سنگ تراشوں کے دیس کا اِک اور چمکتا سورج غروب ہو گیا

تحریر: اقبال زرقاش


24 نومبر 2017 کی شام ساڑھے چھ بجے کے قریب راولپنڈی کی تحصیل ٹیکسلا کی ایک اور نامور سیاسی و سماجی شخصیت حاجی دلدار خان جہان فانی کو خیر آباد کہہ گئی۔ انسان دوست عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار یہ شخصیت سنگ تراشوں کے دیس ٹیکسلا میں روشنی کا اِک مینارہ تھی ۔ آپ اہل علاقہ کے لیے ایک متحرک اور فعال سیاسی و سماجی خدمت گار کے روپ میں پہچانے جاتے تھے۔ آپ اُن مخیر حضرات میں شامل تھے جو مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا مشن بنائے ہوئے تھے۔کوئی ضرورت مند آپ کے ڈیرے سے کبھی مایوس نہ لوٹا تھا۔عوامی جرگوں کے ذریعے لوگوں کے جھگڑوں کے فیصلے کروانے،لوگوں میں صلح جوئی اور بھائی چارے کا پرچار آپ کا اثاثہ تھا۔ آپ نے تھانہ کہچری کی سیاست کے بجائے عوام میں مل بیٹھ کر اپنے مسائل خود حل کرنے کو اولیت دی۔یہی وجہ تھی کہ اہل علاقہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو ثالث مقرر کرتے اور آ پ نے کئی خاندانوں کی دیرینہ دشمنیوں کو دوستیوں میں تبدیل کروایا۔ آپ اپنے علاقہ میں کسی مسیحا سے کم نہ تھے بلکہ ایک بارعب اور دھڑے دار شخصیت کے مالک تھے۔
سیاست میں آپکا گروپ جس دھڑے کے ساتھ شامل ہوتا وہ ایک مضبوط سیاسی قوت بن جاتا۔ آپ کا ڈیرہ احاطہ ، فاروقیہ روڑ ٹیکسلا پر صبح شام عوامی آمدوروفت کا سلسلہ جاری رہتاتھا۔ حاجی دلدار خان نے عملی سیاست میں ایم پی اے سے لے کر بلدیاتی الیکشن تک سب انتخابات میں عملی طور پر حصہ لیا اور اپنے گروپ کو بھی کامیاب کروایا۔ آپ طویل عرصہ سے عارضہ گردہ میں مبتلا ہونے کے باوجود تمام سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں آخری دم تک حصہ لیتے رہے۔ 25 نومبر شام 4 بجے کے قریب آپ کو اپنے آبائی علاقہ سالار گاہ داخلی عثمان کھٹڑ کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ آپ کے جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیت نے بھرپور شرکت کی۔ آپ کے جنازے میں ہر فرد اشکبار آنکھوں کے ساتھ آپ کے جنازے کو کندھا دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ ایک انسانیت سے محبت کرنے والی شخصیت کا جنازہ تھا۔ کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو پرنم نہ ہو۔ خود موت حیران تھی کہ میں نے کیسی عظیم ہستی کا شکار کیا۔ جس طرف نگاہ جاتی تھی انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا جم غفیر تھا ۔ جی ٹی روڑ دھرنے کے باعث بلاک ہونے کے باوجود لوگوں کا سمندر اس بات کی ملامت تھا کہ لوگ اک خدمت خلق کے جذبے سے سرشار شخصیت کے جنازہ میں شرکت کو اپنے لیے کسی سعادت سے کم نہ سمجھتے تھے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حاجی دلدار خان کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام سے نوازے اور مرحوم کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔
حاجی دلدار خان مرحوم انسانیت سے محبت کے مشن کوجاری و ساری رکھنا اب ان کے بھتیجوں کے ذمہ ہے کیونکہ حاجی دلدار خان کے جاں نشین اب انکے بھتیجے ہی ہیں جن میں سابق ناظم ساجد زمان خان، محمد سفیر خان، ابرار خان، حاجی عرفان خان، نواز علی خان اور شفاقت خان شامل ہیں۔ امید ہے حاجی دلدار خان مرحوم کی ڈیرہ داری کی روایات کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے گا۔ بلا شبہ ان کے اس خلا کو پُر تونہیں کیا جا سکتا تاہم اُنکے عظیم مشن کو جاری و ساری رہنا چاہیے۔ حاجی دلدار خان مرحوم اپنے مداحوں کا ایک وسیع حلقہ احباب رکھنے والی اک عظیم شخصیت تھے۔ امن ، محبت، رواداری، خلوص اور جذبہ خدمت خلق کے آپ علمبردار تھے اور اپنے علاقہ کی معصوم، مظلوم اور مستحق طبقے کی پکار بھی یہ کار ہائے نمایاں انکے کردار کی عظمت کو مزید دوبالا کرتے ہیں۔ حاجی دلدار خان جیسے لوگ ملک و ملت کا عظیم سرمایہ ہوتے ہیں جنکے کردار کی روشنی سے ظلمت کے گہرے اندھیرے بقانور میں شامل ہوجاتے ہیں۔ جن کے فکر وشعور کی مشعلوں سے پثرمردہ انسانیت نئی زندگی پاتی ہے۔ جنکی قابل ستائش زندگی صبح نو کی نوید ہوتی ہے۔
مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسون
تب  خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *