سیاسی صورتحال

تجزیہ: سردار عبدالرحمن ڈوگر 


جیسے جیسے 2018 ؁ء کے انتخابات قریب آرہے ہیں کمالیہ اور گردونواح کے حلقوں میں سیاسی صورتحال روز بروز تبدیل ہو رہی ہے۔ آئندہ انتخابات کے پیش نظر سیاسی افق پر بکھرے رنگ سیاسی گٹھ جوڑاور جوڑ توڑنظر آنا شروع ہو گئے ہیں ۔ایسی صورتحال میں ہر شخص آئندہ انتخابات کے حوالہ سے اپنی رائے کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہے ۔ آئندہ الیکشن کی ایسی صورتحال کے بارے میں راقم الحروف کی بھی ایک ناقص سوچ اور رائے ہے ۔ اس رائے سے میرامقصدر کسی کو ناراض یا کسی کی خوشنودی حاصل کرنا ہرگز نہیں ہے۔ اورضروری نہیں کہ میری یہ رائے درست بھی ثابت ہو ۔

پیر محل حلقہ PP-89ہمیشہ کمالیہ اور NA-94کی سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہوتا رہا ہے اور وہاں پر کامیاب سیاسی گٹھ جوڑ کسی بھی امیدوار کی اجتماعی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اس کی مثال میں اکثر 2008 ؁ء کے الیکشن کی دیا کرتا ہوں کہ جب پیر علی بابا کے حمایت یافتہ امیدوار مخدوم اسدعباس شاہ حیدرکھرل کی گاڑی سے اتر کر ریاض فتیانہ کے ساتھ سوار ہوگئے تھے اوراس وقت کی معروف اور مقبول پاررٹی(پیپلز پارٹی )کے نامزد امیدوار ہونے کے باوجود حید رکھرل نا کام ہو گئے ۔2013کے انتخابات میں وہی علی بابا جب خود ایم این اے کی نششت پر الیکشن لڑے تو ریاض فتیانہ کی ناکامی کا باعث بنے ۔

گزشتہ سال پیر محل حلقہ PP-89اور NA-94کی سیاسی صورحال اسوقت تبدیل ہو گئی تھی اور میاں اسد الرحمان مضبوط نظر آنا شروع ہو گئے تھے جب مخدوم علی رضا کی وفات کے بعد خالی ہونے والی نششت پر ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے سابق امیدوار قومی اسمبلی پیر علی بابا پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر مسلم لیگ ن اور میاں اسد الرحمن کے ساتھ مل گئے ایسی صورتحال میں اگرچہ سونیا علی رضا نے ریاض فتیانہ کی مدد سے اپنی خاندانی سیاست کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا ۔الیکشن ہارنے کے باوجود لوگ آئندہ الیکشن میں سونیا علی رضا اور ریاض فتیانہ کی شکل میں ایک مضبوط سیاسی اتحاد دیکھ رہے تھے ۔پھر اچانک NA-120کے ضمنی انتخاب کے دوران سونیا علی رضانے عمران خان سے ملاقات کی تو پیر محل اور کمالیہ کی سیاست کا منظر نامہ تبدیل ہو گیا ۔سونیا علی رضا کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے ریاض فتیانہ کا سیاسی گراف یکدم گر گیا ۔ایسی صورتحال میں میرے سمیت کوئی بھی شخص ریاض فتیانہ اور عوام لیگ کے ورکروں کی اس بات پر یقین کرنے کوتیار نہیں تھا کہ سونیا علی رضا، ریاض فتیانہ صاحب کی مرضی سے PTIمیں شامل ہو ئی ہیں ،مگر گذشتہ روز سونیا علی رضا اور ریاض فتیانہ کے درمیان سیاسی گٹھ جو ڑنے نہ صرف ریاض فتیانہ کے اس مؤقف کی تائید کردی کہ ریاض فتیانہ کی مرضی سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئی تھیں بلکہ کمالیہ ،پیر محل کا ایک دفعہ پھر سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو گیا ہے جب سونیا علی رضا ریاض فتیانہ کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئی تھی تو ایسی صورتحال میںعوام لیگ کے ورکر اورعام لوگ نازیہ راحیل اور ریاض فتیانہ کے درمیان اتحاد کو ضروری قرار دے رہے تھے اور اب شاید یہ نوبت نہ آئے کیونکہ سونیا علی رضا کے ریاض فتیانہ سے انتخابی اتحاد سے بلاشبہ ریاض فتیانہ کی سیاسی ساکھ اور سورنگ میں اضافہ ہوا ہے اور اسے اب نازیہ راحیل کیساتھ اتحاد کرنے کی ضرورت ناقی نہ رہی ہے ۔

سونیا علی رضا کا ریاض فتیانہ کیساتھ گٹھ جوڑ جہاں ریاض فتیانہ کی سیاسی ساکھ اور سورنگ میں اضافہ کا باعث بنا ہے وہاں یہ بات بھی کلیئر ہو گئی ہے کہ PTIمیں ان دونوں کی دال نہیں گلی اوروہ اپنی سیاسی چال میں کامیاب نہیں ہوئے۔اس لیے وہ آپس میں دوبارہ اتحادکرنے پر مجبور ہوئے ۔ایسی صورتحال میںNA-94میں حیدر کھرل PTIکے امیدوار کلیئر ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں،تاہم حیدر کھرل کیلئے سب سے بڑا مسئلہ PP-88اورPP-89میں صوبائی کے امیدواروں کا انتخاب ہو گا ۔یہ بات انکے مستقبل کا فیصلہ کرے گی کہ وہ اپنے ساتھ کون کون سے صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کا انتخاب کرتے ہیں۔2008ء کے الیکشن میں بھی یہی بات ان کی ناکامی کا باعث بنی تھی کہ پیرمحل میں انکے ساتھ مضبو ط ونگ نہیں تھا ۔علاوہ ازیں 2008کا الیکشن ہارنے کے بعد وہ حلقے سے غائب رہے جس سے حلقے کی عوام ان سے نالا ں نظر آتی ہے ۔مگر پی ٹی آئی کا ٹکٹ انکی یہ کمی پوری کر سکتا ہے ۔

دوسری جانب حلقہPP-88میں پیر محل کی نسبت حالات اوردو طرفہ پینل صاف دکھائی دے رہے ۔جیسے جیسے الیکشن قریب آرہا ہے MNAاور ایم پی اے گروپ کے درمیان اختلافا ت کی شدت میں کمی ہو تی ہوئی نظر آرہی ہے۔ جیسے دونوں گروپ ایک دوسرے کا وزن اور حیثیت جان گئے ہو ں کہ وہ ایک دوسرے کہ بغیر الیکشن نہیں لڑ سکتے اور بظاہر اب وہ اوپر سے بلدیاتی الیکشنوں کی طرح بلاوے کا انتظار کر رہے ہیں۔اوپر سے بلاوا آنے کی صورت میں باہمی اختلافات اور سیاسی حرارت سے پگھلنے والے سرگرم جوش ورکروں کی کیا حیثیت ہو گی؟ یہ وقت ہی بتائے گا؟ تاہم کبھی کبھی میرے کانوں میں یہ بات بھی گردش کرتی ہوئی سنائی دیتی ہے کہ مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہ ملنے یا MNAگروپ سے اختلافا ت ختم نہ ہونے کی صورت میں نازیہ راحیل PTIکے ٹکٹ پر حیدر کھرل کے ساتھ ملکر الیکشن لڑ سکتی ہیں ۔بہرحال PTIکا ٹکٹ ملے یا نہ ملے ماضی میں حیدر کھرل کے ساتھ انکا خوب Combinitionرہا ہے ۔اور اس بات کو لے کر اب تک میاں اسد الرحمن کو رید رہے ہیں ۔کہ 2008کے الیکشن میں گجر گروپ اور نازیہ راحیل کے ورکروں نے مجھے ووٹ نہیں دیئے تھے ۔تاہم NA-94اورPP-89میں میاں اسد الرحمن اب تک سب سے مضبوط امیدوار نظر آرہے ہیں اس کی وجہ انکا انداز سیاست ہے جو پہلے کی نسبت کافی تبدیل ہو چکا ہے انکے دور میں ہونے والے ترقیاتی کاموں نے بلاشبہ انکی سیاسی ساکھ کو مضبوط کیاہے اور انکے نامناسب رویے کے باوجود کمالیہ ،پیرمحل اور سندھیلیانوالی کے سیاسی گروپ اور دھڑے اُن کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں ۔اس کی بنیادی وجہ انکو ملنے والی سیاسی گرانٹ اور پیر علی بابا ہیں جو انکے ساتھ موجود ہیں اور نظریہ آرہاہے کہ علی بابا انکے ساتھ رہیں گے ۔مگر اگر کہیں پیر علی بابا نے MNAکا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا تو میاں اسدالرحمن کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں مگر اس بات کے دور دور تک کوئی امکانات نظر نہیںآرہے۔

حلقہ PP-58میں احسن ریاض فتیانہ کی مقبولیت میں بہت حد تک کمی نظر آئی ہے چونکہ وہ ماموں کانجن کے حلقہ میں نووارد تھے ۔اس لیے ماموں کانجن کے لوگ اُن کو اور وہ ماموں کانجن کے لوگوں کی نفسیات کو سمجھنے میں ناکام رہے ۔ایسے میں اپوزیشن میں ہونے کی وجہ سے وہ ترقیاتی کام نہ کروا سکے ایسے میں ماموں کانجن کی عوام اُن سے اور بھی بیزار نظر آئے ۔مگر تیز اور شاطر سیاستدان ہونے کی وجہ سے ریاض فتیانہ نے اس کا بھی حل نکال لیا ہے ۔وہ MPAکا الیکشن لڑنے کی بجائے وہاں آشفہ ریاض یا خود حلقہ NA-78میں الیکشن لڑنے کا سو چ رہے۔ ایسی صورتحال میں وہ ماموں کانجن کے کسی بھی سابق یا نئے ایم پی اے کے امیدوار سے اتحاد کریں گے تو وہ ماموں کانجن تاندلیانوالہ سے ملحقہ علاقے میں بریک تھرو دے سکتے ہیں۔
بہرحال سیاست کو لوگ شطرنج کا کھیل سمجھتے ہیں کوئی کس موقع پر کیا چال چلے اور اس کا کیا نتیجہ نکلے یہ وقت ہی بتا سکتا ہے اور ابھی انتخابات میں کافی وقت ہے اور اس وقت تک بہت سی چالیں سامنے آئیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *