عید قرباں ,حج اور اتحاد امت


عتیق انور راجا


عید قرباں مسلم امت کے لیے آپسی اتحاد کا بہترین زریعہ ہے ۔اللہ پاک قران پاک میں ارشاد فرماتا ہے ۔’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراھیم علیہ السلام کو خانہ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ۔اور میرے گھر کو طواف اور ر کوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک و صاف رکھو۔اور لوگوں کو حج کے لیے اذن عام دو ۔وہ کہ وہ تمہارے پاس دور و نزدیک ہر مقام سے پیدل یا سواریوں پر بیٹھ کر آئیں۔تا کہ وہ یہاں آکر وہ فاہدے دیکھیں جو ان کے لیے ان کے پروردگار نے رکھے ہیں۔چند مقرر دنوں میں جانوروں کو جو اللہ پاک نے انہیں بخشے ہیں اس کی راہ میں قرباں کریں۔خود بھی کھائیں اپنے عزیز و اقارب اور غریب و نادار مسلمانوں کو بھی کھلائیں۔اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہوئے اس سے اپنے گناوں کی معافی مانگیں۔مسلمان جنہیں اللہ پاک نے وسائل سے نوازا ہوتا ہے وہ مہینوں پہلے حج کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔حج اتحاد امت کا ایسا فریضہ ہے کہ اسے ادا کرنے دنیا کے ہر ملک سے رنگ و نسل کی تفریق بھول کر سب مسلمان اللہ پاک کی رضا کے لیے مکہ معظمہ میں جمع ہوتے ہیں۔دو سفید چادروں میں لپٹے حجاج کرام اخوت اجتماعیت اور انسانوں کے درمیان برابری کا وہ عملی نقشہ پیش کرتے ہیں جس کی مثال دنیاکا اور کوئی مذہب پیش نہیں کر سکتا ہے ۔حج کے مقدس موقع پر مسلمان عالمی بھائی چارے کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔ملکی اور نسلی فخرکی طبقاتی تعیلم کے خاتمے کا یہ عملی مظاہرہ ہوتا ہے ۔انسانی جان و مال 249عزت و آبرو کے تحفظ اور ایک اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کا دو ڈوک اعلان کیا جاتا ہے ۔اللہ کے گھر اللہ کے مہمان یہ اعلان کرتے ہیں کہ ان کا جینا ان کا مرنا سب کچھ اللہ کے لیے ہی ہے ۔اللہ کے پیارے نبی ؐ نے فرمایا ہے کہ جو شخص حج صرف اور صرف اللہ کے لیے کرتا ہے ۔اگراس دوران وہ برے کام اور بری باتیں نہ کرے تو وہ حج کر کے ایسے ہی لوٹتا ہے جیسے کہ اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو ۔حج کرنے کا اصل مقصد ہی یہ بتا گیا کہ بندہ اللہ کی رحمتوں اور برکتوں سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو۔حضرت ابرہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت حاجرہ نے اللہ کے حکم پر جو قربانیوں کی عظیم داستاں رقم کی تھی ۔اس پر چلنے کی کوشش کی جائے۔انہیں کی طرح اللہ کی رضا کے سامنے بنا سوچے سمجھے سر جھکالینا ہی اصل کامیابی ہے ۔ جس طرح اس وقت حضرت ابرہیم ؑ نے اللہ کے گھر پکارا تھا اسی طرح آج بھی اللہ کے گھر پہنچ کر اللہ کے بندے پکارتے ہیں۔’میں حاضر ہوں 249اے اللہ میں حاضر ہوں249میں حاضر ہوں 249تیرا کوئی شریک نہیں ہے249سب خوبیاں اور سب نعمتیں تیری ہیں۔اور سلطنت تیری ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے ۔
عید قرباں مسلمانوں کی سماجی زندگی کا برکتوں اور نعمتوں والا تہوار ہے ۔تہوار منانا کسی بھی سماجی زندگی کے لیے بہترین کام ہوتا ہے ۔کیونکہ ایسے تہوار لوگوں کو آپس میں مل بیٹھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔عید قرباں کا تہوار اپنے اندر ہر طرح کی خوشیاں لیے ہوتا ہے ۔ایک طرف صاحب حثیت لوگ اللہ کی رضا کے لیے اچھے صحت مند جانور قرباں کرتے ہیں ۔ تو ساتھ ہی وہ قربانی کے گوشت کو غریب اور مستحق لوگو ں میں تقسیم کر کے انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شامل کرتے ہیں ۔آج کے مہنگاہی کے دور میں جب کہ غریب آدمی کے لیے گوشت کھانا مشکل ہی نہی ناممکن بھی بنتا جارہا ہے ۔یہ تہوار ہر کسی کو جی بھر کے اس نعمت سے مستفید ہونے کا موقع دیتا ہے ۔انسانوں کے درمیاں تہوار کسیتاریخی واقعے کی بنیاد پر منائے جاتے ہیں۔اسی لیے ہر قوم کے تہوار اپنے اندر ایک مخصوص روایت رکھتے ہیں۔ہر قوم اپنے تہوار جوش و جذبے سے منانے کی کوشش کرتی ہے ۔جبکہ دوسری قوم کا تہوار اس کے لیے اتنی زیادہ کشش رکھ ہی نہیں سکتا ہے ۔مسلمانوں کے لیے جو تہوار مقدس مقرر کیے گئے ہیں وہ دو عیدیں ہیں ان دونوں عیدوں میں انسان اور انسانیت سے محبت کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے ۔ہر مسلمان ان موقعوں پر اپنے غریب بھائیوں کی مدد بڑھ چڑھ کے کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
آج ضرورت ہے کہ جیسے مسلمان حج کے موقع پر ایک ہی لباس میں ایک ہی نظریعے کے تحت ایک اللہ کی وحدنیت کا اعلان کرتے ہیں ۔ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں ۔حج سے واپسی پر بھی ایسے ہی ایک لڑی میں پروئے ہوئے نظر آئیں۔جس طرح حج کے موقع پر مسلک فرقے کو پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔کاش عملی زندگی میں بھی ایسا ہی کچھ کرنے کا سوچا جائے۔آج دنیا بھر میں مسلم قوم ہی زوال کا شکار ہے ۔حج کے موقع پر ایک ساتھ کھڑے ہونے والے مسلمان واپسی پر کیوں ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے ہیں۔حج مسلمانو ں کو اللہ کی رضا کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کا عملی سبق سکھاتا ہے ۔مگر یہ بھی سوچنا ہے کہ اگر کوئی حج کا مقدس فریضہ ادا کرنے کے بعد بھی اپنے اندر سے احساس برتری نہ نکال سکا تو پھر کیا اس کا حج قبول ہو گا ۔آج حجاج کرام حج سے واپسی پر ہمیں آب زمزم اور کھجوریں تو دیتے ہیں جو کہ ہمارے لیے ہر طرح سے باعث برکت ہوتی ہیں۔مگر حج کا وہ آفاقی پیغام ہمارے اندر پیدا نہیں کرپاتے جو حج کی اصل روح ہے ۔اگر حج کا اصل پیغام ہمیں سمجھ آجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں کامیاب نہ ہو سکیں۔اقبالؒ نے کسی ایسے ہی موقع پر فرمایا تھا کہ
زائرین کعبہ سے اقبال یہ پوچھے کوئی ۔۔۔کیا حرم کا تحفہ زم زم کے سوا کچھ بھی نہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *