سیون بی سیون سی شکوں کی منظوری کاگزٹ شائع کیا جائے 

میر افسرامان


حکومت نے قادیانیوں کے متعلق آئین کی جن شکوں کو گہری سازش اور ٹگھی سے تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی اس میں شک ۷ بی ۔۷سی بھی شامل تھیں۔ یہ شکیں وٹر لسٹ میں شہریوں کے نام درج کرنے اور اس کی تصیح سے متعلق ہیں۔ ختم نبوت کے حلف نامہ کو اقرار نامے میں تبدیل کرنے کی بے جاہ گستاخی کو تو واپس درست کر دیا گیا۔ ۷بی اور ۷سی کے متن کو الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں شامل کیا گیا مگر ابھی تک گزٹ نہیں کیا گیا۔ اس کے لیے جماعت اسلامی کے نائب امیر اسداللہ بھٹو ایڈو کیٹ صاحب جو ایک نام ور ماہر قانون بھی ہیں،نے اپنے ایک مضمون جو کہ لاہور کے ہفتہ وار رسالہ ایشیا میں شائع ہوا ہے تفصیل سے بیان کیا ہے۔تحریک لبیک نے بھی لاہور سے احتجاجی مارچ شروع کرنے سے پہلے حکومت کے سامنے جو مطالبات ، نمبر۱۔ سینیٹ قومی اسمبلی یا جن کے کہنے پر ختم بنوٹ ؐ کے قانون میں تبدیل کی گئی انہیں فلفوربرطرف کیا جائے اورجو شری اور قانونی حد ہو سکتی ہے لگا کر قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی کسئی قسم کی سوچ پیدا نہ کرسکے۔نمبر ۲۔الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ ء میں ترمیم کے بعد۷ بی ۔ ۷ سی کے متن کو ترمیم میں شامل نہیں کیا گیالیٰذااس کے متن کو بھی الیکشن ایکٹ میں شامل کروا کر گزٹ آف پاکستان میں پیش کیا جائے۔نمبر ۳۔قادیانی، مرزائی اور احمدیوں کی شر انگیزیوں کو کنٹرول کیا جائے اور اسلامی شعائر کے استعمال پر قانونی حد لگا کر قانونی سزائیں دی جائیں نمبر۴۔رانا ثنا ئاللہ جیسے قادیانی نواز وزرا اور اعلی عہدادروں کر برطرف کیا جائے۔نمبر۵۔مساجد میں چاروں اطراف کے سپیکرا پر لگائی پابندی ختم کی جائے اور اس حوالے سے درج کیے گئے مقدمات ختم کیے جائیں۔ یہ مطابات ہینڈ بل کی شکل میں تقسیم بھی کیے گئے تھے۔ جو معاہدہ وزیر داخلہ اور تحریک لبیک کے درمیان میں فوج نے کرایا اس میں اس کی شک نمبرشمار ۲ میں لکھا ہے کہ ۷بی۔۷سی کے متن کو الیکشن ایکٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔مگر
تحریک منہاج ا لقرآن کے کنیڈاسے واپس آئے، مولاناقادری صاحب نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ یہ شکیں ویسی کی ویسی کی ہی ہیں ۔ حکومت نے اس کی شمولیت کا گزٹ بھی نہیں کیا۔ یہ قادیانیوں؍ احمدیوں کے ووٹر لسٹ میں نام داخل کرنے سے متعلق خاص شکیں ہیں۔ وہ اسطرح کہ اگر کوئی قادیانی ؍ احمدی ووٹر لسٹ میں نام داخل کر واتا ہے اور اعتراض کرنے والا دس دن میں ووٹر لسٹ میں تصیح نہیں کرواتا تو اس قادیانی ؍احمدی کا نام ووٹر لسٹ میں صحیح شمار کر لیا جائے گا مگر اب ۱۰؍ دن سے ہمیشہ کے لیے مدت بڑھا دی گئی ہے۔ صاحبو! ایک تو قادیانی پرلے درجے کی ٹھگ ہیں۔ وہ پاکستان کے آئین کے مطابق غیر مسلم ہیں۔ مگر ٹگھی کر کے وہ سادہ لوح مسلمانوں کے کہتے رہتے ہیں کہ ہم بھی مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کی طرح ایک فرقہ ہیں اور مسلمانوں کے سارے شعائر استعمال کرتے ہیں جو آئین پاکستان کی رو سے غلط ہے ۔ یہ سراسر ٹگھی ہے۔ جو لوگ اللہ کو اللہ اور رسولؐاللہ کو نبی مانتے ہیں وہ تو اپنے آپ کو مسلمانوں کا فرقہ کہہ سکتے ہیں۔ مگر قادیانی مرزا غلام محمد کونبی مانتے ہیں۔ اس لیے پندرہ دن کی بعث کے بعد پاکستان کی پارلیمنٹ نے ان کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔
اب نواز حکومت نے بھی ٹھگی کر کے پاکستانی عوام کے سامنے جھوٹ بولا کہ اس میں صرف نواز لیگ حکومت کے ممبران ہی نہیں شامل تھے بلکہ اس کمیٹی میں اپوزیشن کے سارے کے سارے دوسرے ممبران بھی شامل تھے۔ نجی ٹی وی ٹاک شو میں طلال چوہدری صاحب نے کہا کہ صرف نواز شریف پارٹی کے لوگ نہیں بلکہ اپوزیشن کے ممبران بھی اس میں شامل تھے۔ پروگرام میں سندھ سے پیپلز پارٹی کی ممبر کہتی رہی کہ طلال چورہدی جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس نجی ٹی چینل نے اپوزیشن کے ممبران کو دوبارہ پروگرام کرایا۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ، جمعیت اسلام کی خاتون ممبر ،نیشنل عوامی پارٹی کی خاتون ممبر، پیپلز پارٹی کی خاتون ممبر اور فاٹا کے ممبر نے انکار کیا کہ حکومت کے وزیر غلط کہتے ہیں۔ یہ سب لوگ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کمیٹی کے ممبران ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی کاروائی کے دوران ختم نبوتؐ کی شک ختم کرنے سے متعلق تو بات تک نہیں ہوئی۔ کمیٹی کی کاروائی کی ریکارڈینگ پارلیمنٹ میں کے ریکارڈ میں موجود ہے اس کو سن کرپانی کا پانی دودھ کا دودھ ہو سکتا ہے۔ اس پروگرام میں اپوزیش کے ممبران چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ یہ سفید چھوٹ ہے ہمارے سامنے اس کی بات تک نہیں ہوئی۔مگر حکومت کے وزیر جس میں طلال چورہدی صاحب سے آگے آگے ہیں اور جھوٹ بول رہے ہیں۔ بار بار تکرار سے کہتے رہے ہیں کہ اس میں حکومت کے ممبران کے ساتھ اپوزیشن کے لوگ جو کمیٹی ممبران تھے برابر کے شریک ہیں۔ کیسا سفید جھوٹ جو نواز لیگ حکومت کے وزیر عوام کے سامنے بول رہے ہیں۔ ان ہی دنوں میں اخبار میں امریکا کا یہ مطالبہ اخبارات میں بھی شائع ہوا تھا کہ اس قانون کو ختم کیا جائے۔ذرائع تو جہاں تک کہتے ہیں کہ حکومتی نمائندے جب امریکا گئے تو تو امریکاکے مطالبے مان کر آئے تھے۔ جب یہ قانون ٹگھی سے ختم کیا گیا تھا تو محکمہ اطلاعات نے کچھ بیرونی سفارت خانوں کو اس کی کاپی بھی فیکس کی تھی۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پہلے کہیں نواز شریف نے ایک محفل میں کہا تھا کہ اگر یہ قانون ختم کر دیا جائے تو پاکستان کے سارے قرضے معاف ہو سکتے ہیں۔ اسی محفل میں نواز لیگ کے سینئر ممبر نے کہا ، قرضے کیامعاف ہونگے ہم بھی ختم ہو جائیں گے۔پنجاب اسمبلی کے ممبر جناب غیاث الدین کی ویڈیو سوشل میں چل رہی ہے کہ پنجاب کے ضلع ناروال کے ۶۰ پرائمری اسکول ایک این جی اوز کے ذریعے قادیانیوں کو دے دیے گئے ہیں۔ غیاث الدین صاحب کہتے ہیں یہ معاملہ میں نے پنجاب کے وزیر تعلیم کے سانے اُٹھایا تو انہوں وعدے کے باوجود کچھ نہیں کیا تو میں نے اس معاملے کو پنجاب اسمبلی میں بھی اُٹھایا۔صاحبو! کچھ بھی ہو نواز شریف تحریک لبیک اور وزیر داخلہ کے درمیان فوج کی مدد سے معاہدے پر ناخوش ہیں۔ پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں اپنی پارٹی میٹینگ میں وزیر داخلہ سے باز پرس بھی کی ہے۔اس سے نواز شریف کی طرف سے کی گئی سازش سامنے آ گئی ہے۔ نواز شریف صاحب عدلیہ اور فوج کو عوام کی طاقت کی سے ۲۰۱۸ء کے الیکشن میں دوبارہ کامیا ب ہونے کی نوید سناتے رہے ہیں۔ اب عوام ان کے مخالف ہو گئے ہیں۔ اب بھی وقت ہے۔ ملک کے اداروں سے ٹکرانے کی بجائے اپنی جان چھوڑانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کریں۔ میں نہیں تو ملک نہیں کی ملک دشمن اور غلط سوچ سے رجوع کریں۔ کیا اس سے قبل پیپلز پارٹی کے دو وزیر اعظموں کو عدالت نے نااہل قرار دے کر گھر نہیں بھیج دیا تھا؟جو کرپشن کرے گا قانون ضرور اس کی گرفت کرے گا یہی مہذب دنیا کی جمہوری حکومتوں میں چلن ہے۔ آپ کچھ آسمانی مخلوق تو نہیں ہیں۔عوام تو کہتی ہے باقی ۴۳۶ ؍آف شور کمپنیوں والوں کوبھی قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ ان ۴۳۶؍ آف شور کمپنیوں والوں کے خلاف جماعت اسلامی کے سینیٹر اور امیرکی طرف سے دائر درخواست کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چل رہاہے۔ پہلی پیشی پر ہی سپریم کورٹ نے حکومت اور نیپ کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ سپریم کورٹ ضرور کرپٹ لوگوں سے پیسہ واپس لے کر عوام کے خزانے میں شامل کروائے گی۔ اس سے پاکستان کے قرضے ختم ہو جائیں گے نہ کہ عیسائیوں کی خود کاشتہ پودے قادیانیوں کے خلاف قانون تبدیل کر کے قرضے معاف ہونگے۔ مسلمان حکمرانوں کو اپنا قبلہ مغرب سے تبدیل کر کے مکہ اور مدینہ کی طرف موڑ دینا چاہیے اس میں ان کے بہتری ہے۔ حکومت منظور شدہ شک ۷بی۔ ۷ سی کا گزٹ کو فوراً جاری کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *