سیاست اورسخاوت 

نوے کی دہائی کے آغاز میں قومی سیاست آج کی نسبت بہت مختلف،متشدد،متعصب اورسیاسی تنازعات سے لتھڑی ہوئی تھی۔پاکستان میں سیاسی انتہاپسندی کا بانی بھی میاں نوازشریف کو قراردیاجاتاہے ،یہ اپنے مدمقابل کوخواہ وہ خاتون کیوں نہ ہواس کی کردارکشی میں ہرحدسے تجاوزکرجاتے ہیں۔نوے کی دہائی میں مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی میثاق جمہوریت پرکاربند تھیں اورنہ پاکستان تحریک انصاف کادوردورتک کوئی نام ونشان تھا۔بینظیر بھٹو وزیراعظم تھیں جبکہ میاں نوازشریف اپوزیشن اورسیاسی طورپربہترپوزیشن میں تھے۔میاں نوازشریف کی قیادت میں بینظیر بھٹوکواقتدارسے ہٹانے کیلئے تحریک نجات کے نام سے پرتشدد احتجاجی تحریک زوروں پرتھی ،میاں نوازشریف کی طرف سے آئے روزشٹر ڈاؤن ،پہیہ جام ہٹرتال اوراحتجاجی مظاہروں کی کال دی جاتی تھی جبکہ کاروبارزندگی معطل کرنے کیلئے مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ اورمسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوانوں کو ہتھیار کے طورپراستعمال کیاجاتا تھا۔کچھ ٹریڈرز میاں نوازشریف کے حامی اورباقی مصلحت پسند تھے،زیادہ ترکاروباری لوگ ہرحکمران کے ساتھ ہوجاتے ہیں جبکہ مہنگائی کابوجھ عام آدمی کوبرداشت کرناپڑتا ہے۔تحریک نجات کی آڑ میں بینظیر حکومت کوناکام اوربدنام کرنے کیلئے کاروبارزندگی جام کیاجبکہ سرکاری پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا تھا۔کانچ کے گھرمیں بیٹھنے والے کوبلیک میل یامرعوب کرناانتہائی آسان ہوتا ہے،کانچ بچاتے بچاتے کچھ افرادکی عزت پرآنچ آجاتی ہے۔جولوگ ایک باردباؤمیں آجاتے ہیں انہیں باربار بلیک میل کیاجاتا ہے ۔جہاں ڈرہوتا ہے وہاں زرکی بھی نہیں چلتی،نوازشریف نے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل اور بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کیلئے ڈراورزرکاخوب سہارالیا۔اگرآج دھرنے معیشت کیلئے زہرقاتل ہیں تونوے کی دہائی میں شٹرڈاؤن اورپہیہ جام کی سیاست سے معیشت کوجوناقابل تلافی نقصان پہنچااس کامداواکون کرے گا ۔ذوالفقارعلی بھٹو کی شہادت پر جس پرویز رشید نے ”پیپلزایکشن کمیٹی ”کے تحت پیپلزپارٹی کے جیالوں کوخودکشیوں اورخودسوزیوں پراکسایاآج وہ مسلم لیگ (ن) کی پناہ میں ہے،آج تک پرویز رشید سے بازپرس کی گئی اورنہ اس نے اپنے کسی متنازعہ فعل پرقوم سے معذرت کرناضروری سمجھا۔جوپرویز رشید کئی برسوں تک پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو شہید کاشیدائی رہاوہ بعدازاں اپنے قائد کی سیاسی وارث اور صاحبزادی بینظیر بھٹو کے میڈیا ٹرائل میں پیش پیش تھا،تحریک نجات کے دوران مسلم لیگ (ن) کے میڈیا سیل سے بینظیر بھٹو شہیدپرجو سیاسی اورذاتی حملے ہوتے رہے ان کاماسٹرمائنڈ پرویزرشیدتھا۔ پرویزرشید اگربھٹوخاندان کا وفادارنہیں رہا توشریف خاندان سے مخلص کس طرح ہوسکتاہے ۔ بینظیر بھٹو کیخلاف تحریک نجات کے دوران گاڑیوں اورکاروباری مراکزکی بندش کیلئے ڈنڈوں اورپتھروں سے توڑپھوڑکی جاتی تھی، پرویز رشیدکوبھی غالباً ایک سرکاری بس نذرآتش کرنے کے الزام میں گرفتارکیاگیاتھا ۔تحریک نجات میں چندایک کے سوا جو کارکنان ”استعمال ہوئے اقتدارمیں آنے کے بعد ان کا بدترین”استحصال” کیا گیا ۔پرویز ی آمریت کے سیاہ دورمیں بھی نوشادحمید سمیت جوکارکنان شریف خاندان سے اظہاریکجہتی کرتے رہے مسلم لیگ (ن) کے دوراقتدارمیں انہیں دیوارسے لگاناتودرگنار دیوارمیں چن دیاگیا۔
بینظیر بھٹو کیخلاف مسلم لیگ (ن)کی تحریک نجات کے دوران لاہور کی معروف سیاسی،سماجی اورکاروباری شخصیت حاجی امین بٹ مرحوم کے سربلند فرزند قیصرامین بٹ سے تعارف ہوا،وہ اس وقت بھی شہرلاہورکی انتہائی معتبر، متحرک ،مخلص ،ملنسار سیاسی وسماجی شخصیت تھے اورآج بھی مینارپاکستان کے سائے میں ان کاسیاسی ڈیرہ آباد اوران کے زیرسایہ سیاسی کارکنان کاطبقہ شاد ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ لاہور کے صدر کی حیثیت سے تحریک نجات سمیت قومی پرچم مارچ کی کامیابی میں انتہائی سرگرم اورنمایاں کردارادا کیا۔حاجی قیصرامین بٹ نے اپنے کئی ساتھیوں کوزمین سے اٹھاکرآسمان پر پہنچادیامگرخودزمین نہیں چھوڑی ،وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفرمان دہراتے ہوئے فرماتے ہیں ،”جوانسان زمین پربیٹھتا ہے اسے گرنے کاڈر نہیں رہتا” ۔قیصرامین بٹ نے اقتداربھی دیکھا جبکہ ان کے پاس پیسہ اوراثرورسوخ بھی ہے مگر ان کی گردن میں کبھی سریا نہیں آیا۔مالی آسودگی کے باوجودان کی طبیعت میں سادگی ہے۔حاجی قیصرامین بٹ کی شخصیت درویشی اوردانشوری کاخوبصورت امتزاج ہے،وہ ایک قومی اخبار کیلئے کالم نگاری کی مددسے مختلف قومی ایشوزپرقوم کی رہنمائی بھی کرتے ہیں ۔میرے نزدیک حاجی قیصرامین بٹ وہ پارس ہیں جواپنے پیاروں اوردوستوں کوچھوکرانہیں سونابنادیتے ہیں۔اپنی کامیابیوں میں اپنے دوست احباب کوشامل اورانہیں معاشی طورپرخوشحال کرناحاجی قیصرامین بٹ کاوہ کریڈٹ ہے جوان سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔ ورلڈکالمسٹ کلب پنجاب کے صوبائی سینئر نائب صدر،کالمسٹ ،بااعتماد دوست اورمخلص بھائی مرزارضوان کے بیحد اصرارپرمجھے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اوراندرون شہر سے سابق ممبر پناب اسمبلی حاجیقیصرامین بٹ کی میزبانی میں کرسمس کی پروقارتقریب میں شریک ہونے کااتفاق ہوا۔تقریب میں شریک ہونے کیلئے راوی پارک پہنچاتووہاں منفرد اسلوب کے معروف شاعر ،کامیاب ڈرامہ نگاراورسینئر کالم نگار منصورآفاق ،کالم نگار محمد لقمان شریف ،مستحسن رضا ، سیاسی وسماجی شخصیت استادذوالفقار،مسلم لیگ (ن)یوتھ ونگ اورتحریک نجات کے سرگرم رہنما سیّد حسنین حیدرشاہ، مسلم لیگ (ن) کی سرگرم رہنما ملکہ ریاست ،روزنامہ الشرق لاہور کے چیف رپورٹر مہران اجمل خان اورمسیحی عمائدین سے بھی ملاقات ہوگئی۔حاجی قیصرامین بٹ نے مستحق مسیحی افراد کوکرسمس کی مناسبت سے نقدرقوم دیں۔تقریب سعید کاآغاز تلاوت قرآن مجید فرقان حمید اورسرورکونین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ نعت پیش کرکے کیاگیا۔مستحسن رضا اپنے مخصوص اورمیٹھے لہجے کے ساتھ مقررین کومدعوکررہے ہیں جبکہ برادرم مرزارضوان نے قومی نغمہ”اے وطن پاک وطن اے میرے پیارے وطن” پیش کیا،جس پرانہیں خوب دادملی۔ تقریب سعیدمیں جہاں کرسمس کی نسبت سے جہازی سائز کاکیک کاٹاگیاوہاں سانحہ کوئٹہ میں جانبحق ہونیوالے مسیحی افراد کے سوگ میں دو منٹ کی خاموشی اختیاراورمادروطن میں امن وآشتی اورسیاسی استحکام کیلئے خصوصی طورپر اجتماعی دعابھی کی گئی ۔حاجی قیصرامین بٹ،منصورآفاق اورراقم سمیت مختلف مسیحی مقررین نے کوئٹہ میں مسیحی عبادت گاہ پر دہشت گردوں کے حملے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے اسے قومی یکجہتی کیخلاف گھناؤنی سازش قرارجبکہ مسلمانوں اورمسیحیوں سمیت دوسری اقلیتوں کے درمیان اتحادویگانگت اورمذہبی ہم آہنگی پرزوردیا ۔حاجی قیصرامین بٹ اورمنصورآفاق سمیت مسیحی مقررین کاکہنا تھاکہ بم دھماکے یاخودکش حملے سے کون بے موت ماراجاتا ہے، ہمارے دشمن کواس بات سے کوئی سروکارنہیں کیونکہ وہ پاکستان اورپاکستانیوں کابدترین دشمن ہے۔وہ شدت پسنددشمن پاکستانیوں میں کسی قسم کی تفریق نہیں کرتا،اس کے نزدیک مسلمان اورمسیحی اس کاہدف ہیں اورانہیں جان سے مارنااس کامشن ہے ۔پاکستان میں مساجد ،مدارس،حضرت علی ہجویری ؒ کے مزار المعروف داتادربار اورحضرت سخی لعل شہبازقلندرؒ کے مزار سمیت اولیا اللہ کے مقدس مزارات ،امام بارگاہوں،تعلیمی درسگاہوں،اقلیتی عباد ت گاہوں ،سکیورٹی فورسز کے مراکز اوران کی گاڑیوں سمیت عوامی مقامات پربھی خودکش حملے کئے گئے ،دشمن کی اس مذموم روش سے صاف ظاہرہوتاہے کہ وہ پاکستان میں نفاق اورنفرت کابیج بونے کے درپے ہے مگرہمارا دشمن اب تک اپنے مذموم مقاصد میں یکسرناکام رہا ہے اوران شاء اللہ آئندہ بھی وہ نامرادرہے گا۔
حاجی قیصرامین بٹ مخلوق خداکی خدمت کیلئے اپنے شفیق ومہربان والد حاجی امین بٹ مرحوم کے نقش قدم پرگامزن ہیں۔حاجی قیصر امین بٹ کی طرف سے محسن پاکستان اورمعروف ومحبوب ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے نام پرلاہورمیں جدیدطرز اورجدیدطبی سہولیات سے آراستہ شاندارہسپتال کی تعمیر کاتحفہ قابل دیداورقابل دادہے ۔حاجی قیصرامین بٹ نے سیاست اورسخاوت کافرق مٹادیا ہے ۔میں سمجھتاہوں سخاوت کرناعبادت اورسیاست کرنے سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ کروڑوں برسوں سے لوگ ایک دوسرے کاحق غصب کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کے احکامات کیخلاف بغاوت اوربیگناہ انسانوں کاقتل تک کرجاتے ہیں لیکن خالق کے دیے ہوئے مال کوخلق خدا کی آسودگی اورآسانی کیلئے صرف کرکے نیک اعمال سمیٹناہربندے کے بس کی بات نہیں۔قبورمیں مال ساتھ نہیں جاتامگرانسانوں کے نیک اوربداعمال ضرور جاتے ہیں۔جنت الفردوس کاراستہ مال نہیں اعمال سے ہوکرجاتا ہے۔سخاوت کی سعادت ہرکسی کے نصیب میں نہیں ہوتی ،حاجی قیصر امین بٹ واقعی خوش نصیب ہیں ورنہ سیاست میں لوگ سخاوت نہیں بلکہ شہرت اوردولت کمانے کیلئے آتے ہیں جبکہ حاجی قیصر امین بٹ کوتواپنامال لٹانے میں لطف آتا ہے ۔ہردلعزیز حاجی امین بٹ مرحوم نے اپنی انتھک سیاسی وسماجی خدمات سے اہلیان لاہور کے قلوب پرانمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔قیصرامین بٹ کو ہردلعزیزشخصیت ، سیاست اورسخاوت اپنے شفیق ومہربان والدحاجی امین بٹ مرحوم سے ورثہ میں ملی۔ اپنے والد امین بٹ مرحوم کے سماجی کام کاعلم تھام کران کے نام اورمقام کو زندہ وتابندہ رکھنا حاجی قیصرامین بٹ کی خوبی ہے ۔حاجی امین بٹ نے اہلیان لاہور کی خدمت کیلئے جوڈیرا بنایا تھاوہ آج بھی آباد ہے ،اب بھی مستحقین اورضرورتمندوں کووہاں سے خالی ہاتھ واپس نہیں جانے دیا جاتا۔یقیناًحاجی امین بٹ مرحوم اورحاجی قیصر امین بٹ کی سخاوت ان کی اگلی نسل میں بھی منتقل ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *