عیدالاضحی ۔ سنت ابراہیمی کو زندہ کرنے کا دن

 


اختر سردار چودھری ،کسووال


عید منانے کا مقصد کیا ہے ،اللہ سبحان تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا، خوش نودی حاصل کرنا ہے ،ہم یہ شکر خوش ہو کر مناتے ہیں،خوشی فطرت انسانی ہے،خوشی کے بے شمار سائنسی،روحانی،جسمانی فوائد ہیں اللہ پاک بھی چاہتے ہیں کہ انسان خوش رہے ،مگر ہم کو سوچنا ہے کہ خوشی کیسے منائی جائے،خوشی کا مقصد ہے اللہ کی رضا جو تب ملے گی جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کر کے عید کی خوشیاں منائیں مگر اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ کسی کے لیے وہ غمی کا باعث نہ بنے دوسروں کو خوشیاں دے کر ،اپنے ساتھ اپنی خوشیوں میں شامل کریں تاکہ کوئی خوشیوں سے محروم نہ رہے ، اسی طرح ہم عید کی حقیقی خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔
ابو داؤد شریف میں روایت ہے حضور نبی اکرم ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے، اس زمانہ میں اہل مدینہ سال میں دو دن(مہرگان۔نیروز) خوشی کرتے تھے ۔آپ ﷺنے فرمایا یہ کیا دن ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی ’’جاہلیت میں ہم لوگ ان دنوں میں خوشیاں منایا کرتے تھے۔فرمایا’’اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے ان سے بہتر دو دن تمہیں دیئے ۔عید الفطر ،عید الضحٰی سال میں دو بار عیدین کی نماز کو لازم قرار دیا ہے ، اور ہم سب کومل جل کر عبادت الہٰی کرنی چاہیے۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ ان باتوں پر عمل نہیں ہوتا جس طرح ہونا چاہیے ،اب تو ایک ہی دیہات میں اپنے اپنے فرقے کو اہمیت دی جاتی ہے اور الگ الگ نماز عید ادا کی جاتی ہے احکامات اسلام پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اسلام کا منشا یہی ہے کہ بنی آدم ایک ووسرے سے لاتعلق نہ رہیں ۔یہ اپنی ہی ذات میں گم نہ ہوں ۔ کہ ایک خدا، ایک رسول ،ایک ہی قرآن ،ایک ہی کعبہ پر ایمان رکھنے والے ایک دوسرے سے مل جل کر رہیں ۔ان میں اتحاد ہو اتفاق ہو۔عید اس کی نہیں جس نے نئے کپڑے پہن لئے بلکہ حقیقت میں تو عید اس کی ہے جو عذاب الہٰی سے ڈرگیا ۔
ہمارے اسلاف و بزرگان دین نے عید کی خوشی عبادات کی قبولیت کیساتھ مشروط فرمادی ۔ عبادات دو قسم کی ہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد ،ہمارے ہاں حقوق العباد کو اہمیت نہیں دی جاتی ۔حالانکہ تمام عبادات کی روح حقوق العباد پر ہی عمل ہے یا ان عبادات کا مقصد ہے۔
اسلام کے تمام نظام عبادات میں قربانی کا وجود پایا جاتا ہے یعنی نماز اور روزہ انسانی ہمت اور طاقت کی قربانی ہے ۔زکوٰۃ انسان کے مال وزر کی قربانی ہے ۔حج بیت اللہ بھی انسان کی ہمت ،مال و زر کی قربانی ہے غرض کہ حقوق اللہ اورحقوق العباد میں بہت سے تقاضے ایسےہیں جو انسانی قربانی کے مترادف ہیں ۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے عید قربان کے دن ہمیں خطبہ دیا آپ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے ہمیں آج کے دن نماز پڑھنی چاہیے ۔پھر لوٹ کر قربانی کرنی چاہیے ۔جس نے ایسا کیا اس نے سنت پر عمل کیا اور جس نے ہماری نماز پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر لیا تو وہ قربانی گوشت کی بکری ہے جس کو اس نے اپنے گھر والوں کے لئے جلدی سے ذبح کر لیا ہے ۔قربانی نہیں ۔(مسلم شریف)انسان کی طرح قربانی کی تاریخ بھی بہت قدیم ہے چنانچہ قرآن مجید کی مختلف آیات مقدسہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی امتِ محمدی ﷺ سے قبل امتوں پر بھی لازم تھی ۔
حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے ہابیل اور قابیل اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کا تذکرہ قرآن حکیم میں ہے۔ اللہ سبحان تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا کہ (مفہوم) اور ہر امت کے لئے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اسکے دیئے ہوئے بے زبان چوپائیوں پر۔اسی طرح بہت سی احادیث میں بھی قربانی کا ذکر ہے ۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہر صاحب نصاب پر سال بھر میں ایک قربانی واجب ہے ۔(ابن ماجہ)قربانی سنت ابراہیمی ،حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ یہ قربانیاں کیسی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔
آپ ﷺ سے پوچھا گیا ہمارے لئے ان میں کیا اجر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے آپ ﷺ سے پوچھا گیا اور خون کے بدلہ میں ؟آپ ﷺ نے فرمایا ہر خون کے قطرے کے بدلہ میں ایک نیکی ہے ۔(ابن ماجہ)الحمد اللہ ہماری زندگی میں ایک بار پھر یہ مبارک دن آ رہا ہے ،اس دن کا پیغام ہے کہ اللہ واحد کی بندگی،محمد ﷺ کی اطاعت ،اور تبلیغ دین کے لیے اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنی قوت و صلاحیت ،رشتے ناطے ، قوم و وطن،اپنا مال ،اپنی جان ،اور جان سے عزیز اولاد کی قربانی بھی دینے کے لیے خود کو تیار کرنا ،عہد کرنا ،جن لوگوں میں یہ جذبہ پیدا ہو جائے اصل میں ان کی عید ہے ۔
ہم کو سوچنا چاہیے کیا یہ جذبہ ہمارے اندر موجود ہے ۔قربانی کامطلب کیا ہے اس کا مقصد کیا ہے اس بارے میں اللہ سبحان و تعالی نے قرآن پاک میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ (مفہوم)اللہ تعالیٰ کو ہر گز ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ۔ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک بار یاب ہوتی ہے۔ہم کو اپنے رشتہ داروں ،اور پڑوس میں دیکھنا چاہیے جو غریب ہیں ان کو بھی اپنے ساتھ خوشیوں میں شامل کرنا چاہیے، اس سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہو گی اللہ راضی ہو گا )
ہر سال لاکھوں فرزندان اسلام سنت ابراہیمی ؑ کو زندہ کرتے ہوئے عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کرتے ہیں، اس دن پہلے حضرت ابراہیمؑ نے اپنے خواب کو سچا کرنے کیلئے اپنے جان سے عزیز فرزند حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کا فیصلہ کیا ۔حضرت ابراہیمؑ نے اپنا خواب اپنے لخت جگر کو سنایا تو انہوں نے کہا والد محترم میں تیار ہوں آ پ مجھے اللہ کی راہ میں قربان کر دیں ،جب آپ اپنے لخت جگر کے گلے پر چھری پھیرنے لگے تو حضرت اسماعیلؑ نے کہا ” والد محترم آپ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں کہیں چھری چلاتے وقت باپ بیٹے کی محبت آڑے نہ آجائے، اور جس سے آپ کے دل میں بیٹے کی محبت جاگ اٹھے ۔یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سیکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
حضرت ابراہیمؑ نے پٹی آنکھوں پر باندھ کر ب اپنے لخت جگر کے گلے پر چھری چلائی تو چھری نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم پر چلنے سے انکار کر دیا اور عین اس وقت ایک مینڈھا قریب آگیا اور حضرت ابراہیمؑ کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے پیغام آیا کہ ” اے ابراہیم ؑ تو نے اپناخواب سچا کر دکھایا اب اس مینڈھے کو قربان کر ہم نے تیری قربانی قبول کرلی اور یوں آپؑ نے اپنے بیٹے کی جگہ وہ مینڈھا قربان کیا، اس سنت کو 14سوسال سے ساری دنیا کے مسلمان زندہ کرتے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو قربانی اس جذبے کا نام ہے جو حضرت ابراہیمؑ کے دل میں موجزن تھا۔اللہ سے محبت کا جذبہ ،اللہ کی محبت کے لیے سب کچھ قربان کر دینے کا جذبہ اپنی سب سے قیمتی چیزیں حتیٰ کہ اپنی اولاد اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا جذبہ اور اپنی جان قربان کرنے کا جذبہ یہی وجہ تھی کہ جو انہوں نے خواب میں بشارت ہونے پر اپنے لخت جگر کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا ارادہ کر لیا اور قربان جائیے اس فرمان بردار بیٹے پر جس نے باپ کے خواب کو سچ کرنے کیلئے اپنی قربانی دینے کیلئے خود کوخوشی خوشی پیش کردیا، قربانی کا اصل مقصد یہی جذبہ ہے جس کو اپنے دلوں میں تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کو قربانی کا خون یا گوشت نہیں پہنچتا بلکہ جس نیت سے ایسا کیا جاتا ہے اس کا ثواب ملتا ہے ۔
ہم ہر سال قربانی کرتے ہیں، ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کرتا ہے کیونکہ اس میں کوئی قید نہیں کہ آپ اونٹ ہی کریں، گائے ہی کریں، آپ کی جیب جتنی اجازت دیتی ہے آپ جانور قربان کریں مگر ایک بات جو اس سارے پراسیس میں یاد رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ قربانی اس چیز کا نام نہیں کہ عیدالاضحی سے ایک روز پہلے بکرا لائے اورا گلے روز قصائی کو بلا کر ذبح کروا دیا، بات پھر وہی ہے کی آج قربانی بھی دیگر رسموں کی طرح فیشن بن گئی ہے امراء اپنی امارات کی نمائش کرتا ہے تو کوئی لاکھوں روپے کی گائے خرید کر سارے محلے کو بتاتا ہے اس نے سب سے قیمتی گائے خریدی ہے، یہ جذبہ قربانی کا نہیں یہ تو صرف نمودو نمائش ہے اسے ہی تو ریا کہتے ہیں ۔ اس کی بھی اس قربانی کا وہ جذبہ کار فرما نہیں جو اس کی اصل روح ہے کم ازکم تین چار ماہ پہلے بکرا لا کر گھر میں رکھا جائے اور اس سے پیار کیا جائے کہ جب اس کے گلے پر چھری پھرے تو آپ کے دل میں بھی کچھ ہو ۔کہ یہی وہ جذبہ ہے جسے زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ویسے تو اس بات کی بھی بہت اہمیت ہے کہ یہ دور جسے مادیت کا دور کہا جاتا ہے سب سے بڑا روپیہ ہے ایسے میں اگر ریا کے بغیر کوئی قربانی کے لیے اللہ خوشنودی کے لیے پیسے خرچ کرتا ہے قربان کرتا ہے تو بہت بڑی بات ہے ایک چیز جس پر زیادہ زور دے رہا ہوں وہ ہے نیت ،جس میں دکھاوا نہ ہو ۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کی راہ میں اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ صرف اس لیے کیا کہ یہ حکم انہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دیا تھا۔ اس سے یہ بات سامنے آ گئی ہے کہ ہمیں اپنے رب پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ بیدار کرنا چاہیے کہ اگر اللہ کی راہ میں ہمیں اپنی عزیز ترین شے بھی حتی کہ اپنی اولاد بھی قربان کرنی پڑے تو ہم کردیں گے یہ ہے قربانی کی اصل روح جو آجکل بالکل مفقود ہو گئی ہے ۔آج ہم قربانی تو ضرور کرتے ہیں مگر صرف دکھاوے اور ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کیلئے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس روز سنت ابراہیمیؑ کو زندہ کریں اور اپنے اندر وہی جذبہ پیدا کریں جوحضرت ابراہیمؑ کے دل میں تھا اور قربانی کا گوشت زیادہ سے زیادہ مستحقین میں تقسیم کریں جو سارا سال گوشت کے لئے انتظار کرتے ہیں، اب ایسا کیا جاتا ہے کہ فریج گوشت سے بھر لی جاتی ہے ، یہ کوئی قربانی نہیں کہ آپ اپنوں میں ہی گوشت تقسیم کردیں اور غرباء مساکین کو یاد نہ رکھیں عید قربان ہمیں ایثار محبت کا درس دیتی ہے، اس روز ہمیں اپنے ان بھائیوں کو ضرور یاد رکھنا چاہیے جو غربت کی وجہ سے بے بس اور لاچار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *