کے بچوں کو والدین نے گھر پر ہی روکے رکھنا بہتر سمجھا۔ہمارے ملک میں یہ ایک رواج بن گیا ہے ۔کہ کسی بھی انہونی واردات کے بعد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا بنا تحقیق کوئی بھی خبر چند منٹوں میں کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے ۔سوشل میڈیا کی اہمیت کا ہمیں شاید پتہ ہی نہیں ہے ۔ہم میں سے بہت سے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال صرف وقت گزاری کے لیے اور نئے نئے دوست بنانے کے لیے کرتے ہیں۔دیکھنے میں آیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی خبر بنا سوچے سمجھے آگے پھیلاتے چلے جاتے ہیں۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد ہمارے میڈیا کا کردار ہمیشہ ہی افسوس ناک رہتا ہے ۔وقت آگیا ہے کہ اب ہم کسی بھی خبر کو آگے شےئر کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کر لیا کریں۔حقیقت کو جانے بنا عام لوگوں کا کسی بھی خبر پر یقین کر لینا ایک بہت خطرناک رحجان ہے ۔اس کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے ۔ہماری حکومت اور عسکری ادارے ملک کو دشت گردوں سے پاک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ہم سب کو اس کام میں ان کا دست و بازو بننا ہے ۔نہ کہ دشت گردوں کا سہولت کار۔اللہ کرے کہیں کوئی ایسا واقعہ نہ ہو ۔ مگر اگر کہیں ایسا کوئی سانحہ ہو ہی جائے تو اس کی لائیو کوریج پر سختی سے پابندی ہونی چاہیے ۔جب تک حکومتی ترجمان اور لیبارٹری ٹیسٹ سے واقع کی حقیقت معلوم نہ جائے ۔میڈیا کسی بھی قسم کی افرا تفری پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے ۔
ایک وقت تھا اور بہت حد تک آج بھی پرنٹ میڈیا میں خبر پر توجہ دی جاتی ہے ۔کسی بھی خبر کو شائع کرنے سے پہلے اس کے درست ہونے کا یقین کیا جاتا ہے ۔آج بھی ہمارے اخبارارت کی خبریں بہت حد تک باوثوق ذرائع سے حاصل شدہ ہی ہوتی ہیں۔سبھی چھوٹے بڑے اخبارات خبر کے میعار پر توجہ دیتے ہیں۔خبر کی اہمیت کے مطابق اسے مناسب صفحے پر جگہ دی جاتی ہے ۔اور یہی چیز آج کے تیز ترین دور میں بھی اخبارات کی مقبولیت کی وجہ بن ہوئی ہے ۔آج بہت ضرورت ہے کہ سبھی نشر و اشاعت کے اداراے اپنے لیے کوئی ایکشن پلان بنا لیں۔ہمارے ٹی وی مالکان بریکنگ نیوز کے چکر میں لوگوں کی زندگیاں جہنم بنا رہے ہیں ۔ہر وقت کی بریکنگ نیوز سے شہری ذہنی مریض بننا شروع ہو جائیں گے ۔اس لیے میڈیا خاص کر ٹی وی چینلز سے مودبانہ گزارش ہے کہ لوگوں کو جینے دیں۔کسی بھی خبر کو نشر کرنے سے پہلے تحقیق اور خبر کی نوعیت پر غور کر لیا کریں۔خواہ مخواہ لوگوں کو پریشان کرنا چھوڑ دیں۔لوگوں کو اب جینے بھی دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *